نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
👁 13
❤️ 0
قصہ دار و رسن بازي طفلانہ دل
التجائے 'ارني' سرخي افسانہء دل
يا رب اس ساغر لبريز کي مے کيا ہو گي
جاوہ ملک بقا ہے خط پيمانہ دل
ابر رحمت تھا کہ تھي عشق کي بجلي يا رب!
جل گئي مزرع ہستي تو اگا دانہء دل
حسن کا گنج گراں مايہ تجھے مل جاتا
تو نے فرہاد! نہ کھودا کبھي ويرانہ دل!
عرش کا ہے کبھي کعبے کا ہے دھوکا اس پر
کس کي منزل ہے الہي! مرا کاشانہ دل
اس کو اپنا ہے جنوں اور مجھے سودا اپنا
دل کسي اور کا ديوانہ ، ميں ديوانہء دل
تو سمجھتا نہيں اے زاہد ناداں اس کو
رشک صد سجدہ ہے اک لغزش مستانہء دل
خاک کے ڈھير کو اکسير بنا ديتي ہے
وہ اثر رکھتي ہے خاکستر پروانہ دل
عشق کے دام ميں پھنس کر يہ رہا ہوتا ہے
برق گرتي ہے تو يہ نخل ہرا ہوتا ہے
📖 خلاصہ
اقبال نے اس نظم میں دل کو عرفان، عشق اور حقیقت شناسی کا مرکز قرار دیا ہے۔
✍️ محمد اقبال — مختصر تعارف
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)
علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …
مزید پڑھیں ←
نظم کیا ہے؟
نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
محمد اقبال کی مزید
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سن...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں
ہمالہ
ایک آرزو
پرندے کی فریاد
ترانۂ ہندی
نیا شوالہ
تصویرِ درد
نانک
و...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!