باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے | مرزا غالب کی کلاسیکی غزل
"باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے" مرزا غالبؔ کی ایک گہری فکری اور کلاسیکی غزل ہے جس میں عشق، حیرت، تنہائی، تخیل اور فلسفۂ حیات کے مضامین نہایت خوبصورتی سے جلوہ گر ہیں۔ اس غزل میں غالبؔ کا مخصوص اسلوب، بلند تخیل، نادر استعارات اور فکری پیچیدگی نمایاں نظر آتی ہے۔ اردو ادب اور کلاسیکی شاعری کے طلبہ و محققین کے لیے یہ غزل غالب شناسی کا اہم نمونہ ہے۔
✍️ مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ — مختصر تعارف
مرزا غالب کی سوانح حیات
مرزا غالب اردو اور فارسی ادب کے ان عظیم ترین شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی فکر، تخیل، فلسفے اور اسلوبِ بیان سے شاعری کو ایک نئی جہت عطا کی۔ ان کا شمار ان چند ادیبوں میں ہوتا ہے جن کا کلام وقت گزرنے کے ساتھ مزید معتبر اور مقبول ہوتا گیا۔ غالبؔ نے انسانی نفسیات، عشق، کائنات، تقدیر، وجود، عقل اور جذبات جیسے پیچیدہ موضوعات کو اس انداز سے بیان کیا کہ ان کی شاعری ہر دور ک …
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔




ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!