اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में
غزل

باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے | مرزا غالب کی کلاسیکی غزل

مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ اتوار، 7 جون 2026
👁 45 ❤️ 1
باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے
سایۂ شاخ گل افعی نظر آتاا ہے مجھے
جوہر تیغ بہ سر چشمۂ دیگر معلوم
ہوں میں وہ سبزہ کہ زہراب اگاتا ہے مجھے
مدعا محو تماشائے شکست دل ہے
آئنہ خانہ میں کوئی لیے جاتا ہے مجھے
نالہ سرمایۂ یک عالم و عالم کف خاک
آسماں بیضۂ قمری نظر آتا ہے مجھے
زندگی میں تو وہ محفل سے اٹھا دیتے تھے
دیکھوں اب مر گئے پر کون اٹھاتا ہے مجھے
باغ تجھ بن گل نرگس سے ڈراتا ہے مجھے
چاہوں گر سیر چمن آنکھ دکھاتا ہے مجھے
شور تمثال ہے کس رشک چمن کا یا رب
آئنہ بیضۂ بلبل نظر آتا ہے مجھے
حیرت آئنہ انجام جنوں ہوں جیوں شمع
کس قدر داغ جگر شعلہ اٹھاتا ہے مجھے
میں ہوں اور حیرت جاوید مگر ذوق خیال
بہ فسون نگۂ ناز ستاتا ہے مجھے
حیرت فکر سخن ساز سلامت ہے اسدؔ
دل پس زانوئے آئینہ بٹھاتا ہے مجھے
📖 सार

"باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے" مرزا غالبؔ کی ایک گہری فکری اور کلاسیکی غزل ہے جس میں عشق، حیرت، تنہائی، تخیل اور فلسفۂ حیات کے مضامین نہایت خوبصورتی سے جلوہ گر ہیں۔ اس غزل میں غالبؔ کا مخصوص اسلوب، بلند تخیل، نادر استعارات اور فکری پیچیدگی نمایاں نظر آتی ہے۔ اردو ادب اور کلاسیکی شاعری کے طلبہ و محققین کے لیے یہ غزل غالب شناسی کا اہم نمونہ ہے۔

← पिछला अगला →

✍️ مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ — संक्षिप्त परिचय

مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ
📍 آگرہ، ہندوستان

مرزا غالب کی سوانح حیات
مرزا غالب اردو اور فارسی ادب کے ان عظیم ترین شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی فکر، تخیل، فلسفے اور اسلوبِ بیان سے شاعری کو ایک نئی جہت عطا کی۔ ان کا شمار ان چند ادیبوں میں ہوتا ہے جن کا کلام وقت گزرنے کے ساتھ مزید معتبر اور مقبول ہوتا گیا۔ غالبؔ نے انسانی نفسیات، عشق، کائنات، تقدیر، وجود، عقل اور جذبات جیسے پیچیدہ موضوعات کو اس انداز سے بیان کیا کہ ان کی شاعری ہر دور ک …

और पढ़ें ←
غزل क्या है?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ की और रचनाएँ
ہجوم نالہ حیرت عاجز عرض یک افغاں ہے خموشی ریشۂ صد نیستاں سے خس بہ دنداں ہے تکلف بر طرف ہے جاں ستاں ت...
گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر جانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر؟ کہتے ہیں جب رہی نہ مجھے طاق...
دل سخت نژند ہو گیا ہے گویا اُس سے گِلہ مند ہو گیا ہے گویا پَر یار کے آگے بول سکتے ہی نہیں غالبؔ منہ ...
دیوانِ غالب اردو ادب کی تاریخ کا ایک ایسا شاہکار ہے جس نے شاعری کے معیار، فکری گہرائی اور زبان و بیا...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 टिप्पणियाँ (0)
टिप्पणी करने के लिए लॉग इन करें

अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!

साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन