اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
عبدالدیان اسدؔ جمعہ، 5 جون 2026
👁 6 ❤️ 0
میں نے سمجھ کے بوجھ کے برکھا غلط نہیں
جانا غلط، غلط کو ہے سوچا غلط نہیں
رہبر غلط ہے یا تو مسافر ہے خود غلط
منزل غلط نہیں کوئی رستہ غلط نہیں
اک لفظ جس کو پڑھ کے تماشہ ہوا یہاں
تم نے پڑھا غلط ہے یہ لکھا غلط نہیں
دو چار ہم میں ایسے ہیں شہرت پسند لوگ
سستا غلط سمجھتے ہیں مہنگا غلط نہیں
عالی جناب کام مرا تھوڑا بھی ہے غلط
پورا غلط کہیں اسے آدھا غلط نہیں
میرے غلط پہ کہنے لگے چینخ کر غلط
تم نے غلط کیا ہے جو، وہ کیا غلط نہیں
یہ بھی تو ہے غلط کہ غلط بات کو اسد
تسلیم تو نے کر لیا سمجھا غلط نہیں
📖 خلاصہ

یہ نظم انسانی سوچ، غلط فہمی اور حقیقت کے فرق کو اجاگر کرتی ہے۔ شاعر بتاتا ہے کہ اکثر ہم راستے، رہبر اور حالات کو غلط سمجھ لیتے ہیں جبکہ اصل غلطی ہماری اپنی سوچ اور ادراک میں ہوتی ہے۔ یہ شاعری اصلاحی ا…

← پچھلا اگلا →
عبدالدیان اسدؔ کی مزید
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہات...
کہیں پہ صدیوں پرانی آتش غضب سے اپنے بجھا رہا ہے چراغ ٹوٹا ہوا کہیں پر ہوا کی زد میں جلا رہا ہے ...
”معراج بی“ کی یاد سے کتنی نمی ہے آج بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج احباب رشتے دار ہیں ہ...
یاس و حسرت سے ادھر آنکھ تکی جائے گی جس طرف جانِ غزل تیری گلی جائے گی دے کے آواز زمانے کو جو خام...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن