غزل
عبدالدیان اسدؔ
جمعہ، 5 جون 2026
👁 11
❤️ 0
رہوں بن کے تیرا میں لختِ جگر ماں
ہمیشہ رہے مجھ پہ تیری نظر ماں
جھکائے ہوئے ہیں ترے پا پہ سر ماں
ابوبکر، عثمان، حیدر، عمر ماں
میں آوارہ سڑکوں پہ پھرتا رہا اور
"مصلے پہ بیٹھی رہی رات بھر ماں "
ترے پاک دامن، کفالت کے صدقے
ہے شیدائے حسنین تیرا پسر ماں
لئے اپنے ہاتھوں میں زادِ سفر کو
مری منتظِر ماں، مرا منتظَر ماں
میں اک ساتھ دو قبلہ دیکھوں خدایا
مرے ساتھ طیبہ کا کر لے سفر ماں
محبت، مروت، نصیحت کا مرکز
دعاؤں کا پیکر وفا کا شجر ماں
اسد جا کے مرقد پہ رو رو کے بولا
کروں زندگی کیسے اپنی بسر ماں
📖 خلاصہ
یہ نظم شاعر عبدالدیان اسد کی جانب سے ماں کی عظمت، محبت اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ شاعر بیان کرتا ہے کہ ماں کی دعائیں، شفقت اور تربیت ہی اولاد کی اصل دولت ہیں۔ نظم میں ماں کے سجدوں، دعاؤں…
#ماں کی محبت
#ماں پر نظم
#عبدالدیان اسد
#اردو شاعری
#ماں کی دعا
#ماں کی قربانی
#ماں کی عظمت
#والدہ کا مقام
#اسلامی شاعری
#اردو ادب
#ماں کی یاد
#ماں پر اشعار
#نظم
#دعاؤں کا پیکر
#محبت و مروت
#حسنین سے محبت
#طیبہ کا سفر
#خراج عقیدت
#اردو نظم
#ادبی شاعری
#ماں کی شفقت
#ماں کی تربیت
#ماں کی وفا
#اردو ادب
عبدالدیان اسدؔ کی مزید
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں
جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں
زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہات...
کہیں پہ صدیوں پرانی آتش غضب سے اپنے بجھا رہا ہے
چراغ ٹوٹا ہوا کہیں پر ہوا کی زد میں جلا رہا ہے
...
”معراج بی“ کی یاد سے کتنی نمی ہے آج
بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج
احباب رشتے دار ہیں ہ...
یاس و حسرت سے ادھر آنکھ تکی جائے گی
جس طرف جانِ غزل تیری گلی جائے گی
دے کے آواز زمانے کو جو خام...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!