اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
متفرق
بشیر بدرؔ بدھ، 3 جون 2026
👁 337 ❤️ 2
دل کی بستی بھی عجیب بستی ہے
لوگ یہاں آ کر بھی بے گھر رہتے ہیں
یونہی بے سبب نہ پھر اَجیتا کرو
کوئی شام گھر بھی رہا کرو
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا
جو گلے ملو گے تو فاصلے سے ملو
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
یاد رکھنے کے لیے کوئی چیز چاہیے
بھول جانے کے لیے بھی کوئی چیز چاہیے
محبتوں میں دکھاوے کی دوستی نہ کرو
یہ غم پرانے ہیں ان کو پرانا رہنے دو
وہ غزل کی سچی کتاب ہے
اسے چپکے چپکے پڑھا کرو
📖 خلاصہ

بشیر بدر کے یہ مشہور اشعار محبت، تنہائی، زندگی کی حقیقت اور انسانی احساسات کی خوبصورت ترجمانی کرتے ہیں۔ سادہ مگر گہرے الفاظ میں لکھی گئی یہ اردو شاعری دل کو چھو لینے والی اور فکر انگیز ہے۔ یہ مجموعہ …

← پچھلا اگلا →

✍️ بشیر بدرؔ — مختصر تعارف

بشیر بدرؔ
📍 موضع بکیا، ضلع ایودھیا، اتر پردیش

بشیر بدر
بشیر بدر (اصل نام: سید محمد بشیر) اردو زبان و ادب کے اُن ممتاز اور عالمی شہرت یافتہ جدید غزل گو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اردو غزل کو سادگی، روانی اور فکری گہرائی کے ساتھ ایک نیا اسلوب عطا کیا۔ آپ جدید اردو غزل کے نمائندہ اور عوامی سطح پر سب سے زیادہ مقبول شعرا میں سے ایک رہے ہیں۔

تاریخِ پیدائش و وفات
تاریخِ پیدائش: 15 فروری 1935ء
جائے پیدائش: کانپور، اتر پردیش، بھارت
آبائی و …

مزید پڑھیں ←
بشیر بدرؔ کی مزید
دل کی بستی بھی عجیب بستی ہے لوگ یہاں آ کر بھی بے گھر رہتے ہیں یونہی بے سبب نہ پھر اَجیتا کرو ...
کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا اُجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو نہ...
آنکھوں میں رہا دل میں اُتر کر نہیں دیکھا کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا کبھی کسی کو مکمل جہاں...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن