اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
ہاشم اسدؔ بدھ، 3 جون 2026
👁 14 ❤️ 0
ہر طرف ظلم و تباہی کے سمندر دیکھے
پھول سے دل کی جگہ سینوں میں پتھر دیکھے
اور پھر یوں بھی ہوا نفرتیں پروان چڑھیں
نئی نسلوں میں کئی ہم نے ستمگر دیکھے
جن کے ہاتھوں میں تھا بھارت کا مرے مستقبل
ان کے بَسْتوں سے برآمد کئی خنجر دیکھے
کہیں لاشیں کہیں عصمت کا ہوا ہے سودا
ہر نئی صبح سَنے خون میں پیپر دیکھے
غیر کا شکوہ کروں بھی تو کروں کس منہ سے
اپنی پشتوں پہ اسدؔ اپنوں کے نشتر دیکھے
📖 خلاصہ

یہ نظم سماجی بدحالی، اخلاقی زوال اور بڑھتی ہوئی بے حسی کی دردناک تصویر پیش کرتی ہے۔ شاعر اپنے اردگرد پھیلی ہوئی ظلم و زیادتی، نفرت، خونریزی اور انسانیت کے زوال پر گہرا دکھ اور اضطراب ظاہر کرتا ہے۔ وہ …

← پچھلا اگلا →

✍️ ہاشم اسدؔ — مختصر تعارف

ہاشم اسدؔ
📍 لکھیم پور،اتر پردیس،ہندوستان

محمد ہاشم ادریسی، جن کا ادبی و قلمی نام ہاشم اسدؔ لبیدپوری ہے، اردو شعر و ادب کے اُن باصلاحیت تخلیق کاروں میں شمار ہوتے ہیں جو اپنی فکری سنجیدگی، ادبی ذوق اور تخلیقی شعور کے ذریعے اردو زبان و ادب کی خدمت میں مصروف ہیں۔ آپ کی ولادت 30 جون 1992ء کو گرام لبیدپور، ضلع لکھیم پور کھیری، ریاست اترپردیش (ہندوستان) میں ہوئی۔
ابتدائی زندگی سے ہی مطالعہ، علم دوستی اور ادبی ذوق آپ کی شخصیت کا نمایاں وصف رہا۔ …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

ہاشم اسدؔ کی مزید
ترے خیال سے بہتر کوئی خیال نہیں ترے وصال سے بہتر کوئی وصال نہیں بہت حسین تھے یوسف یہ ہے بجا لیکن...
ہر طرف ظلم و تباہی کے سمندر دیکھے پھول سے دل کی جگہ سینوں میں پتھر دیکھے اور پھر یوں بھی ہوا ن...
اُس کی ہر حال میں ہم سب پہ عطا آتی ہے فعل اچھا ہو تو پھر اُس کی رضا آتی ہے اُس کی مرضی کے بنا ک...
جب بھی دیکھے گا مجھے اپنا ہوا دیکھے گا میرے محبوب! سدا مجھ میں وفا دیکھے گا ہم سفر تجھ سا میسر...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن