اُس کی ہر حال میں ہم سب پہ عطا آتی ہے
یہ نظم اللہ تعالیٰ کی قدرت، رحمت اور انسان کی غفلت کے احساسات پر مبنی ہے۔ شاعر اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ ہر نعمت اور ہر حال میں عطا صرف اللہ کی طرف سے ہے، اور انسان کی کامیابی یا ناکامی اسی کی مشیت سے وابستہ ہے۔ ساتھ ہی شاعر انسانی کمزوری، وعدہ خلافی اور ناشکری پر خود احتسابی بھی کرتا ہے۔ نظم کا اختتام اس فکر پر ہوتا ہے کہ انسان مشکل وقت میں ہی خدا کو یاد کرتا ہے جبکہ اصل عشق اور سمجھ بوجھ زندگی بھر قائم رہنی چاہیے۔
ہاشم اسدؔ لبیدپوری کی یہ نظم اللہ کی قدرت، اس کی عطا، انسانی کمزوری، ناشکری ا
✍️ ہاشم اسدؔ — مختصر تعارف
محمد ہاشم ادریسی، جن کا ادبی و قلمی نام ہاشم اسدؔ لبیدپوری ہے، اردو شعر و ادب کے اُن باصلاحیت تخلیق کاروں میں شمار ہوتے ہیں جو اپنی فکری سنجیدگی، ادبی ذوق اور تخلیقی شعور کے ذریعے اردو زبان و ادب کی خدمت میں مصروف ہیں۔ آپ کی ولادت 30 جون 1992ء کو گرام لبیدپور، ضلع لکھیم پور کھیری، ریاست اترپردیش (ہندوستان) میں ہوئی۔
ابتدائی زندگی سے ہی مطالعہ، علم دوستی اور ادبی ذوق آپ کی شخصیت کا نمایاں وصف رہا۔ …
حمد اللہ تعالیٰ کی تعریف و توصیف میں لکھی جانے والی شاعری ہے۔ اردو ادب میں حمد کا ایک معزز مقام ہے۔




ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!