اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
ڈرامہ

ڈرامہ آخری سیٹی حصہ اول

علیم طاہر
علیم طاہر جمعہ، 15 مئی 2026
👁 170 ❤️ 2

ڈراما نگار: علیم طاہر

کردار:
بابا جان (ریٹائرڈ ریلوے گارڈ، 75 سالہ)
سلمان (بابا جان کا پوتا، 20 سالہ طالب علم)
آمنہ (سلمان کی ماں، بابا جان کی بہو)
انور (محلے کا پرانا دوست، 80 سالہ)
ہانیہ (پڑوس کی بچی، 10 سالہ)
پَردہ اُٹھتا ہے۔
منظر: ایک پرانا سا گھر۔ صحن میں دھوپ اور بابا جان لکڑی کی کرسی پر ریلوے کی پرانی ٹوپی پہنے بیٹھے ہیں۔ ہاتھ میں سیٹی تھامی ہے۔ دیوار پر لٹکی ہوئی پرانی گھڑی مسلسل ٹک ٹک کر رہی ہے۔
بابا جان (خودکلامی میں)
"سیٹی بجی نہیں... اور گاڑی نکل گئی... زندگی بھی کچھ ایسی ہی ہے... مسافر رہ گئے، پلیٹ فارم خالی ہو گیا۔"
سلمان (داخل ہوتے ہوئے)
دادا جان! آپ پھر سے اُسی سیٹی کو لے کر بیٹھ گئے؟ اب وہ وقت گزر گیا۔ اب نہ وہ اسٹیشن، نہ وہ گارڈ، نہ وہ گاڑیاں۔
بابا جان (ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ)
"وقت تو پلیٹ فارم نمبر ایک سے چھوٹ گیا بیٹا... لیکن یادیں ابھی تک ویٹنگ روم میں بیٹھی ہیں۔"
آمنہ (کچن سے آواز دیتی ہے)
بابا جان! چائے تیار ہے، آج ہانیہ آئی ہے آپ سے ریلوے کے قصے سننے۔
ہانیہ (دوڑتی ہوئی آتی ہے)
بابا نانا! آپ نے ٹرین کبھی لیٹ کی تھی؟
بابا جان (ہنستے ہوئے)
"ارے نہیں بیٹی! میں وقت کا بڑا پابند گارڈ تھا۔ میرے ہاتھ کی سیٹی وقت پر بجتی تھی۔"
سلمان (طنزیہ انداز میں)
"بس سیٹی ہی بجتی تھی، زندگی تو لیٹ ہو گئی... دادا جان، آپ نے زندگی میں کچھ اور بھی سوچا تھا کبھی؟"
بابا جان (خاموشی سے سیٹی کو دیکھتے ہوئے)
"زندگی بھی ایک پلیٹ فارم ہے سلمان... ہر کوئی کسی نہ کسی گاڑی کا انتظار کر رہا ہوتا ہے... کوئی ملازمت والی گاڑی، کوئی محبت والی، کوئی منزل والی... اور کبھی کبھی صرف آخری گاڑی۔"
انور (آہستہ آتے ہوئے)
"سیٹی بجی بابا جان؟ یا اب بھی ویٹنگ لسٹ میں ہو؟"
بابا جان (مسکرا کر)
"تمہاری دوستی والی گاڑی تو روز ہی آ جاتی ہے، انور بھائی۔"
انور
"پر منزل کا اسٹیشن ابھی آیا نہیں..."
سب خاموش ہو جاتے ہیں۔
آمنہ (چائے دیتے ہوئے)
بابا جان! آج اتنے خاموش کیوں ہیں؟
بابا جان (آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے)
"آج ریلوے نے ایک خط بھیجا ہے۔ ریٹائرمنٹ کا آخری پنشن... اور ساتھ لکھا ہے: آپ کی خدمات کا شکریہ۔"
سلمان (نرمی سے)
اور ہم آپ کو شکریہ کہنا بھول گئے دادا جان۔
ہانیہ
بابا نانا، آپ کی سیٹی مجھے دے دیں؟
بابا جان (نرمی سے سیٹی دیتے ہوئے)
"پکڑ لو بیٹی! جب کبھی وقت کی گاڑی چھوٹنے لگے، یہ سیٹی بجا دینا... شاید کوئی پلٹ آئے۔"
گھڑی کی سوئیاں بارہ پر آتی ہیں، ایک ہلکی سیٹی کی آواز، اور روشنی دھیرے دھیرے مدھم ہو جاتی ہے۔

پَردہ گرتا ہے۔

✍️ علیم طاہر — مختصر تعارف

📍 مالیگاؤں

علیم طاہر _شاعر و ادیب

علیم طاہر کی مزید تحریریں
شادی، محبت اور قانون: بدلتے رشتوں کا المیہ | جدید معاشرے میں ازدواجی تعلقات کا بحران
شادی، محبت اور قانون: بدلتے رشتوں کا المیہ مضمون نگار: علیم طاہر _____________...
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
## ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب ### ایک ایسا شاعر جس کے...
لوریاں: ادبِ اطفال کا نایاب باب | بچوں کی تربیت، ماں کی ممتا اور اردو لوک ادب
## لوریاں، ادب اطفال کا نایاب باب لوری گائی جانے والی صنف سخ...
بشیر بدر, ایک عہد کا اختتام، ایک یادگار رفاقت کی داستان
## بشیر بدر: ایک عہد کا اختتام، ایک یادگار رفاقت کی داستان ____________________...
مزید متعلقہ نثر
ڈرامہ آخری سیٹی حصہ دوم
ڈراما نگار: علیم طاہر منظر: دو مہینے بعد۔ بابا جان کا کمرہ ویران سا ہے۔ در و...
اسٹیج ڈرامہ , ’’آخری سکہ‘‘ علیم طاہر
اسٹیج ڈرامہ: آخری سکہ تحریر (رائٹر) : علیم طاہر کردار: رفیق – مرکزی کردار، ع...
ڈرامہ آخری سیٹی حصہ سوم (آخری باب)
ڈراما نگار: علیم طاہر منظر: بابا جان کا پرانا کمرہ۔ آمنہ، سلمان اور ہانیہ ا...
اسٹیج ڈرامہ:" بارش کی خوشبو" علیم طاہر
تحریر: علیم طاہر اقسام: یک بابی اسٹیج ڈرامہ دورانیہ: تقریباً 45 سے 60 منٹ ک...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن