اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
ہاشم حسین انور حسین اتوار، 24 مئی 2026
👁 29 ❤️ 2
دنیائے بےثبات کے بیمار چپ رہو
جنبش نہ دو زباں کو خبردار چپ رہو
ہر بار صرف تم نے سنائی ہے داستاں
محفل میں التجا ہے کہ اس بار چپ رہو
ہر شخص کو سناتے ہو فرقت کا واقعہ
کتنا کرو گے خود کو گنہگار چپ رہو
بیٹھے ہوئے ہیں بزم میں چپ چاپ دیکھیے
اعلان کرکے طالب دیدار چپ رہو
جو اپنے حق میں آج تلک بولتے نہ تھے
ان سے کہہ گا؟ آج یہ سنسار چپ رہو
بس، عین، شین، قاف کی حرمت کے واسطے
تسلیم کر رہا ہوں نا میں ہار چپ رہو
یہ کون کہہ رہا ہے بھری بزم میں فضول
ہاشم سے بار بار لگاتار چپ رہو
📖 خلاصہ

یہ غزل خاموشی، ضبطِ زبان اور داخلی کیفیت کو نہایت گہرے علامتی انداز میں پیش کرتی ہے۔ شاعر انسان کو مخاطب کرتے ہوئے بار بار خاموش رہنے کی تلقین کرتا ہے اور اسے احساس دلاتا ہے کہ دنیا کی محفلوں میں ہر ب…

← پچھلا اگلا →
ہاشم حسین انور حسین کی مزید
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ ...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست شکوہ کروں تو کس سے کر...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ کیسے بھول جائے کربلا سکینہ ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا خوں بھرا ہوا ...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں انہیں ہی ہر مسافر ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن