ریل گاڑی
جا وہ رہا تھا
مگر
محسوس ہوا کہ
میں سفر میں تھی
جدا وہ ہورہا تھا
مجھ سے
یا
میں ہجر میں تھی ؟
میری طرف دیکھ سکا وہ
نہ ہاتھ ہلایا اس نے
نجانے کب لوٹنا تھا دوبارہ
کوئی دن نہیں بتایا اس نے
ریل کی سیٹی نے
رکھ لیا بھرم اس کا
کہ رندھے گلے سے
نکلی
خداحافظ کی صدا دب گئ
میری جاں بھی ایسے اٹکی
کہ
اب گئ
کہ
اب گئ
ریل گاڑی کے سفر نے بہت ستایا مجھ کو
اس کی سیٹی کی آواز نے رلایا مجھ کو
دھیرے دھیرے رفتار پکڑتی گئ
میری روح جسم سے نکلتی گئ
اس کے گھر پہنچنے تک
بس دعائیں کی
لیکن
بلکل
روئی نہیں تھی میں
نجانے کتنے منٹ رکے گی
اسکے سٹیشن پر
سوتارہ نہ جائے وہ رو رو کر
اس کو جگانے کی خاطر
رات بھر
سوئی نہیں تھی میں!!
یہ نظم جدائی کے ایک نہایت حساس اور کربناک لمحے کی تصویر کشی کرتی ہے۔ شاعرہ ایک ایسے منظر کو بیان کرتی ہے جہاں بظاہر کوئی اور جا رہا ہوتا ہے، مگر اصل میں وہ خود ایک اندرونی سفر اور ہجر کی کیفیت میں داخ…
✍️ ارم رحمٰن — مختصر تعارف
ارم رحمن پیشے کے لحاظ سے ایڈووکیٹ ہیں جن کا تعلق لاہور سے ہے۔ اردو زبان و ادب سے فطری مناسبت کی وجہ سے کچھ عرصہ وکالت کرنے کے بعد وہ درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہو گئیں ۔ انہوں نے اپنے مافی الضمیر کے اظہار کے لیے ابتدا میں شاعری کا انتخاب کیا ۔ ان کی نثری نظمیں کمال کی ہوتی ہیں جن میں تخلیقی وفور کے ساتھ ساتھ شعری جمالیات اور موضوعات کو نئے زاویوں سے باندھنا قاری اور ناقد دونوں کو متاثر کرتا ہے …
مزید پڑھیں ←



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!