اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
نثری نظم

ریل گاڑی

ریل گاڑی
ارم رحمٰن
ارم رحمٰن پیر، 25 مئی 2026
👁 25 ❤️ 1

جا وہ رہا تھا
مگر
محسوس ہوا کہ
میں سفر میں تھی
جدا وہ ہورہا تھا
مجھ سے
یا
میں ہجر میں تھی ؟
میری طرف دیکھ سکا وہ
نہ ہاتھ ہلایا اس نے
نجانے کب لوٹنا تھا دوبارہ
کوئی دن نہیں بتایا اس نے
ریل کی سیٹی نے
رکھ لیا بھرم اس کا
کہ رندھے گلے سے
نکلی
خداحافظ کی صدا دب گئ
میری جاں بھی ایسے اٹکی
کہ
اب گئ
کہ
اب گئ
ریل گاڑی کے سفر نے بہت ستایا مجھ کو
اس کی سیٹی کی آواز نے رلایا مجھ کو
دھیرے دھیرے رفتار پکڑتی گئ
میری روح جسم سے نکلتی گئ
اس کے گھر پہنچنے تک
بس دعائیں کی
لیکن
بلکل
روئی نہیں تھی میں
نجانے کتنے منٹ رکے گی
اسکے سٹیشن پر
سوتارہ نہ جائے وہ رو رو کر
اس کو جگانے کی خاطر
رات بھر
سوئی نہیں تھی میں!!

📖 خلاصہ

یہ نظم جدائی کے ایک نہایت حساس اور کربناک لمحے کی تصویر کشی کرتی ہے۔ شاعرہ ایک ایسے منظر کو بیان کرتی ہے جہاں بظاہر کوئی اور جا رہا ہوتا ہے، مگر اصل میں وہ خود ایک اندرونی سفر اور ہجر کی کیفیت میں داخ…

✍️ ارم رحمٰن — مختصر تعارف

ارم رحمٰن
📍 لاہور، پاکستان

ارم رحمن پیشے کے لحاظ سے ایڈووکیٹ ہیں جن کا تعلق لاہور سے ہے۔ اردو زبان و ادب سے فطری مناسبت کی وجہ سے کچھ عرصہ وکالت کرنے کے بعد وہ درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہو گئیں ۔ انہوں نے اپنے مافی الضمیر کے اظہار کے لیے ابتدا میں شاعری کا انتخاب کیا ۔ ان کی نثری نظمیں کمال کی ہوتی ہیں جن میں تخلیقی وفور کے ساتھ ساتھ شعری جمالیات اور موضوعات کو نئے زاویوں سے باندھنا قاری اور ناقد دونوں کو متاثر کرتا ہے …

مزید پڑھیں ←
ارم رحمٰن کی مزید تحریریں
روشنی
اسٹیج سج چکا تھا ۔ ہال لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ۔ آج خلاف معمول زیادہ رش ت...
قل زردہ
بڑے سے گھر کے ،بڑے سے صحن میں، جب بڑی بی کے قل کے اہتمام میں 6 دیگیں تین بریانی ...
حنوط
بارش کے بعد مٹی سے نکلتی سوندھی سوندھی خوشبو، مجھے بہت پسند تھی، سردیوں کے موسم ...
وحشت دروں
جون کی گرم چمکیلی دوپہر۔۔۔نیلگوں صاف شفاف آسمان ایک شوخ و چنچل طائر خراماں خرا...
مزید متعلقہ نثر
جنون
جنون دار پر چڑھ کر رقص کرتا ہے، جنون قتل کر کے افسوس کرتا، جنون ہی رموزِ قلب ...
رسیا
دو بین کرتی آنکھیں دو بے چین ہوتی آنکھیں اپنی غربت کا تماشہ بننے ہر ہوس ...
کوکھ
اندھیرے کی کوکھ نے جنما ہے ان گنت مہیب خیالوں کو کتنے مبہم جوابوں کو کتنے...
میں خود کشی نہیں کروں گی
میری آنکھیں نوحہ لکھیں گی میرے آنسوؤں کے قلم سے میری روح سنگ مرمر کی مانند ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن