اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
شاہد وصیؔ ہفتہ، 23 مئی 2026
👁 182 ❤️ 4
سنامی موج ہے دریا میں سر اٹھائے ہوئے
مرا خدا مری کشتی کو ہے بچائے ہوئے
نگاہِ ناز نے ایسا اثر کیا دل پر
"زمانہ ہو گیا آنکھوں کو مسکرائے ہوئے"
کسی کی یاد کا موسم ہو یا جنوں کا سفر
ہوا بھی چلتی ہے زخموں کو گدگدائے ہوئے
وہ لے کر آئینہ ابرو کی دیکھتا ہے شکن
میں انتظار کروں بوریا بچھائے ہوئے
کبھی تو لوٹ کے آئے گا دلنشیں اپنا
اسی امید پہ بیٹھے ہیں دل جلائے ہوئے
مجھے یقین ہے منزل کو اپنی پا لونگا
ہیں راستے میں ترے نقشِ پا بنائے ہوئے
وصی رگوں میں کہیں خون ہی نہ جم جائے
دکھوں کی آنچ میں خود کو رکھو تپائے ہوئے
📖 خلاصہ

یہ خوبصورت اور پراثر غزل شاہد وصی کے جذباتی گہراؤ، عشق اور امید کے حسین امتزاج کو پیش کرتی ہے۔ شاعر نے ابتدا میں ہی ایک طوفانی کیفیت (سنامی موج) کا ذکر کرکے زندگی کے خطرات اور بے یقینی کو ظاہر کیا ہے،…

← پچھلا اگلا →

✍️ شاہد وصیؔ — مختصر تعارف

شاہد وصیؔ
📍 مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش ، ہندوستان

محمد شاہد (وصیؔ) اردو زبان و ادب سے وابستہ اُن شعرا میں سے ہیں جنہوں نے اپنے جذبات، مشاہدات اور فکری تجربات کو شعری اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔ آپ 15 جولائی 1990ء کو مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش (بھارت) میں پیدا ہوئے۔
ابتدائی عمر ہی سے آپ کے اندر ادب سے گہرا شغف پیدا ہوا، جس میں ماحول، مطالعہ اور مشاعراتی فضا نے اہم کردار ادا کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ شغف باقاعدہ شعری ذوق میں تبدیل ہوا اور آپ نے شعر و س …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

شاہد وصیؔ کی مزید
سنامی موج ہے دریا میں سر اٹھائے ہوئے مرا خدا مری کشتی کو ہے بچائے ہوئے نگاہِ ناز نے...
کس سوچ میں پڑا ہے کدھر جانا چاہئے جس سمت کی ہوا ہے اُدھر جانا چاہئے عائد نہ فردِ جرم کسی بے گنہ ...
دیکھا تھا ایک بار تجھے میں نے خواب میں اب تک نہ کوئی سامنے آیا جواب میں تم سے ملے تو زیست کے نقش...
نغمہِ بربطِ نوا چپ ہے عکس بےزار آئینہ چپ ہے شوخئِ حرفِ ماجرا چپ ہے لفظ خاموش مدعا چپ ہے ر...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن