طفیلِ طفل ہی اسرار رونما ہوئے ہیں
پلے گراؤنڈ میں ایک ضعیف شخص بیٹھا مٹی سے کھیلتے ہوئے کنکر گھاس پھوس سے کچھ بنا رہا تھا
کبھی اپنے آپ سے باتیں کرتا تو کبھی آسمان کی طرف دیکھتا
جیسے اسے بارش کا انتظار ہو کبھی کبھی کچھ ایسی حرکت کرتا جسے دیکھ کر معلوم ہوتا کہ کوئی مجنون ہے
کبھی مٹی کو مٹھی میں بھر کر ہوا میں اڑاتا
کبھی اچھلتا کودتا ایک عجیب سی کیفیت لئے اپنے چہرے پر ہر آنے جانے والوں کو دیکھتا
اپنی آستین سے چہرے کو صاف کرتا
میں وہیں کچھ دور کھڑے یہ سب دیکھ رہا تھا مجھ سے رہا نہیں گیا میں آگے بڑھا اس ضعیف شخص کے پاس جاکر ان سے کہا کیا بات ہے حضرت عمر پچپن کی حرکت بچپن کی اتنا سنتے ہی وہ مڑ کر مجھے دیکھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے
اور ایک سمت چلنے لگے میں حیران انہیں دیکھتا رہا کچھ دور چلنے کے بعد وہ رکے میری جانب پلٹ کر دیکھا اور بس اتنا کہا "طفیلِ طفل ہی یہ اسرار رونما ہوئے ہیں"
✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف
اپنی بات
محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و …



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!