نئے لہجے کی دستک
2 دسمبر 2022 جمعہ کا دن تھا ہر طرف خاموشی تھی ہر کوئی اپنے ہی خیالوں میں گم تھا کسی کو بھی کسی فکر نہیں تھی سب ایک ساتھ ہو کر بھی تنہا تھے ایسا لگ رہا تھا ہر کوئی اکیلا ہے پاس کھڑے بیٹھے لوگ نظر نہیں آرہے تھے محسوس ہورہا تھا کہ شاید لگاؤ ہمدردی پیار اپنائیت انسیت الفت محبت عشق نامی کوئی شئے ہی نہیں ہے جو لوگ گھنٹوں مجھ سے گفتگو کرتے تھے وہ بھی آج مجسمہ بنے ہوئے تھے جو مجھے ستانے والے تھے وہ خود آج بہت پریشان تھے جیسے سبھی موضوع ختم ہو چکے ہیں اب کسی کے پاس کچھ بچا نہیں ہے ویرانیوں نے سب کے دلوں میں اپنا مسکن بنا لیا ہے اب کوئی کسی کو جانتا بھی نہیں میں پریشان ہوں ان دنوں کو یاد کرکے جب ہم سب ایک رہتے تھے ساتھ کھاتے ساتھ ہنستے بولتے ساتھ گھومتے پھرتے تھے اب اک دوجے سے انجان ہیں میں پشیمان ہوں حیران ہوں ایسا ہوا کیا ہے پہلے جیسا کچھ بھی نہیں مرے لب لرز رہے تھے مرا جسم کانپ رہا تھا آنکھیں نم تھیں جیسے تیسے دن ڈھلا سورج نے بھی منہ موڑ لیا ہر طرف تیرگی نے پیر پھیلا دئے ماحول اور زیادہ اجڑا ہوا لگ رہا تھا اب میں کر بھی کیا سکتا تھا میرے بس میں کیا تھا میں نے پروردگارِ عالم کی طرف اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ اٹھائے سارا حال بیان کیا آنسو بھی بہہ رہے تھے کہ اچانک میرے دروازے پر دستک ہوئی میں نے دروازہ کھولا دیکھا سامنے سے آواز آرہی تھی ایسی آواز جو میں نے شاید سنی تھی اس آواز سے لگ رہا تھا لگاؤ ہمدردی پیار اپنائیت انسیت الفت محبت عشق زندہ ہیں میں کافی گہرائی میں سوچنے لگا مجھے کچھ یاد نہیں آیا کہ یہ کس کی آواز ہے مگر یہ تھا کہ سب بدل چکا تھا سب پہلے جیسا ہوچکا تھا میں خوش تھا سب خوش تھے میری دعا قبول ہوئی مگر یہ نہیں جانتا تھا کہ کس کی آواز ہے اور بھی لوگ اس صدا سے انجان تھے ایک دوجے سے سوال کر رہے تھے کہ اچانک سب کی زباں سے ایک جملہ بے ساختہ نکلا "نئے لہجے کی دستک" "نئے لہجے کی دستک" "نئے لہجے کی دستک"
✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف
اپنی بات
محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و …



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!