اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
عبدالدیان اسدؔ پیر، 18 مئی 2026
👁 9 ❤️ 1
جیسے خنجر کبھی تلوار نہیں ہو سکتا
ویسے تو صاحبِ کردار نہیں ہو سکتا
بالیقیں سچ سے وجودی ہے تعلق اس کا
آئینہ ٹوٹ کے بیکار نہیں ہو سکتا
زخم ہاتھوں سے کریدا نہیں کرتے اپنا
عشق جب باعثِ آزار نہیں ہو سکتا
جس نے پائی ہے فقط وصل کی لذت یارو
برسرِ ہجر وفادار نہیں ہو سکتا
اپنے ماں باپ کا دل جس نے دکھایا ہو گا
وہ کبھی لائقِ دستار نہیں ہو سکتا
میرا گلشن تو گلابوں سے بھرا ہے لیکن
کیسے کہہ دوں کہ وہاں خار نہیں ہو سکتا
میں نے سینچا ہے اسد خونِ جگر سے اپنے
کون کہتا ہے کہ گلزار نہیں ہو سکتا
📖 خلاصہ

یہ فکری، اخلاقی اور جذبۂ وفا سے بھرپور غزل عبدالدیان اسد کی پختہ شعری بصیرت اور سنجیدہ فکر کا عمدہ اظہار ہے۔ شاعر نے کردار، سچائی، عشق، وفاداری اور والدین کے احترام جیسے اہم موضوعات کو نہایت خوبصورت ا…

← پچھلا اگلا →
عبدالدیان اسدؔ کی مزید
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہات...
کہیں پہ صدیوں پرانی آتش غضب سے اپنے بجھا رہا ہے چراغ ٹوٹا ہوا کہیں پر ہوا کی زد میں جلا رہا ہے ...
”معراج بی“ کی یاد سے کتنی نمی ہے آج بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج احباب رشتے دار ہیں ہ...
یاس و حسرت سے ادھر آنکھ تکی جائے گی جس طرف جانِ غزل تیری گلی جائے گی دے کے آواز زمانے کو جو خام...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن