غزل
عبدالدیان اسد
پیر، 18 مئی 2026
👁 9
❤️ 0
اپنوں کا اب کے کوئی سہارا نہیں رہا
ہاتھوں میں ڈاکیہ کے لفافہ نہیں رہا
دولت کی چند سیڑھیاں آنگن میں کیا بنیں
پھر بھائیوں کے بیچ میں رشتہ نہیں رہا
مانا کہ جام تو نے پلایا نہیں مگر
محفل میں تیری کوئی بھی تشنہ نہیں رہا
آنگن کے بیچ اٹھ گئی دیوار جب مرے
سائے کے درمیان بھی سایہ نہیں رہا
یادوں کی کائنات میں کھویا کچھ اس طرح
اس بھیڑ سے نکلنے کا رستہ نہیں رہا
آنسو فراق زخم عزا وصلِ یار تک
یہ ہجر کا سفر کبھی لمبا نہیں رہا
مدت سے منتظر ہے اسد دید کا مگر
وعدہ تمہارا کوئی بھی سچا نہیں رہا
✍️ عبدالدیان اسد — مختصر تعارف
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان
نام؛ عبدالدیان عبدالرحمن
قلمی نام؛. عبدالدیان اسد
معروف نام؛. عبدالدیان رحمانی
پیشہ؛ پارچہ بافی، اناؤنسر، نظامت
تاریخ پیدائش؛ 2مئی 1970
مسکن؛ گھر نمبر 188 گلی نمبر 2 نجمہ آباد
شہر؛ مالیگاؤں ناسک مہاراشٹر ہندوستان
مشغلہ؛. شاعری، مطالعہ، خدمت خلق
تعلیم؛ دسویں اردو
غزل کیا ہے؟
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔
عبدالدیان اسد کی مزید
مثلِ منصور زمانے سے وفا مانگے گا
عشق، بس دار پہ چڑھنے کی ادا مانگے گا
آہ سے اس کی حکومت تری مٹ ج...
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں
جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں
زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہات...
اپنی بربادی کی معذور کہانی بھر کے
پھونک مارے گا چلم باز جوانی بھر کے
روز جھرنے میں منگائے گی جٹ...
کیا خبر حریفِ دین کو کیا ہے احترام یا حسین
عرشِ پاک پر بھی ہے لکھا آپ کا مقام یا حسین
لاج رکھ ل...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!