اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
عبدالدیان اسدؔ پیر، 18 مئی 2026
👁 13 ❤️ 1
ہوگی تو کیسے ہو گی عنایت تمام شد
قرطاسِ دل پہ لکھی عبارت تمام شد
آنکھوں سے جوں ہی نکلا مری عرقِ انتظار
"مرتے ہوئے وجود کی حسرت تمام شد "
پیروں کے آبلوں نے سفر ترک کر دیا
نادیدہ راستوں کی مسافت تمام شد
شہرِ حریمِ ناز کو بس کہہ کے الوداع
کردی ہے عاشقوں نے عبادت تمام شد
پہنچا دیا تھا عجز نے حرمت کے درمیان
آئی ریا قریب ریاضت تمام شد
آتے ہی ہچکی ہوگئی شداد کی سنو
باغِ ارم کی آخری چاہت تمام شد
جس دم قلم کو رکھ دوں میں قرطاس پر اسد
دنیا کے سورماؤں کی طاقت تمام شد
📖 خلاصہ

یہ گہری فکری، روحانی اور علامتی غزل عبدالدیان اسد کی پختہ شاعری اور بلند تخیّل کا خوبصورت اظہار ہے۔ شاعر نے عشق، انتظار، ریاضت، عجز اور انسانی خواہشات کے خاتمے کو نہایت مؤثر استعاروں میں پیش کیا ہے۔ “…

← پچھلا اگلا →
عبدالدیان اسدؔ کی مزید
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہات...
کہیں پہ صدیوں پرانی آتش غضب سے اپنے بجھا رہا ہے چراغ ٹوٹا ہوا کہیں پر ہوا کی زد میں جلا رہا ہے ...
”معراج بی“ کی یاد سے کتنی نمی ہے آج بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج احباب رشتے دار ہیں ہ...
یاس و حسرت سے ادھر آنکھ تکی جائے گی جس طرف جانِ غزل تیری گلی جائے گی دے کے آواز زمانے کو جو خام...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن