اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
عبدالدیان اسدؔ پیر، 18 مئی 2026
👁 22 ❤️ 1
الفت وفا خلوص کا اچھا صلہ دیا
اہلِ خرد کو آپ نے جلوہ دکھا دیا
زخمی دیارِ یار سے آئی شبِ وصال
اہلِ جنوں نے عشق کا مرہم لگا دیا
زندانِ خواہشات کی دہلیز لانگھ کر
"کس نے مجھے چراغ بنا کر بجھا دیا "
ایسا کمال کر گئیں خواجہ کی جوتیاں
ساحر کو ایک پل میں ہی رب سے ملا دیا
زخموں کو نوچنے کی یہاں رسم چل پڑی
کس نے جہانِ ہجر کو ہٹلر بنا دیا
میں تیرگی میں جل کے منور ہوا مگر
دنیا نے لا کے قبر میں زندہ سلا دیا
بس چادرِ فراق اسد خود پہ ڈال کر
تاریکیاں حیات کی میں نے مٹا دیا
📖 خلاصہ

یہ درد، تصوف، عشق اور فکری کرب سے بھرپور غزل عبدالدیان اسد کی گہری شعری بصیرت اور اثر انگیز اسلوب کا خوبصورت نمونہ ہے۔ شاعر نے عشق، ہجر، روحانی وابستگی اور انسانی بے حسی کو نہایت مؤثر استعاروں میں پیش…

← پچھلا اگلا →
عبدالدیان اسدؔ کی مزید
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہاتے رہن...
کہیں پہ صدیوں پرانی آتش غضب سے اپنے بجھا رہا ہے چراغ ٹوٹا ہوا کہیں پر ہوا کی زد میں جلا رہا ہے تمام ...
”معراج بی“ کی یاد سے کتنی نمی ہے آج بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج احباب رشتے دار ہیں ہمسائے...
یاس و حسرت سے ادھر آنکھ تکی جائے گی جس طرف جانِ غزل تیری گلی جائے گی دے کے آواز زمانے کو جو خاموش ہو...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن