غزل
علیم طاہر
اتوار، 17 مئی 2026
👁 16
❤️ 1
گلا تو گھونٹ دیا تو نے میری ہر خوشی کا
مجھے بس آخری رستہ بچا ہے خودکشی کا
طوائف بن گئی ہوں، میرے حق میں دیکھئے ناں
کوئی اک پہلو بھی اچھا نہیں ہے زندگی کا
اجڑ کر آج روتی ہوں، کبھی ہنس کر یہ سوچا تھا
کروں گی خواب پورا میں بھی کوئی اجنبی کا
دکھاوے کا یہ میرے ساتھ کیا رشتہ نبھاتا ہے
تو سچ مچ چھوڑ کر تو جا چکا مجھ کو کبھی کا
یہاں ہر شخص نے لہجہ بدل کر بات کی مجھ سے
ملا ہے رنگ زہریلا مجھے ہر آدمی کا
میں کاغذ کی طرح پھاڑی گئی ہوں شوق کی خاطر
چکھایا وقت نے مجھ کو مزہ آوارگی کا
یہاں ہر موڑ پر بکھری پڑی ہوں میں ہی میں طاہر
ادھورا رہ گیا قصہ تو میری عاشقی کا
✍️ علیم طاہر — مختصر تعارف
📍 مالیگاؤں
علیم طاہر _شاعر و ادیب
غزل کیا ہے؟
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔
علیم طاہر کی مزید
نہ خود کا میں ہوں نہ کچھ اور میرے بس میں ہے
جہاں میں جو بھی ہے سب تیری دسترس میں ہے
مرے وجود سے ...
لوبانوں سی خوشبو جیسی مہکے تیری یاد
دھڑکندھڑکن سلگ رہا ہے مدھم سااحساس
مجھ کو تیرے سنگ چ...
ڈراما نگار: علیم طاہر
کردار:
بابا جان (ریٹائرڈ ریلوے گارڈ، 75 سالہ)
سلمان (بابا جان کا پوتا، 20...
اسٹیج ڈرامہ: آخری سکہ
تحریر (رائٹر) : علیم طاہر
کردار:
رفیق – مرکزی کردار، عام سا نوجوان جس کے د...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!