اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
علیم طاہر اتوار، 17 مئی 2026
👁 38 ❤️ 2
رکھیں گی خواہشیں مجھے یہ کب تلک دبوچ کر
اگر میں ضد پہ آ گیا تو پھینک دوں گا نوچ کر
سو نفرتوں کی آگ کو جو دے رہا ہے یوں ہوا
کرے ہے تازہ ہر گھڑی وہ زخم کو کھروچ کر
تو بات دل کی کھل کے کہہ یا اوڑھ لے خموشیاں
بدن میں رینگتے ہوئے تو ختم کاکروچ کر
جو مر گئے ہیں دیکھ لے ذرا سا ان کا حال بھی
جو گدھ ہیں کھا رہے ہیں وہ مرے ہوؤں کو نوچ کر
یہ چہرے پر جو زخم ہیں نشاں ہیں بے وفائی کے
بڑا وہ عشق بنتا تھا چلا گیا کھروچ کر
سکون چاہتے ہو جو ، جو چاہتے ہو عزتیں
غلط جو خواہشیں اٹھے ، رکھو انہیں دبوچ کر
تو عادتاً خموش ہے ، جو ہو گیا سو ہو گیا
وہ فطرتاً ہوا ہے خوش تجھے یہ خار ٹوچ کر
📖 خلاصہ

یہ تلخ حقیقتوں، سماجی رویّوں اور داخلی کشمکش سے بھرپور غزل علیم طاہر کی جراتِ اظہار اور فکری گہرائی کا مؤثر نمونہ ہے۔ شاعر نے خواہش، نفرت، خاموشی، بے وفائی اور انسانی رویّوں کو نہایت سخت مگر حقیقت پسن…

← پچھلا اگلا →

✍️ علیم طاہر — مختصر تعارف

📍 مالیگاؤں

علیم طاہر _شاعر و ادیب

غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

علیم طاہر کی مزید
نہ خود کا میں ہوں نہ کچھ اور میرے بس میں ہے جہاں میں جو بھی ہے سب تیری دسترس میں ہے مرے وجود سے ...
لوبانوں سی خوشبو جیسی مہکے تیری یاد دھڑکن‌دھڑکن سلگ رہا ہے مدھم سااحساس مجھ کو تیرے سنگ چ...
ڈراما نگار: علیم طاہر کردار: بابا جان (ریٹائرڈ ریلوے گارڈ، 75 سالہ) سلمان (بابا جان کا پوتا، 20...
اسٹیج ڈرامہ: آخری سکہ تحریر (رائٹر) : علیم طاہر کردار: رفیق – مرکزی کردار، عام سا نوجوان جس کے د...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن