اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
عبدالدیان اسدؔ ہفتہ، 16 مئی 2026
👁 25 ❤️ 2
اپنی بربادی کی معذور کہانی بھر کے
پھونک مارے گا چلم باز جوانی بھر کے
روز جھرنے میں منگائے گی جٹھانی بھر کے
دیکھ اک روز کسی غیر کا پانی بھر کے
دیکھنا واعظِ دوراں کا تقرب پا کر
پھوڑ ڈالے گا نئی مٹکی پرانی بھر کے
ایک دیوانہ ترے شہر سے آتے آتے
ساتھ صندوق لئے آیا نشانی بھر کے
ایک مصرعہ کسی مرحوم کی تک بندی تھی
شعر مشہور ہوا مصرعۂ ثانی بھر کے
اک برس ہولی کو ہونے میں ہے کچھ دن باقی
پان ابھی سے ہے رکھے منہ میں ممانی بھر کے
میں نے دیکھا ہے اسد کھوٹے پرانے سکے
ایک تھیلی میں رکھا کرتی تھی نانی بھر کے
📖 خلاصہ

یہ طنز و مزاح، دیہی معاشرت اور روزمرہ زندگی کے دلچسپ مشاہدات سے بھرپور غزل عبدالدیان اسد کی شوخ مزاجی اور منفرد اسلوب کا خوبصورت نمونہ ہے۔ شاعر نے عام گھریلو کرداروں، دیہاتی ماحول اور سماجی رویّوں کو …

← پچھلا اگلا →
عبدالدیان اسدؔ کی مزید
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہات...
کہیں پہ صدیوں پرانی آتش غضب سے اپنے بجھا رہا ہے چراغ ٹوٹا ہوا کہیں پر ہوا کی زد میں جلا رہا ہے ...
”معراج بی“ کی یاد سے کتنی نمی ہے آج بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج احباب رشتے دار ہیں ہ...
یاس و حسرت سے ادھر آنکھ تکی جائے گی جس طرف جانِ غزل تیری گلی جائے گی دے کے آواز زمانے کو جو خام...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن