غزل
علیم طاہرؔ
جمعہ، 15 مئی 2026
👁 140
❤️ 4
نہ خود کا میں ہوں نہ کچھ اور میرے بس میں ہے
جہاں میں جو بھی ہے سب تیری دسترس میں ہے
مرے وجود سے کیسے تجھے نکالوں میں
ترا وجود تو میری ہر ایک نس میں ہے
ترا شہود مری دھڑکنوں سے وابستہ
تری نمود بھی میری ہر ایک نس میں ہے
تڑپ رہی ہیں ہمہ وقت مقید سانسیں
ہر ایک لمحہ تمناؤں کے قفس میں ہے
بغیر دل کے کوئی نقش ابھرتا ہی نہیں
نظر نظر کا نظارا دلوں کے بس میں ہے
یہ مشورہ ہے کہ دنیا کی آرزو نہ کر
نہ تیرے بس میں ہے دنیا نہ میرے بس میں ہے
وہ نغمگی جو بکھرتی ہے تیرے لہجے سے
مرے جنوں کی سماعت اسی کے رس میں ہے
جس انقلاب کو صدیوں کا انتظار رہا
وہ انقلاب بھی طاہر قلم کے بس میں ہے
علیم طاہرؔ کی مزید
نہ خود کا میں ہوں نہ کچھ اور میرے بس میں ہے
جہاں میں جو بھی ہے سب تیری دسترس میں ہے
مرے وجود سے ...
تھلاپتی وجے: فلمی دنیا سے عوامی قیادت تک ایک غیر معمولی سفر
__________
سپر اسٹار سے سیاسی رہنما تک...
مصنف: علیم طاہر
---
فہرستِ مضامین:
1. پیش لفظ
2. افسانچہ کیا ہے؟ (تعریف و اہمیت)
3. ا...
"عورت کچے کان کی" معروف ادیب علیم طاہرؔ کی ایک فکر انگیز تحریر ہے جو معاشرے میں عورت کے کر...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!