غزل
ہاشم
اتوار، 26 اپریل 2026
👁 16
❤️ 2
*میرے ہونٹوں کی التجا ہے تُو*
*دل سے نکلی ہوئی دعا ہے تُو*
*تجھ میں ویرانیوں کا ڈیرہ ہے*
*ہاں مرے دل کا آئینہ ہے تُو*
*میں ہوں دنیا کی بھیڑ میں تنہا*
*اپنی دنیا میں کھو گیا ہے تو*
*جان کر یہ بہت سکون ملا*
*میرے بارے میں سوچتا ہے تُو*
*خوف کھاتی ہیں آندھیاں جس سے*
*وہی جلتا ہوا دیا ہے تُو*
*کرنے سیراب تشنہ کاموں کو*
*پیاسا دریا سے چل پڑا ہے تُو*
*قفسِ دل کی لانگ کر دیوار*
*میری رگ رگ میں دوڑتا ہے تو*
*طائرِ فکر محوِ خواب نہیں*
*پھر بھی خاموش زمزمہ ہے تو*
*رازِ الفت اسی پہ ہے موقوف*
"*میں وفا ہوں مری وفا ہے تو* "
*قلبِ ہاشمؔ ہے خون میں غلطاں*
*اور اس پر بھی حوصلہ ہے تو*
*ہـاشـــم انور ہاشم*
مالیگاؤں ناسک مہاراشٹر انڈیا
9139721214
ہاشم کی مزید
ذکرِ صلّیِ اعلیٰ مصطفیٰ مصطفیٰؐ
دردِ دل کی دوا مصطفیٰ مصطفیٰؐ
دھیرے دھیرے سے آنکھوں کو کھولے علی...
راہِ الفت میں یوں نکلتا ہوں
روز بنتا ہوں اور بکھرتا ہوں
حادثے مجھ سے دور رہتے ہیں
لےکے ماں کی د...
ربِ حق ہوتے ہوئے، میں نہ تَو، تُو دیکھا ہے
ہم کے احساس کو خود کرتے وضو دیکھا ہے
کہیں کٹتا ہوا ال...
گزری راتوں کے آؤ خواب لکھیں
"اک غزل ہم بھی کامیاب لکھیں"
ایسا کوئی نہیں ہے محفل میں
ج...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!