غزل
سید حسین جون اصغر
منگل، 21 اپریل 2026
👁 13
❤️ 0
تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو
جو ملے خواب میں وہ دولت ہو
میں تمہارے ہی دم سے زندہ ہوں
مر ہی جاؤں جو تم سے فرصت ہو
تم ہو خوشبو کے خواب کی خوشبو
اور اتنی ہی بے مروت ہو
تم ہو پہلو میں پر قرار نہیں
یعنی ایسا ہے جیسے فرقت ہو
تم ہو انگڑائی رنگ و نکہت کی
کیسے انگڑائی سے شکایت ہو
کس طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں
تم مری زندگی کی عادت ہو
کس لئے دیکھتی ہو آئینہ
تم تو خود سے بھی خوبصورت ہو
داستاں ختم ہونے والی ہے
تم مری آخری محبت ہو
✍️ سید حسین جون اصغر — مختصر تعارف
📍 امروہہ، ہندوستان
🟣 جون ایلیا کی سوانح حیات
🟢 تعارف
جون ایلیا اردو کے جدید دور کے منفرد اور باغی مزاج شاعر تھے۔
ان کا پورا نام: سید حسین جون اصغر تھا، جبکہ تخلص “جون” تھا۔
📍 پیدائش اور خاندانی پس منظر
📅 پیدائش: 14 دسمبر 1931ء
📍 مقام: امروہہ، ہندوستان
ایک علمی و ادبی خاندان سے تعلق تھا
📚 تعلیم و تربیت
عربی، فارسی اور فلسفہ میں مہارت
کم عمری میں ہی علم و ادب سے گہرا تعلق
🌍 ہجرت
تقسیمِ ہند کے بعد پا …
غزل کیا ہے؟
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔
سید حسین جون اصغر کی مزید
تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو
جو ملے خواب میں وہ دولت ہو
میں تمہارے ہی دم سے زندہ ہوں
مر ہی جاؤں جو ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!