غزل
نواب مرزا خان
منگل، 21 اپریل 2026
👁 12
❤️ 0
ہم نے ان کے سامنے اول تو خنجر رکھ دیا
پھر کلیجہ رکھ دیا دل رکھ دیا سر رکھ دیا
قطرۂ خون جگر سے کی تواضع عشق کی
سامنے مہمان کے جو تھا میسر رکھ دیا
منصفی ہو تو غضب نا منصفی ہو تو ستم
اس نے میرا فیصلہ موقوف مجھ پر رکھ دیا
کہتے ہیں بوئے وفا آتی ہے ان پھولوں میں آج
دل جو ہم نے لالہ و گل میں ملا کر رکھ دیا
زندگی میں پاس سے اک دم نہ ہوتی تھی جدا
قبر میں تنہا مجھے یاروں نے کیوں کر رکھ دیا
زلف خالی ہاتھ خالی کس جگہ ڈھونڈوں اسے
تم نے دل لے کر کہاں اے بندہ پرور رکھ دیا
شوق بھی ہے وہم بھی ہے کیا کروں اے نامہ بر
کل جو لکھا کاٹ کر وہ آج دفتر رکھ دیا
داغؔ کی شامت جو آئی اضطراب شوق میں
حال دل کمبخت نے سب ان کے منہ پر رکھ دیا
✍️ نواب مرزا خان — مختصر تعارف
📍 دہلی، ہندوستان
داغ دہلوی کی سوانح حیات (مکمل اور جامع)
🟢 تعارف
داغ دہلوی اردو کے نامور شاعر تھے، جن کا اصل نام:
نواب مرزا خان تھا۔
وہ اپنی سادہ، دلکش اور رواں غزل گوئی کی وجہ سے بہت مشہور ہیں۔
📍 پیدائش اور خاندانی پس منظر
📅 پیدائش: 25 مئی 1831ء
📍 مقام: دہلی، ہندوستان
والد: نواب شمس الدین احمد خان
والدہ: وزیر خانم
بچپن میں ہی ان کے والد کا انتقال ہو گیا، جس کے بعد ان کی پرورش شاہی ماحول میں ہوئی۔ …
غزل کیا ہے؟
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔
نواب مرزا خان کی مزید
ہم نے ان کے سامنے اول تو خنجر رکھ دیا
پھر کلیجہ رکھ دیا دل رکھ دیا سر رکھ دیا
قطرۂ خون جگر سے کی...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!