اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
کربلا نامہ

کربلا – دسویں دن مکمل | کچھ دن ضمیر میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں

کربلا – دسویں دن مکمل | کچھ دن ضمیر میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں
منتظم عاصیؔ
منتظم عاصیؔ جمعہ، 3 جولائی 2026
👁 13 ❤️ 0

کربلا — دسویں دن 10 محرم 1448ھ

جب صبح صرف روشنی نہیں لاتی، تاریخ کا ایک باب بھی کھولتی ہے
صبح آئی۔
مگر یہ صبح باقی صبحوں جیسی نہیں تھی۔
سورج اسی افق سے نکلا
جہاں سے ہر روز نکلتا تھا۔
ہوا بھی ویسے ہی چلی۔
زمین بھی ویسی ہی خاموش رہی۔
مگر وقت—
وہ اب ویسا نہیں تھا۔
رات گزر چکی تھی۔
اور دسویں دن کی صبح
اپنے ساتھ ایک ایسی سنجیدگی لے کر آئی تھی
جسے لفظ پوری طرح نہیں سمیٹ سکتے۔
یہ وہ دن تھا
جس کا نام صدیوں سے دلوں میں محفوظ ہے۔
یہ وہ دن تھا
جسے تاریخ نے صرف تاریخ کے طور پر نہیں لکھا—
بلکہ ایک یاد، ایک سوال، ایک پیغام کے طور پر بھی محفوظ رکھا۔
صبح کی روشنی پھیل رہی تھی۔
مگر روشنی ہمیشہ آسانی کی خبر نہیں لاتی۔
کبھی وہ انسان کو اُس مقام تک بھی لے آتی ہے
جہاں اُس کے فیصلے اُس کے لفظوں سے بڑے ہو جاتے ہیں۔
یہ صبح بھی شاید ویسی ہی تھی۔
وقت آگے بڑھ رہا تھا۔
لیکن ہر لمحہ
جیسے پہلے سے زیادہ بھاری محسوس ہونے لگا تھا۔
کبھی کچھ دن ایسے ہوتے ہیں
جہاں انسان یہ نہیں سوچتا
کہ آگے کیا ہوگا۔
وہ صرف یہ دیکھتا ہے
کہ اُس کے اندر کیا باقی رہے گا۔
شاید یہی اس دن کی پہلی کیفیت تھی۔
سورج بلند ہونے لگا۔
زمین خاموش رہی۔
اور خاموش زمین—
کبھی کبھی بہت کچھ اپنے اندر محفوظ رکھ لیتی ہے۔
یہ دن بھی اپنی خاموشی میں
ایک گہرا سوال رکھے ہوئے تھا:
جب انسان کے سامنے انتخاب آئے
تو وہ اپنے آرام کو بچائے
یا اپنے اصول کو؟
یہ سوال صرف ایک زمانے کا نہیں ہوتا۔
ہر دور کا ہوتا ہے۔
اور شاید اسی لیے
کچھ دن ختم نہیں ہوتے۔
وہ انسان کے اندر زندہ رہتے ہیں۔
دسویں دن کی صبح
آہستہ آہستہ اپنی روشنی پھیلا رہی تھی۔
اور وقت—
وہ اب پہلے سے زیادہ واضح محسوس ہونے لگا تھا۔
ابھی دن باقی تھا۔
ابھی خاموشی کے اندر بہت کچھ باقی تھا۔
اور ابھی—
تاریخ نے اپنا پورا صفحہ نہیں کھولا تھا۔
کچھ لمحے تاریخ میں نہیں، انسان کے ضمیر میں اترتے ہیں
دن آگے بڑھنے لگا۔
سورج آسمان پر بلند ہونے لگا۔
روشنی ہر طرف پھیلتی گئی۔
مگر بعض دن روشنی کے باوجود
انسان کو اپنے اندر دیکھنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
یہ دن شاید ایسا ہی تھا۔
دسویں دن کی صبح
اب مکمل طور پر زمین پر اتر چکی تھی۔
وقت اپنے معمول کے ساتھ چل رہا تھا۔
مگر انسان—
وہ معمول سے آگے جا چکا تھا۔
کبھی ایسا ہوتا ہے
کہ حالات انسان سے بہت کچھ چھین لیتے ہیں۔
مگر پھر ایک لمحہ آتا ہے
جہاں انسان فیصلہ کرتا ہے:
جو میرے پاس باقی ہے
میں اُسے کس کے لیے محفوظ رکھوں؟
اپنے لیے؟
یا اپنے اصول کے لیے؟
شاید یہی وہ سوال تھا
جو ہر بڑے امتحان کے پیچھے خاموشی سے کھڑا ہوتا ہے۔
دن آگے بڑھتا رہا۔
زمین خاموش رہی۔
اور خاموشی—
وہ اب پہلے جیسی خاموشی نہیں رہی تھی۔
اس کے اندر وزن پیدا ہونے لگا تھا۔
جیسے ہر لمحہ
اپنے اندر ایک معنی رکھتا ہو۔
کبھی انسان بہت کچھ کہہ سکتا ہے۔
مگر پھر ایک وقت آتا ہے
جہاں اُس کا خاموش کھڑا رہنا
اُس کے تمام لفظوں سے بڑا ہو جاتا ہے۔
شاید یہی عظمت کی ایک شکل ہوتی ہے۔
دن کے اس حصے میں
وقت جیسے انسان کو دیکھ رہا تھا۔
اور پوچھ رہا تھا:
اگر تمہارے پاس صرف ایک چیز بچی ہو—
تو تم کیا بچاؤ گے؟
سہولت؟
یا سچ؟
یہ سوال کسی ایک دن کا نہیں۔
ہر دور کا سوال ہے۔
اسی لیے
بعض واقعات ختم نہیں ہوتے۔
وہ زمانے بدلنے کے بعد بھی
انسان کے ضمیر میں زندہ رہتے ہیں۔
سورج اور بلند ہو گیا۔
ہوا چلتی رہی۔
زمین خاموش رہی۔
مگر دل—
وہ اب صرف محسوس نہیں کر رہا تھا،
سمجھنے لگا تھا۔
اور بعض اوقات
سمجھ جانا
سب سے بھاری مرحلہ ہوتا ہے۔
دسویں دن نے آہستہ سے کہا:
بعض امتحان انسان سے سب کچھ نہیں مانگتے—
وہ صرف یہ پوچھتے ہیں
کہ تم آخر تک کون رہو گے۔
ابھی دن باقی تھا۔
اور وقت—
ابھی اپنی پوری بات نہیں کہہ رہا تھا۔
کچھ فیصلے زمین پر ہوتے ہیں، مگر اُن کی بازگشت زمانوں میں سنائی دیتی ہے
دن اپنی بلندی کی طرف بڑھ چکا تھا۔
سورج پورے آسمان پر پھیلا ہوا تھا۔
روشنی ہر طرف موجود تھی۔
مگر بعض اوقات
روشنی منظر کو روشن کرتی ہے—
اور وقت انسان کے اندر کو۔
یہ دن بھی شاید ایسا ہی تھا۔
اب خاموشی صرف انتظار نہیں رہی تھی۔
وہ معنی بننے لگی تھی۔
کبھی انسان کے سامنے بہت سے راستے ہوتے ہیں۔
اور کبھی—
صرف ایک۔
اور عجیب بات یہ ہے
کہ بعض اوقات وہ ایک راستہ
سب سے زیادہ واضح ہوتا ہے۔
اگرچہ سب سے زیادہ دشوار بھی۔
دسویں دن کی دوپہر
اپنے اندر ایک عجیب وقار رکھتی محسوس ہوتی تھی۔
جیسے وقت جلدی میں نہ ہو۔
جیسے ہر لمحہ چاہتا ہو
کہ انسان دیکھے،
سوچے،
اور پھر اپنے اندر کوئی سوال لے کر آگے بڑھے۔
بعض لمحے شور سے بڑے ہوتے ہیں۔
وہ خاموشی میں پیدا ہوتے ہیں۔
اور پھر نسلوں تک بولتے رہتے ہیں۔
یہ بھی شاید ویسا ہی لمحہ تھا۔
زمین خاموش تھی۔
ہوا چل رہی تھی۔
سورج اپنی جگہ قائم تھا۔
مگر انسان—
وہ اب صرف حالات کے سامنے نہیں تھا۔
وہ اپنے ضمیر کے سامنے بھی کھڑا تھا۔
کبھی بڑی آزمائش یہ نہیں ہوتی
کہ انسان کے پاس کیا باقی ہے۔
بلکہ یہ ہوتی ہے
کہ جو باقی ہے
اُسے کس معنی کے ساتھ محفوظ رکھتا ہے۔
وقت آگے بڑھ رہا تھا۔
اور اُس کے ساتھ
انسان کے اندر کی آواز بھی واضح ہونے لگی تھی۔
کچھ دن انسان سے فیصلہ مانگتے ہیں۔
کچھ دن انسان کو فیصلہ بنا دیتے ہیں۔
شاید یہ دن
دوسری قسم کا دن تھا۔
سورج اپنی پوری روشنی میں قائم رہا۔
لیکن اندر
ایک اور طرح کی روشنی پیدا ہونے لگی۔
وہ روشنی
جو دلیل سے نہیں—
وفاداری سے پیدا ہوتی ہے۔
اور وفاداری
ہمیشہ آسان راستہ نہیں چنتی۔
دن ابھی باقی تھا۔
خاموشی بھی۔
اور وقت—
وہ ابھی اپنا پورا چہرہ ظاہر نہیں کر رہا تھا۔
مگر دسویں دن نے آہستہ سے اتنا کہہ دیا:
بعض فیصلے صرف اُس لمحے کے لیے نہیں ہوتے—
وہ آنے والے زمانوں کے لیے آئینہ بن جاتے ہیں۔
کچھ شامیں سورج کے ساتھ نہیں ڈھلتیں، انسان کے اندر روشن رہتی ہیں
دن اب اپنی بلندی سے اترنے لگا تھا۔
سورج آہستہ آہستہ افق کی طرف جھکنے لگا۔
روشنی ابھی باقی تھی۔
مگر اُس روشنی میں ایک ایسی سنجیدگی شامل ہونے لگی تھی
جو صرف شام کی نہیں تھی—
وہ وقت کی تھی۔
دسویں دن کی یہ گھڑیاں
ویسی نہیں تھیں
جنہیں صرف ساعتوں سے ناپا جا سکے۔
کچھ لمحے وقت کے پیمانوں سے بڑے ہو جاتے ہیں۔
یہ شاید اُنہی لمحوں میں سے ایک تھا۔
زمین خاموش تھی۔
ہوا اپنے راستے پر تھی۔
مگر انسان—
وہ اب صرف ایک دن نہیں گزار رہا تھا۔
وہ اپنے اندر کچھ محفوظ کر رہا تھا۔
کبھی انسان کے پاس سب کچھ ہوتا ہے
اور پھر بھی وہ خالی رہتا ہے۔
اور کبھی
اُس کے پاس بہت کم ہوتا ہے
مگر وہ اپنے اندر اتنا بھر لیتا ہے
کہ زمانے اُس سے روشنی لیتے ہیں۔
شاید یہی عظمت کا ایک پہلو ہوتا ہے۔
شام قریب آ رہی تھی۔
اور شام انسان کو اُس کے دن کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔
کیا دیکھا؟
کیا سمجھا؟
اور سب سے بڑھ کر—
کیا محفوظ رکھا؟
یہ دن بھی شاید یہی سوال لیے ہوئے تھا۔
وقت نے اپنا سفر جاری رکھا۔
مگر بعض دن
صرف گزرنے کے لیے نہیں آتے۔
وہ انسان کے اندر ایک نشان چھوڑ جاتے ہیں۔
ایسا نشان
جو برسوں بعد بھی مٹتا نہیں۔
قافلہ خاموش تھا۔
مگر اُس خاموشی میں کمزوری نہیں تھی۔
وہ وقار تھا۔
وہ تحمل تھا۔
وہ ایک ایسی ثابت قدمی تھی
جو شور کے بغیر بھی محسوس ہوتی ہے۔
سورج اور نیچے اترنے لگا۔
افق کے رنگ بدلنے لگے۔
اور انسان نے محسوس کیا—
کچھ دن انسان کو جیتنا نہیں سکھاتے،
وہ اُسے سچا رہنا سکھاتے ہیں۔
شام اپنی پوری کیفیت کے ساتھ اترنے لگی۔
اور وقت نے آہستہ سے کہا:
بعض دن ختم ہو جاتے ہیں—
مگر اُن کا سوال باقی رہتا ہے۔
اور بعض لوگ چلے جاتے ہیں—
مگر اُن کا موقف باقی رہتا ہے۔
رات قریب تھی۔
مگر ابھی خاموشی نے اپنی آخری بات نہیں کہی تھی۔
کچھ دن ختم نہیں ہوتے، وہ انسان کے ضمیر میں زندہ رہتے ہیں
رات اترنے لگی۔
سورج اپنی روشنی سمیٹنے لگا۔
آسمان کے رنگ بدلنے لگے۔
زمین خاموش رہی۔
مگر بعض خاموشیاں ایسی ہوتی ہیں
جن کے اندر صدیوں کی بازگشت چھپی ہوتی ہے۔
یہ دن بھی شاید ویسا ہی تھا۔
دسویں دن کا سورج
اپنی مسافت مکمل کر رہا تھا۔
مگر بعض دن سورج کے ساتھ ختم نہیں ہوتے۔
وہ انسان کے اندر رہ جاتے ہیں۔
وقت گزر گیا۔
لیکن سوال باقی رہا۔
انسان کیا بچاتا ہے؟
اپنی آسائش؟
یا اپنا اصول؟
اپنی زندگی؟
یا اپنی سچائی؟
شاید اسی لیے
بعض دن تاریخ نہیں بنتے—
معیار بن جاتے ہیں۔
دن بھر کی خاموشی
اب رات کے اندر اترنے لگی تھی۔
اور رات—
وہ ہمیشہ انسان کو اُس کے اندر واپس لے جاتی ہے۔
یہ رات بھی شاید ویسی ہی تھی۔
اب راستہ ختم ہو چکا تھا۔
مگر معنی باقی تھے۔
اب وقت گزر گیا تھا۔
مگر اثر باقی تھا۔
اب منظر ختم ہو گیا تھا۔
مگر سوال باقی تھا۔
اور شاید بڑے واقعات کی یہی پہچان ہوتی ہے۔
وہ انسان کو صرف ایک قصہ نہیں دیتے—
وہ اُسے اپنے آپ سے ملاتے ہیں۔
کچھ لوگ وقت گزار دیتے ہیں۔
اور کچھ لوگ
وقت کو معنی دے جاتے ہیں۔
یہ دن بھی شاید اُنہی دنوں میں سے تھا۔
خاموشی قائم رہی۔
مگر وہ خاموشی خالی نہیں تھی۔
وہ اپنے اندر وفاداری رکھتی تھی۔
ثابت قدمی رکھتی تھی۔
اور یہ یاد دلاتی تھی
کہ بعض راستے کامیابی کے لیے نہیں چنے جاتے—
وہ سچائی کے لیے چنے جاتے ہیں۔
رات مکمل اتر آئی۔
آسمان خاموش رہا۔
زمین خاموش رہی۔
مگر انسان کے اندر
ایک چراغ روشن رہ گیا۔
اور دسویں دن نے آہستہ سے کہا:
مجھے صرف یاد نہ کرنا—
یہ بھی دیکھنا
کہ جب تمہارے سامنے حق اور آسانی کھڑی ہو
تو تم کس طرف کھڑے ہوتے ہو۔

📖 خلاصہ

دسویں دن کی یہ تحریر واقعاتی تفصیل کے بجائے اُس فکری اور اخلاقی کیفیت پر مرکوز ہے جس میں انسان مقصد، اصول اور اپنی داخلی سچائی کے ساتھ کھڑا ہونے کا مفہوم سمجھتا ہے۔ یہ دن صرف تاریخ کا ایک باب نہیں بل…

✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف

منتظم عاصیؔ
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان

اپنی بات

محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و …

مزید پڑھیں ←
منتظم عاصیؔ کی مزید تحریریں
کربلا – نواں دن مکمل | کچھ راتیں انسان کے اندر باقی رہتی ہیں
کربلا — نواں دن 9 محرم 1448ھ بعض دن سورج سے نہیں، دل کی دھڑکن سے پہچانے جاتے ...
کربلا – آٹھواں دن مکمل | کچھ راستے انسان کو معنی دے دیتے ہیں
## کربلا — آٹھواں دن 8 محرم 1448ھ کبھی امتحان سامنے آنے سے پہلے دل اُس کی جگہ...
نشہ — انسانیت کا زوال | نشے کے سماجی، نفسیاتی اور انسانی اثرات پر طویل تحقیقی اردو مضمون
## نشہ — انسانیت کا زوال ### باب اوّل جب انسان اپنے آپ سے دور ہونے لگتا ہے ...
شجر کاری کی اہمیت، ضرورت، فوائد اور درخت لگانے کا مکمل طریقہ | جامع اردو مضمون
## شجر کاری — سرسبز مستقبل کی ضمانت ### تمہید قدرت نے زمین کو انسان کے لیے ا...
مزید متعلقہ نثر
کربلا – ساتواں دن مکمل | کچھ راستے انسان کے اندر باقی رہتے ہیں | سلسلہ نمبر 7
کربلا — ساتواں دن 7 محرم 1448ھ کبھی وقت بولتا نہیں، بس اپنے معنی گہرے کر دیتا ہ...
کربلا – پانچواں دن مکمل | بعض دن انسان کے اندر رہ جاتے ہیں | سلسلہ نمبر5
کربلا — پانچواں دن 5 محرم 1448ھ جب راستہ بدلتا نہیں مگر احساس بدلنے لگتا ہے ص...
کربلا – نواں دن مکمل | کچھ راتیں انسان کے اندر باقی رہتی ہیں
کربلا — نواں دن 9 محرم 1448ھ بعض دن سورج سے نہیں، دل کی دھڑکن سے پہچانے جاتے ...
کربلا – چھٹا دن مکمل | کچھ سفر انسان کو اپنے آپ کے قریب لے آتے ہیں | سلسلہ نمبر6
کربلا — چھٹا دن 6 محرم 1448ھ جب خاموشی کے اندر آنے والے وقت کی چاپ سنائی دینے ل...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن