اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
کربلا نامہ

کربلا – چھٹا دن مکمل | کچھ سفر انسان کو اپنے آپ کے قریب لے آتے ہیں | سلسلہ نمبر6

کربلا – چھٹا دن مکمل | کچھ سفر انسان کو اپنے آپ کے قریب لے آتے ہیں | سلسلہ نمبر6
منتظم عاصیؔ
منتظم عاصیؔ اتوار، 21 جون 2026
👁 104 ❤️ 1

کربلا — چھٹا دن 6 محرم 1448ھ جب خاموشی کے اندر آنے والے وقت کی چاپ سنائی دینے لگے
صبح پھر طلوع ہوئی۔
مگر بعض صبحیں باقی صبحوں جیسی نہیں ہوتیں۔
سورج ویسا ہی نکلتا ہے۔
ہوا ویسے ہی چلتی ہے۔
زمین ویسی ہی رہتی ہے۔
مگر انسان—
وہ بدل چکا ہوتا ہے۔
پانچ دن گزر چکے تھے۔
اور چھٹا دن جیسے ایک نئی کیفیت کے ساتھ آیا تھا۔
اب سفر کی خاموشی مانوس ہو چکی تھی۔
راستے اجنبی نہیں رہے تھے۔
تھکن شکایت نہیں رہی تھی۔
لیکن دل—
وہ پہلے جیسا خاموش نہیں رہا تھا۔
کبھی انسان باہر سے پرسکون ہوتا ہے
اور اندر سے بہت کچھ سن رہا ہوتا ہے۔
شاید یہی اس دن کی فضا تھی۔
قافلہ آگے بڑھ رہا تھا۔
قدم ویسے ہی اٹھ رہے تھے۔
لیکن وقت کی رفتار بدلتی محسوس ہونے لگی تھی۔
ایسا نہیں تھا کہ کچھ واضح سامنے آ گیا ہو۔
نہیں۔
ابھی سب کچھ ویسا ہی تھا۔
لیکن بعض اوقات حالات آنے سے پہلے
اپنی موجودگی محسوس کرا دیتے ہیں۔
یہ دن شاید ایسا ہی دن تھا۔
انسان جب کسی بڑے مقصد کے ساتھ چلتا ہے
تو ایک وقت آتا ہے
جہاں وہ راستے سے زیادہ اپنے عزم کو دیکھنے لگتا ہے۔
اور پھر وہ جان لیتا ہے—
منزل تک پہنچنے سے پہلے
خود کو قائم رکھنا ضروری ہے۔
سورج بلند ہونے لگا۔
افق دور تک پھیل گیا۔
زمین خاموش رہی۔
مگر خاموش زمین بھی بعض قدموں کو یاد رکھتی ہے۔
یہ قدم بھی شاید ایسے ہی تھے۔
جو صرف سفر نہیں لکھ رہے تھے—
اپنے پیچھے معنی چھوڑ رہے تھے۔
چھٹے دن کی صبح میں
ایک عجیب سی سنجیدگی تھی۔
جیسے وقت خاموشی سے کہہ رہا ہو:
اب آگے صرف راستہ نہیں ہوگا۔
احساس بھی گہرا ہوگا۔
اور انسان بعض اوقات
اسی لمحے بڑا ہوتا ہے
جب اُسے معلوم ہو—
آگے کیا ہے، یہ ضروری نہیں،
لیکن کیوں چلنا ہے، یہ واضح ہو۔
قافلہ آگے بڑھتا رہا۔
ہوا چلتی رہی۔
اور چھٹے دن نے
اپنا پہلا باب خاموشی سے کھول دیا۔ بعض دن آنے سے پہلے دل اُنہیں پہچان لیتا ہے
دن آگے بڑھ رہا تھا۔
سورج اپنی روشنی کے ساتھ آسمان پر بلند ہو چکا تھا۔
زمین گرم تھی۔
راستہ کھلا تھا۔
اور قافلہ—
وہ اپنی ترتیب سے آگے بڑھ رہا تھا۔
ظاہر میں سب کچھ پہلے جیسا تھا۔
لیکن انسان ہمیشہ ظاہر میں نہیں جیتا۔
کبھی اُس کے اندر ایک ایسی جگہ بن جاتی ہے
جہاں آنے والے وقت کی آہٹ پہلے پہنچ جاتی ہے۔
چھٹے دن کی فضا میں شاید یہی کیفیت تھی۔
اب سفر معمول نہیں رہا تھا۔
یہ صرف چلنا نہیں تھا۔
یہ ایک مسلسل شعور بننے لگا تھا۔
ایسا شعور
جو انسان کو ہر قدم پر یاد دلاتا ہے:
راستے لمبے ہو سکتے ہیں،
مگر نیت کو لمبا نہیں ہونا چاہیے۔
وہ واضح رہنی چاہیے۔
قافلہ آگے بڑھتا رہا۔
سایے بدلتے رہے۔
وقت گزرتا رہا۔
مگر کچھ لمحے ایسے آتے ہیں
جہاں انسان محسوس کرتا ہے—
اب دن صرف دن نہیں رہے۔
وہ معنی رکھنے لگے ہیں۔
شاید یہی مرحلہ تھا۔
اب انسان راستے کو نہیں دیکھتا—
وہ اپنے اندر کی طاقت کو دیکھتا ہے۔
کبھی انسان کو معلوم نہیں ہوتا
کہ آگے کتنا مشکل وقت ہے۔
لیکن اگر اُسے معلوم ہو
کہ وہ کیوں چل رہا ہے،
تو یہی علم اُسے قائم رکھتا ہے۔
یہ دن شاید اسی یقین کا دن تھا۔
کوئی ظاہری تبدیلی نہیں۔
کوئی شور نہیں۔
کوئی اعلان نہیں۔
مگر خاموشی بدلنے لگی تھی۔
اور خاموشی جب بدلتی ہے
تو انسان کے دل میں جگہ بناتی ہے۔
پھر وہ جگہ ایک دن
تاریخ سے بھر جاتی ہے۔
سورج اور بلند ہو گیا۔
ہوا کے رخ میں معمولی تبدیلی آئی۔
افق اب بھی دور تھا۔
لیکن انسان کو بعض اوقات
فاصلے نہیں—
وقت تھکاتا ہے۔
اور بعض اوقات
وقت نہیں—
انتظار۔
مگر انتظار بھی ہمیشہ کمزوری نہیں ہوتا۔
کبھی انتظار
انسان کو اُس امتحان کے قابل بناتا ہے
جو ابھی سامنے نہیں آیا۔
قافلہ چلتا رہا۔
اور چھٹے دن نے
اپنے اندر ایک اور خاموش باب محفوظ کر لیا۔ وقت کبھی اچانک نہیں بدلتا، وہ پہلے دلوں میں اترتا ہے
دن اپنی بلندی کی طرف بڑھ چکا تھا۔
سورج پورے آسمان پر پھیلا ہوا تھا۔
ریت گرم تھی۔
اور قافلہ—
اب بھی اپنی خاموش ترتیب کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا۔
چھ دن۔
یہ اتنا وقت تھا
کہ سفر انسان کے قدموں سے نکل کر
اُس کی سوچ میں داخل ہو جائے۔
ابتدا میں انسان راستہ طے کرتا ہے۔
پھر ایک وقت آتا ہے—
راستہ انسان کو طے کرنے لگتا ہے۔
شاید چھٹے دن کی کیفیت یہی تھی۔
اب سوال کم ہو گئے تھے۔
خاموشی گہری ہو گئی تھی۔
اور انسان بعض اوقات
جب اپنے مقصد کے ساتھ مطمئن ہو جائے
تو کم بولتا ہے۔
قافلے کے اندر بھی شاید ایسا ہی سکون تھا۔
ایسا نہیں کہ آگے سب معلوم تھا۔
ایسا بھی نہیں کہ آنے والے دنوں کی پوری تصویر سامنے تھی۔
لیکن یقین—
وہ ابھی بھی ساتھ تھا۔
اور یقین کی عجیب بات ہے۔
وہ راستے مختصر نہیں کرتا—
انسان کو مضبوط کرتا ہے۔
دن کے بیچ میں بعض لمحے ایسے آتے ہیں
جہاں وقت جیسے سست پڑ جاتا ہے۔
سورج وہیں محسوس ہوتا ہے۔
ہوا ایک سی لگتی ہے۔
اور انسان کو محسوس ہوتا ہے—
جیسے دنیا انتظار کر رہی ہو۔
شاید یہی وہ لمحے ہوتے ہیں
جہاں تاریخ خاموشی سے لکھی جا رہی ہوتی ہے۔
کبھی واقعات بعد میں ہوتے ہیں—
تیاری پہلے۔
کبھی امتحان بعد میں آتا ہے—
استقامت پہلے۔
اور بعض اوقات
فیصلے بعد میں دکھائی دیتے ہیں—
موقف پہلے قائم ہوتا ہے۔
یہ دن بھی شاید ویسا ہی تھا۔
قافلہ چلتا رہا۔
کوئی جلدی نہیں۔
کوئی بے قراری نہیں۔
بس قدم—
اور اُن قدموں کے ساتھ چلتا ہوا یقین۔
سورج آہستہ آہستہ ڈھلنے کی طرف بڑھنے لگا۔
سایوں میں تبدیلی آنے لگی۔
اور انسان نے محسوس کیا—
کچھ سفر ایسے ہوتے ہیں
جہاں منزل قریب نہیں آتی،
آدمی خود منزل کے قابل ہونے لگتا ہے۔
چھٹے دن کی دوپہر گزر رہی تھی۔
مگر وقت—
وہ اب پہلے جیسا محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ جب شام قریب آتی ہے تو دل دور تک دیکھنے لگتا ہے
دن اب اپنی شدت سے اترنے لگا تھا۔
سورج کی روشنی پہلے جیسی روشن تھی—
مگر اُس کے اندر ایک نرمی اترنے لگی تھی۔
زمین گرم تھی۔
ہوا چل رہی تھی۔
اور قافلہ—
وہ اب بھی اپنی رفتار سے آگے بڑھ رہا تھا۔
لیکن بعض سفر ایسے ہوتے ہیں
جہاں رفتار ایک جیسی رہتی ہے
اور احساس بدل جاتا ہے۔
چھٹے دن کی شام میں شاید یہی کیفیت تھی۔
ابتدا کی جلدی اب کہیں پیچھے رہ گئی تھی۔
انتظار اب خاموش ہو چکا تھا۔
اور خاموش انتظار—
وہ سب سے گہرا انتظار ہوتا ہے۔
کیونکہ اُس میں شور نہیں ہوتا۔
صرف یقین ہوتا ہے۔
انسان جب مسلسل سفر کرتا ہے
تو ایک وقت آتا ہے
جہاں وہ راستے سے سوال کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
پھر وہ خود سے سوال کرتا ہے۔
کیا میرا ارادہ اب بھی ویسا ہے؟
کیا میں اب بھی اُسی وجہ سے چل رہا ہوں؟
کیا مقصد اب بھی دل میں اُتنا ہی واضح ہے؟
اور اگر جواب ہاں ہو—
تو سفر پھر مشکل نہیں رہتا۔
طویل ضرور رہتا ہے۔
قافلہ آگے بڑھتا رہا۔
سورج نیچے آنے لگا۔
ریت پر سایے لمبے ہونے لگے۔
اور انسان نے محسوس کیا—
دن صرف ختم نہیں ہو رہا،
کچھ اپنے ساتھ لے بھی جا رہا ہے۔
شاید ہر دن انسان سے ایک چیز لے جاتا ہے۔
اور بدلے میں ایک بصیرت دے جاتا ہے۔
یہ دن بھی شاید ویسا ہی تھا۔
ابھی منظر نہیں بدلا تھا۔
ابھی راستہ وہی تھا۔
لیکن دل اب سفر کو پہلے جیسا نہیں دیکھ رہا تھا۔
کبھی انسان منزل کے قریب نہیں ہوتا—
مگر سمجھ کے قریب ہو جاتا ہے۔
اور بعض اوقات
یہی اصل سفر ہوتا ہے۔
شام اور قریب آئی۔
ہوا میں سکون اترنے لگا۔
اور افق نے اپنے رنگ بدلنے شروع کر دیے۔
قافلہ خاموش تھا۔
مگر خاموشی کے اندر ایک عجب وقار تھا۔
جیسے سب جانتے ہوں—
راستہ ابھی باقی ہے،
مگر مقصد ابھی بھی روشن ہے۔
سورج افق کے کنارے تک آ گیا۔
اور چھٹے دن نے آہستہ سے اپنے اندر کہا:
کچھ امتحان راستے میں نہیں آتے—
وہ پہلے انسان کے اندر تیار ہوتے ہیں۔ کچھ دن انسان کو منزل کے قریب نہیں، اپنے آپ کے قریب لے آتے ہیں
رات اتر چکی تھی۔
دن کی روشنی اب افق کے پیچھے جا چکی تھی۔
ریت اپنی تپش آہستہ آہستہ چھوڑ رہی تھی۔
ہوا میں ٹھنڈک تھی۔
اور قافلہ—
وہ ایک اور دن اپنے پیچھے چھوڑ چکا تھا۔
چھ دن۔
چھ دن پہلے جو سفر شروع ہوا تھا
اب اُس کی آواز بدل چکی تھی۔
ابتدا میں سفر صرف راستہ لگتا ہے۔
پھر آہستہ آہستہ انسان کو معلوم ہوتا ہے—
راستے کبھی صرف راستے نہیں ہوتے۔
وہ انسان کے اندر بھی بنتے ہیں۔
چھٹے دن تک پہنچتے پہنچتے
خاموشی اجنبی نہیں رہی تھی۔
انتظار بوجھ نہیں رہا تھا۔
اور وقت—
وہ دشمن نہیں لگ رہا تھا۔
جیسے انسان آہستہ آہستہ قبول کرنا سیکھ رہا ہو
کہ ہر چیز فوراً سمجھ میں نہیں آتی۔
کچھ حقیقتیں
چلتے چلتے روشن ہوتی ہیں۔
یہ دن شاید اسی روشنی کا دن تھا۔
کوئی بڑا واقعہ سامنے نہیں آیا۔
کوئی ظاہری تبدیلی نہیں ہوئی۔
لیکن بعض تبدیلیاں
اتنی خاموش ہوتی ہیں
کہ بعد میں انسان پلٹ کر دیکھتا ہے
تو سمجھتا ہے—
اصل تبدیلی تو اُسی وقت شروع ہوئی تھی۔
رات کی خاموشی میں
انسان اپنے دن کو دوبارہ دیکھتا ہے۔
کیا کھویا؟
کیا پایا؟
کیا سیکھا؟
اور بعض اوقات جواب یہ ہوتا ہے:
میں پہلے جیسا نہیں رہا۔
شاید یہی سفر کی اصل کامیابی ہوتی ہے۔
قافلہ خاموش تھا۔
لیکن خاموشی میں کمزوری نہیں تھی۔
یہ وہ سکون تھا
جو انسان کو اُس وقت ملتا ہے
جب اُسے معلوم ہو—
راستہ لمبا ہے،
لیکن مقصد ابھی بھی روشن ہے۔
کچھ سفر منزل پر ختم نہیں ہوتے۔
وہ انسان کے اندر ہمیشہ کے لیے رہ جاتے ہیں۔
اور شاید یہ سفر بھی ایسا ہی تھا۔
ابھی دن باقی تھے۔
ابھی وقت نے اپنی ساری گرہیں نہیں کھولی تھیں۔
لیکن چھٹے دن نے اتنا ضرور سکھا دیا تھا:
جو لوگ سچ کے ساتھ چلتے ہیں
وہ راستے کو ختم نہیں کرتے—
راستہ اُنہیں یاد رکھتا ہے۔
رات اور گہری ہو گئی۔
ستارے خاموش رہے۔
اور آنے والا دن—
اب پہلے جیسا محسوس نہیں ہونے والا تھا۔

📖 خلاصہ

چھٹے دن کی یہ تحریر اُس مرحلے کو بیان کرتی ہے جہاں سفر اب صرف فاصلے نہیں رہتا بلکہ انسان کے شعور اور باطن کو بدلنے لگتا ہے۔ راستہ وہی ہے مگر محسوس کرنے کا انداز بدل چکا ہے۔ خاموشی گہری ہو جاتی ہے اور …

✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف

منتظم عاصیؔ
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان

اپنی بات

محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و …

مزید پڑھیں ←
منتظم عاصیؔ کی مزید تحریریں
کربلا – دسویں دن مکمل | کچھ دن ضمیر میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں
## کربلا — دسویں دن 10 محرم 1448ھ جب صبح صرف روشنی نہیں لاتی، تاریخ کا ایک با...
کربلا – نواں دن مکمل | کچھ راتیں انسان کے اندر باقی رہتی ہیں
کربلا — نواں دن 9 محرم 1448ھ بعض دن سورج سے نہیں، دل کی دھڑکن سے پہچانے جاتے ...
کربلا – آٹھواں دن مکمل | کچھ راستے انسان کو معنی دے دیتے ہیں
## کربلا — آٹھواں دن 8 محرم 1448ھ کبھی امتحان سامنے آنے سے پہلے دل اُس کی جگہ...
نشہ — انسانیت کا زوال | نشے کے سماجی، نفسیاتی اور انسانی اثرات پر طویل تحقیقی اردو مضمون
## نشہ — انسانیت کا زوال ### باب اوّل جب انسان اپنے آپ سے دور ہونے لگتا ہے ...
مزید متعلقہ نثر
کربلا – پہلا دن مکمل | وہ سفر جو تاریخ بن گیا | محرم خصوصی سلسلہ نمبر 1
کربلا — پہلا دن یکم محرم 1448ھ وہ سفر جو قدموں سے پہلے دل میں شروع ہوا رات م...
کربلا – دسویں دن مکمل | کچھ دن ضمیر میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں
## کربلا — دسویں دن 10 محرم 1448ھ جب صبح صرف روشنی نہیں لاتی، تاریخ کا ایک با...
کربلا – دوسرا دن مکمل | راستے ختم نہیں ہوئے تھے، مگر واپسی پیچھے رہ گئی تھی | سلسلہ 2
## کربلا — دوسرا دن 2 محرم 1448ھ راستہ لمبا تھا مگر خاموشی اُس سے بھی لمبی قاف...
کربلا – آٹھواں دن مکمل | کچھ راستے انسان کو معنی دے دیتے ہیں
## کربلا — آٹھواں دن 8 محرم 1448ھ کبھی امتحان سامنے آنے سے پہلے دل اُس کی جگہ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن