کربلا – دوسرا دن مکمل | راستے ختم نہیں ہوئے تھے، مگر واپسی پیچھے رہ گئی تھی | سلسلہ 2
کربلا — دوسرا دن 2 محرم 1448ھراستہ لمبا تھا مگر خاموشی اُس سے بھی لمبی
قافلہ چل رہا تھا۔
نہ بہت تیز۔نہ بہت آہستہ۔
بس ایسے جیسے کوئی اپنے وقت پر یقین رکھتا ہو۔
پیچھے مدینہ رہ گیا تھا۔
اب سامنے صرف راستہ تھا۔
ریت تھی۔
ہوا تھی۔
اور وہ خاموشی جو سفر کے ابتدائی دنوں میں مسافروں کے ساتھ چلتی ہے۔
سفر کے شروع میں لوگ کم بولتے ہیں۔
شاید اس لیے کہ دل ابھی پچھلی جگہ سے مکمل جدا نہیں ہوتا۔
اور آنے والی منزل ابھی پوری طرح سامنے نہیں آتی۔
یہ بھی ویسا ہی سفر تھا۔
قافلے میں بچے بھی تھے۔
بزرگ بھی۔
اہلِ خانہ بھی۔
ساتھی بھی۔
زندگی ساتھ چل رہی تھی۔
کوئی اُس وقت نہیں جانتا تھا کہ آگے تاریخ انتظار کر رہی ہے۔
ابھی نہ میدان تھا۔
نہ صف بندی۔
نہ پیاس۔
صرف راستہ۔
مگر بعض راستے سیدھے نہیں ہوتے۔
وہ انسان کے اندر سے گزرتے ہیں۔
ہر قدم کے ساتھ سوال بڑھتے ہیں۔
یہ سفر کہاں رکے گا؟
آگے کون ملے گا؟
حالات کیا رخ اختیار کریں گے؟
کیا راستہ بدل جائے گا؟
اور بعض سوالوں کا جواب اُس وقت نہیں ملتا—
وقت خود جواب بن جاتا ہے۔
راستے میں چلتے ہوئے آدمی بہت کچھ سوچتا ہے۔
جو گھر پیچھے رہ گیا۔
جو ذمہ داری ساتھ آ گئی۔
جو فیصلے ہو چکے۔
اور جو فیصلے ابھی باقی ہیں۔
شاید یہی سفر کی اصل آزمائش ہوتی ہے۔
منزل نہیں—
انتظار۔
قافلہ آگے بڑھتا رہا۔
دن گزرتا رہا۔
سورج اوپر چڑھتا رہا۔
ریت گرم ہوتی رہی۔
مگر دلوں میں ایک عجیب سکون تھا۔
وہ سکون جو اُس وقت پیدا ہوتا ہے
جب انسان آسان راستہ نہیں، درست راستہ اختیار کر لے۔
ابھی راستے میں خبر نہیں آئی تھی۔
ابھی دعوتوں کا شور سامنے نہیں آیا تھا۔
ابھی فیصلے باقی تھے۔
لیکن وقت آہستہ آہستہ اپنا دروازہ کھول رہا تھا۔
اور قافلہ—
وہ صرف چل نہیں رہا تھا۔
وہ تاریخ کے قریب جا رہا تھا۔راستے صرف منزلوں تک نہیں جاتے
دن اب آہستہ آہستہ اپنے وسط کی طرف بڑھ رہا تھا۔
سورج اوپر آ چکا تھا۔
زمین گرم ہونے لگی تھی۔
ہوا اب ٹھنڈک نہیں لاتی تھی—
صرف سفر کا احساس دلاتی تھی۔
قافلہ اپنی رفتار سے آگے بڑھ رہا تھا۔
مسافر جانتے تھے—
سفر میں سب سے مشکل چیز ہمیشہ راستہ نہیں ہوتا۔
کبھی سب سے مشکل چیز وہ خاموشی ہوتی ہےجس میں انسان اپنے دل کے ساتھ رہ جاتا ہے۔
مدینہ اب پیچھے رہ گیا تھا۔
مگر بعض شہر فاصلے سے پیچھے نہیں رہتے۔
وہ انسان کے اندر ساتھ چلتے ہیں۔
یادوں کی صورت۔
دعاؤں کی صورت۔
نگاہوں کی صورت۔
اور کبھی کبھی ایک سوال کی صورت۔
راستہ لمبا تھا۔
اور لمبے راستے انسان کو بدل دیتے ہیں۔
پہلے قدم صرف جسم اٹھاتا ہے۔
پھر ایک وقت آتا ہے—
قدم دل اٹھانے لگتا ہے۔
یہ سفر بھی اب ویسا ہونے لگا تھا۔
ہر پڑاؤ کے ساتھ احساس بڑھ رہا تھا کہ آگے کچھ ہے—
جو عام نہیں۔
لیکن وہ کیا ہے؟
یہ ابھی وقت نے ظاہر نہیں کیا تھا۔
دن کے سفر میں انسان بہت کچھ دیکھتا ہے۔
ریت کا ایک سا رنگ۔
آسمان کا ایک سا پھیلاؤ۔
افق کی خاموشی۔
اور پھر اچانک انسان محسوس کرتا ہے—
اصل سفر باہر نہیں، اندر چل رہا ہے۔
جو شخص اصول کے ساتھ نکلتا ہےاُسے راستہ تھکاتا نہیں—
آزماتا ہے۔
اور آزمائش کا مطلب ہمیشہ مصیبت نہیں ہوتا۔
کبھی آزمائش انتظار بھی ہوتی ہے۔
ابھی نہ خط سامنے آئے تھے۔
نہ راستے کی سمت بدلنی تھی۔
نہ فیصلے کا اگلا مرحلہ آیا تھا۔
مگر وقت قریب آ رہا تھا۔
جیسے افق کے پیچھے کوئی منظر تیار ہو رہا ہو۔
قافلہ چلتا رہا۔
بچے بھی ساتھ تھے۔
ساتھی بھی۔
اور وہ یقین بھی—
جو انسان کو اُس وقت ملتا ہےجب وہ جانتا ہو کہ اُس نے اپنی سہولت نہیں، اپنا ضمیر چنا ہے۔
سورج ڈھلنے لگا۔
دن ختم ہونے کی طرف بڑھا۔
مگر سفر—
وہ ابھی شروع ہوا تھا۔
اور بعض سفر پہلے دن نہیں سمجھ آتے۔
وہ تاریخ بننے کے بعد سمجھے جاتے ہیں۔وقت کبھی ایک ساتھ سب کچھ نہیں بتاتا
سفر جاری تھا۔
راستے ویسے ہی تھے۔
ریت ویسی ہی تھی۔
آسمان بھی ویسا ہی تھا۔
لیکن مسافر جانتے ہیں—
کچھ سفر چند میل کے بعد بدل جاتے ہیں۔
اور کچھ سفر انسان کو بدل دیتے ہیں۔
یہ دوسرا دن تھا۔
اب ابتدائی رخصتی کا بوجھ کچھ ہلکا ہوا تھا۔
مگر اُس کی جگہ ایک اور کیفیت آ گئی تھی۔
انتظار۔
انسان جب کسی بڑے مقصد کے ساتھ نکلتا ہےتو ابتدا میں اُسے اپنے فیصلے پر یقین ہوتا ہے۔
لیکن راستہ آہستہ آہستہ سوال پوچھنا شروع کرتا ہے۔
کیا آگے آسانی ہوگی؟
کیا لوگ سمجھیں گے؟
کیا حالات بدلیں گے؟
اور پھر انسان ایک مقام پر پہنچتا ہے—
جہاں وہ جواب تلاش کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
اور صرف اپنے راستے پر قائم رہتا ہے۔
یہی شاید بڑے سفر کی پہلی نشانی ہوتی ہے۔
قافلہ آگے بڑھتا رہا۔
کبھی رفتار کم ہوئی۔
کبھی کچھ دیر توقف ہوا۔
پھر سفر دوبارہ شروع ہو گیا۔
مسافر راستوں سے گزرتے ہیں—
مگر بعض اوقات راستے بھی مسافروں کو یاد رکھتے ہیں۔
شاید اُس وقت زمین نے بھی محسوس کیا ہوگا—
یہ قدم عام قدم نہیں۔
یہ سفر عام سفر نہیں۔
ابھی کسی نے کربلا کا نام زبان پر نہیں لایا تھا۔
ابھی کسی نے میدان کی خاک نہیں دیکھی تھی۔
ابھی کسی نے آخری دن نہیں سوچا تھا۔
صرف اتنا معلوم تھا—
سفر جاری رکھنا ہے۔
کیونکہ بعض فیصلے منزل دیکھ کر نہیں کیے جاتے—
وہ حق دیکھ کر کیے جاتے ہیں۔
سورج آہستہ آہستہ اپنی شدت کھو رہا تھا۔
دن جھکنے لگا۔
ہوا میں تھکن شامل ہونے لگی۔
اور انسان جب تھکتا ہے تو اُس کا دل زیادہ سچ بولتا ہے۔
شاید ایسے لمحوں میں آدمی اپنے فیصلے کو دوبارہ دیکھتا ہے۔
اور اگر اُس کا فیصلہ سچ پر ہو—
تو تھکن اُسے روکتی نہیں۔
مزید مضبوط کر دیتی ہے۔
شام قریب آ رہی تھی۔
راستہ ابھی باقی تھا۔
وقت ابھی خاموش تھا۔
مگر خاموش وقت بھی کبھی ہمیشہ خاموش نہیں رہتا۔جب شام اتری اور راستہ خاموش ہو گیا
شام اتر رہی تھی۔
سورج اب آسمان کے کنارے کی طرف جھکنے لگا تھا۔
دن کی روشنی نرم پڑ رہی تھی۔
ریت جو دوپہر میں تپ رہی تھیاب اپنے اندر ایک عجیب سی ٹھنڈک جمع کرنے لگی۔
قافلہ ابھی چل رہا تھا۔
لیکن سفر کے کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیںجہاں قدم آگے بڑھتے ہیںاور دل کہیں رک جاتا ہے۔
یہ شاید ویسا ہی وقت تھا۔
دن بھر کا راستہ انسان کو صرف تھکاتا نہیں—
وہ اسے سوچنے پر مجبور بھی کرتا ہے۔
جب شور کم ہو جاتا ہےتو دل کی آواز زیادہ سنائی دینے لگتی ہے۔
شام کے وقت سفر میں ایک عجیب اداسی اترتی ہے۔
کیونکہ شام انسان کو یاد دلاتی ہے—
ایک دن ختم ہو گیا۔
اور جو پیچھے رہ گیاوہ واپس نہیں آئے گا۔
قافلہ رکا۔
کچھ دیر کے لیے سکون اترا۔
گرد آہستہ آہستہ بیٹھ گئی۔
جانور بھی خاموش ہو گئے۔
فضا میں وہ کیفیت آ گئی جو صرف لمبے سفر کے بعد محسوس ہوتی ہے۔
ایسے وقت میں لوگ کم بولتے ہیں۔
کچھ آسمان کو دیکھتے ہیں۔
کچھ راستے کو۔
اور کچھ اپنے اندر اتر جاتے ہیں۔
سفر کا دوسرا دن ختم ہونے لگا تھا۔
ابھی کسی کو معلوم نہیں تھا کہ آگے کیا نقش بننے والے ہیں۔
ابھی راستہ اپنا راز چھپائے ہوئے تھا۔
لیکن وقت آہستہ آہستہ اپنی گرہ کھول رہا تھا۔
کبھی انسان منزل کے قریب نہیں ہوتا—
لیکن اُس کی آزمائش قریب آ جاتی ہے۔
اور شاید یہ وہ لمحہ تھاجہاں سفر نے پہلی بار اپنے اندر وزن محسوس کیا۔
مدینہ اب دور ہو چکا تھا۔
اور واپس مڑنے کا تصور بھی آہستہ آہستہ پیچھے رہ رہا تھا۔
جب انسان ایک حد پار کر لیتا ہےتو پھر اُس کے سامنے صرف دو راستے رہ جاتے ہیں—
آگے جانایا اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹ جانا۔
اور بعض لوگ پیچھے ہٹنے کے لیے نہیں نکلتے۔
شام ڈھل گئی۔
آسمان پر خاموشی اتر آئی۔
اور دوسرا دن ختم ہونے لگا۔
مگر آنے والے دن—
اب پہلے جیسے نہیں رہنے والے تھے۔راستے ختم نہیں ہوئے تھے، مگر واپسی پیچھے رہ گئی تھی
رات اتر چکی تھی۔
آسمان خاموش تھا۔
ستارے ویسے ہی تھے جیسے ہر رات ہوتے ہیں۔
لیکن انسان ہر رات ایک جیسا نہیں رہتا۔
بعض دن انسان سے اُس کی تھکن لے لیتے ہیں۔
اور بعض دن اُس سے اُس کی پرانی زندگی۔
یہ دوسرا دن تھا۔
اب سفر صرف چلنے کا نام نہیں رہا تھا۔
اب راستہ انسان کے اندر اترنے لگا تھا۔
مدینہ پیچھے رہ گیا تھا۔
فاصلے بڑھ گئے تھے۔
اور بعض فاصلے صرف میلوں میں نہیں ناپے جاتے—
وہ فیصلوں میں ناپے جاتے ہیں۔
یہ وہ وقت ہوتا ہےجب انسان خاموش بیٹھ کر سوچتا ہے:
جو راستہ اختیار کیا—
کیا اُس پر قائم رہ سکوں گا؟
اور بڑے فیصلے شاید یہی مانگتے ہیں—
پہلے قدم نہیں،
ثابت قدمی۔
رات کے سناٹے میں راستے زیادہ لمبے محسوس ہوتے ہیں۔
ہوا کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے۔
اور انسان کے اندر کے سوال بھی۔
لیکن بعض لوگ ایسے ہوتے ہیںجو ہر سوال کا جواب پہلے سے نہیں رکھتے—
وہ صرف یہ جانتے ہیں کہ سچ کا راستہ آسان نہیں ہوتا۔
یہ دوسرا دن ختم ہونے کو تھا۔
ابھی نہ کربلا سامنے تھی۔
نہ میدان۔
نہ تشنگی۔
نہ وہ آخری آزمائشیں جنہیں تاریخ بعد میں یاد کرے گی۔
لیکن ایک چیز شروع ہو چکی تھی۔
دل کا سفر۔
اور دل کے سفر کی منزل نقشوں پر نہیں ہوتی۔
وہ انسان کے موقف میں لکھی جاتی ہے۔
راستہ ابھی باقی تھا۔
دن ابھی باقی تھے۔
بہت سے چہرے ابھی اپنی تاریخ لکھنے والے تھے۔
بہت سے لمحے ابھی آنے تھے۔
لیکن دوسرے دن کی رات نے شاید اتنا سکھا دیا تھا:
کہ ہر وہ سفر جو اصول کے لیے شروع ہو—
وہ کبھی معمولی نہیں رہتا۔
رات گزر گئی۔
اور آنے والا دن—
اپنے ساتھ صرف سورج نہیں لانے والا تھا۔
دوسرے دن کی یہ نثری تحریر سفر کے ظاہری مناظر سے زیادہ اُس داخلی کیفیت کو بیان کرتی ہے جو بڑے فیصلوں کے بعد انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ مدینہ پیچھے رہ جاتا ہے مگر اُس کی یاد ساتھ چلتی ہے۔ راستہ لمبا ہے…
✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف
اپنی بات
محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و …



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!