اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
خضر احمد خان شررؔ اتوار، 24 مئی 2026
👁 13 ❤️ 1
کتابوں سے جی ہم لگانے لگے ہیں
نئے لفظ کاغذ پہ آنے لگے ہیں
ندی کے کنارے بتانے لگے ہیں
پرندے کہیں اور جانے لگے ہیں
پرانے شجر تو پرانے لگے ہیں
نئے پودے سر اب اُٹھانے لگے ہیں
ہمارے دلوں میں خلش آ گئی ہے
تعلق مگر ہم نبھانے لگے ہیں
تری روشنی رکھ ترے پاس سورج
اندھیروں میں ہم جگمگانے لگے ہیں
نہیں دل پہ قابو نہیں آج اُن کا
مرے بازؤوں میں سمانے لگے ہیں
نہیں کوئی ان کا ٹھکانہ نہیں ہے
ٹھکانے ہی سارے ٹھکانے لگے ہیں
📖 خلاصہ

یہ خوبصورت اور فکری غزل خضر احمد خان شر کی تخلیق ہے، جس میں تبدیلی، شعور، محبت اور خود اعتمادی کے مختلف پہلو نہایت دلنشین انداز میں بیان ہوئے ہیں۔ شاعر ابتدا میں علم و ادب کی طرف رجحان کو ظاہر کرتا ہ…

← پچھلا اگلا →

✍️ خضر احمد خان شررؔ — مختصر تعارف

خضر احمد خان شررؔ
📍 پربھنی، مہاراشٹر، ہندوستان

خضر احمد خان شررؔ عصرِ حاضر کے اُن سنجیدہ اور باوقار شعراء میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اردو ادب کی مختلف اصناف میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا کامیاب اظہار کیا ہے۔ آپ کا اصل نام خضر احمد خان جبکہ قلمی نام شررؔ ہے۔ آپ 9 فروری 1970ء کو پیدا ہوئے اور اعلیٰ تعلیم کے طور پر ایم۔اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔
ادب سے شغف نے آپ کو شعر و سخن کی دنیا کی طرف متوجہ کیا اور سن 2000ء میں باقاعدہ طور پر طبع آزمائی کا آغاز …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

خضر احمد خان شررؔ کی مزید
مر گئے ہم سبو سبو کر کے اس سے ملنے کی آرزو کر کے جا چکا ہے وہ گفتگو کر کے چاک س...
ہنستے ہنستے رلا دیا مجھ کو اس نے پاگل بنا دیا مجھ کو منزل ِ شاد کا...
کتابوں سے جی ہم لگانے لگے ہیں نئے لفظ کاغذ پہ آنے لگے ہیں ندی کے کنارے بتانے ...
مبارک تمھیں زندگی کے اجالے چلے , ہم نہیں لوٹ کر آنے والے مرے لب سے چھینے ہیں جِس نے نوالے حو...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن