افسانچہ
سیڑھی
علیم طاہرؔ
ہفتہ، 23 مئی 2026
👁 7
❤️ 1
وہ کامیاب آدمی بن چکا تھا۔
اب اسے پرانے لوگ یاد نہیں تھے۔
ایک دن اُس نے اپنی پرانی بوسیدہ بستی دیکھی اور منہ بنا لیا۔
ساتھ کھڑے بوڑھے نے مسکرا کر کہا:
"بیٹا…
جن سیڑھیوں سے اوپر چڑھو
اُنہیں کبھی حقارت سے نہیں دیکھتے۔"
وہ خاموش ہوگیا۔
کیونکہ
اُسے اپنی پہلی سیڑھی یاد آگئی تھی۔
علیم طاہرؔ کی مزید تحریریں
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
## ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب
### ایک ایسا شاعر جس کے...
چراغِ آخر
بوڑھا شاعر اپنی آخری نظم لکھ رہا تھا۔
بیٹے نے پوچھا:
"اب اس عمر میں کیوں ...
بند کتاب
بوڑھا استاد روز اپنی پرانی کتابیں صاف کرتا تھا۔
بیٹے نے کہا:
"اب اِنہیں ک...
آئس کریم
چھوٹا بچہ آئس کریم والے کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔
ایک اجنبی نے اُسے آئس کریم خری...
مزید متعلقہ نثر
پودا
باپ روز پودے کو پانی دیتا تھا۔
بیٹا ہنستا:
"اتنی محنت ایک چھوٹے پودے کیلئ...
گھڑی
بیٹا اپنے باپ کیلئے مہنگی گھڑی لایا۔
باپ نے خوش ہوکر پوچھا:
"وقت بھی دو گ...
آخری نوالہ
گھر میں صرف ایک روٹی بچی تھی۔
ماں نے کہا:
"مجھے بھوک نہیں۔"
باپ بول...
پرچھائیاں
شام ڈھل رہی تھی۔
باپ اور بیٹا ساتھ چل رہے تھے۔
بیٹا بولا:
"ابو! میری پرچ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!