اشتہار
اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
دوہا

منتظم عاصیؔ کا دوہا | جڑ جائے سوکھ، بھید بھرم چھل کپٹ سَمُوہ

منتظم عاصیؔ پیر، 4 مئی 2026
👁 42 ❤️ 3
جڑ جائے سوکھ، بھید بھرم چھل کپٹ سَمُوہ
کٹھنائی کاہے ڈھوئے شِرا پاپ لاگے لاج
📖 خلاصہ

یہ دوہا انسان کے اندر موجود فریب، چھل، کپٹ اور پوشیدہ برائیوں کے انجام کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ شاعر بتاتا ہے کہ جب انسان کے کردار میں خود غرضی، دھوکا اور غلط رویے جڑ پکڑ لیں تو زندگی کی حقیقی خوشی اور سکون متاثر ہونے لگتے ہیں۔ کٹھنائیوں کا بوجھ اٹھانا اور گناہ کے راستے پر چلنا انسان کی عزت اور حیا کو بھی مجروح کرتا ہے۔

📚 ادبی جائزہ

دوہے میں قدیم ہندی و برج آمیز لفظیات کا رنگ نمایاں ہے۔ "بھید بھرم"، "چھل کپٹ"، "کٹھنائی"، "پاپ" اور "لاج&…

دوہے میں قدیم ہندی و برج آمیز لفظیات کا رنگ نمایاں ہے۔ "بھید بھرم"، "چھل کپٹ"، "کٹھنائی"، "پاپ" اور "لاج" جیسے الفاظ اسے روایتی دوہا اسلوب سے جوڑتے ہیں۔ مختصر شعری قالب میں شاعر نے اخلاقی نصیحت کو مؤثر انداز سے پیش کیا ہے۔

🖋️ تنقیدی جائزہ

شاعر نے براہِ راست وعظ کرنے کے بجائے برائیوں کے مجموعے اور ان کے نتائج کو سامنے رکھ کر اصلاحی مفہوم پیدا کیا ہے۔ دوہے میں انسانی کردار کے باطن اور اس …

شاعر نے براہِ راست وعظ کرنے کے بجائے برائیوں کے مجموعے اور ان کے نتائج کو سامنے رکھ کر اصلاحی مفہوم پیدا کیا ہے۔ دوہے میں انسانی کردار کے باطن اور اس کے عملی نتائج کے درمیان تعلق قائم کیا گیا ہے۔ اس کا لہجہ تنبیہی بھی ہے اور اصلاحی بھی۔

✦ مرکزی خیال

اس دوہے کا مرکزی خیال چھل، کپٹ اور گناہ سے بچنے اور پاکیزہ کردار اختیار کرنے کی تلقین ہے۔ شاعر کے نزدیک فریب اور برائی انسان کے لیے کٹھنائی، بے سکونی …

اس دوہے کا مرکزی خیال چھل، کپٹ اور گناہ سے بچنے اور پاکیزہ کردار اختیار کرنے کی تلقین ہے۔ شاعر کے نزدیک فریب اور برائی انسان کے لیے کٹھنائی، بے سکونی اور شرمندگی کا باعث بنتے ہیں، اس لیے سچائی اور اخلاقی پاکیزگی کو اختیار کرنا ضروری ہے۔

✦ شعر بہ شعر تشریح

مشکل الفاظ
جڑ جائے: مضبوطی سے قائم ہو جائے، گہری جگہ بنا لے۔
سوکھ: سکھ، خوشی، سکون۔
بھید: راز، پوشیدہ بات۔
بھرم: دھوکا، غلط فہمی، فریب۔
چھل: دھوک…

مشکل الفاظ

جڑ جائے: مضبوطی سے قائم ہو جائے، گہری جگہ بنا لے۔
سوکھ: سکھ، خوشی، سکون۔
بھید: راز، پوشیدہ بات۔
بھرم: دھوکا، غلط فہمی، فریب۔
چھل: دھوکا، مکاری۔
کپٹ: دل میں کھوٹ، فریب، دھوکا دہی۔
سموہ: مجموعہ، گروہ، اکٹھ۔
کٹھنائی: مشکل، پریشانی۔
کاہے: کیوں، کس لیے۔
ڈھوئے: اٹھائے، برداشت کرے۔
پاپ: گناہ، برا عمل۔
لاج: حیا، عزت، شرمندگی۔

تشریح

شاعر انسان کو خبردار کرتا ہے کہ اگر اس کے اندر فریب، بھرم، چھل اور کپٹ جیسی برائیاں مضبوطی سے جگہ بنا لیں تو اس کی زندگی کا سکون متاثر ہو جاتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں ایسی برائیوں کو جگہ نہ دے، کیونکہ غلط اعمال بالآخر مشکلات، پریشانی اور شرمندگی کا سبب بنتے ہیں۔
مرکزی مفہوم
اس دوہے کا مرکزی مفہوم چھل، کپٹ اور گناہ سے بچ کر سچائی، پاکیزگی اور اچھے کردار کو اختیار کرنا ہے۔ شاعر سمجھاتا ہے کہ برائیوں کو دل میں جگہ دینا انسان کے لیے سکون کے بجائے مشکلات اور شرمندگی پیدا کرتا ہے۔

مکمل تشریح

اس دوہے میں شاعر نے انسانی کردار کی ان خرابیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جو بظاہر معمولی محسوس ہوتی ہیں، لیکن آہستہ آہستہ انسان کی شخصیت میں گہری جگہ بنا لیتی ہیں۔ "بھید، بھرم، چھل، کپٹ" ایسے رویوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن میں سچائی کے بجائے فریب، مکاری اور دل کا کھوٹ شامل ہوتا ہے۔
شاعر کا انداز تنبیہی ہے۔ وہ گویا انسان سے سوال کرتا ہے کہ جب زندگی میں ایسی برائیاں جڑ پکڑ لیں تو پھر انسان ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کٹھنائیوں کا بوجھ کیوں اٹھائے؟ غلط کام وقتی فائدہ یا خوشی دے سکتے ہیں، لیکن ان کا انجام اکثر پریشانی، بے سکونی اور شرمندگی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
آخری حصے میں "پاپ لاگے لاج" کے ذریعے شاعر گناہ اور شرمندگی کے تعلق کو واضح کرتا ہے۔ انسان جب غلط عمل کرتا ہے تو اس کی عزت، حیا اور باطن کا سکون متاثر ہوتا ہے۔ اس لیے بہتر راستہ یہ ہے کہ انسان اپنے کردار کو فریب اور برائی سے پاک رکھے اور سچائی و نیکی کو اختیار کرے۔

مجموعی تاثر

یہ دوہا ایک اصلاحی اور اخلاقی پیغام رکھتا ہے۔ شاعر نے مختصر مگر مؤثر انداز میں انسان کو اس بات کی طرف متوجہ کیا ہے کہ چھل، کپٹ اور فریب کو اپنی شخصیت کا حصہ نہ بننے دیا جائے۔ اچھا کردار ہی حقیقی سکون اور عزت کا ذریعہ ہے، جبکہ گناہ اور بداعمالی بالآخر انسان کے لیے کٹھنائی اور شرمندگی کا سبب بنتی ہے۔

✦ فنی محاسن

اختصار، نصیحت آمیز اسلوب، قدیم لفظیات، صوتی آہنگ، معنوی ربط، اخلاقی طنز اور برائیوں کی مسلسل فہرست کے ذریعے ایک جامع تاثر پیدا کرنا اس دوہے کے نمایاں …

اختصار، نصیحت آمیز اسلوب، قدیم لفظیات، صوتی آہنگ، معنوی ربط، اخلاقی طنز اور برائیوں کی مسلسل فہرست کے ذریعے ایک جامع تاثر پیدا کرنا اس دوہے کے نمایاں فنی محاسن ہیں۔

✦ علامت نگاری

"بھید" پوشیدہ حقیقت یا راز کی علامت ہے، "بھرم" ظاہری فریب یا غلط تصور کی طرف اشارہ کرتا ہے، جبکہ "چھل کپٹ" اخلاقی کمزوری…

"بھید" پوشیدہ حقیقت یا راز کی علامت ہے، "بھرم" ظاہری فریب یا غلط تصور کی طرف اشارہ کرتا ہے، جبکہ "چھل کپٹ" اخلاقی کمزوری اور دھوکے کی علامت ہیں۔ "پاپ" گناہ اور "لاج" عزت، حیا اور شرمندگی کے احساس کی علامت بن کر آتے ہیں۔

✦ استعارات و تشبیہات

"برائیوں کا جڑ جانا" ایک استعاراتی تصور ہے، جس میں اخلاقی خرابیوں کو پودے یا درخت کی جڑوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اس سے یہ مفہوم پیدا ہوتا ہے کہ…

"برائیوں کا جڑ جانا" ایک استعاراتی تصور ہے، جس میں اخلاقی خرابیوں کو پودے یا درخت کی جڑوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اس سے یہ مفہوم پیدا ہوتا ہے کہ بری عادتیں اگر ابتدا ہی میں نہ روکی جائیں تو شخصیت میں گہری جڑیں بنا لیتی ہیں۔

✦ شاعر کے فکری زاویے

منتظم عاصیؔ اس دوہے میں انسانی کردار کی اصلاح کو اہمیت دیتے ہیں۔ شاعر کا فکری زاویہ یہ ہے کہ فریب اور بداعمالی وقتی طور پر فائدہ دے سکتی ہے، مگر بالآخ…

منتظم عاصیؔ اس دوہے میں انسانی کردار کی اصلاح کو اہمیت دیتے ہیں۔ شاعر کا فکری زاویہ یہ ہے کہ فریب اور بداعمالی وقتی طور پر فائدہ دے سکتی ہے، مگر بالآخر انسان کے لیے مشکلات اور شرمندگی پیدا کرتی ہے۔ اس کے مقابل سچائی اور پاکیزگی بہتر راستہ ہیں۔

✦ آج کے دور میں غزل کی معنویت

موجودہ دور میں بھی جھوٹ، دھوکا، فریب اور خود غرضی انسانی تعلقات کو متاثر کرتے ہیں۔ ایسے ماحول میں یہ دوہا انسان کو اپنے کردار کا جائزہ لینے اور اخلاقی…

موجودہ دور میں بھی جھوٹ، دھوکا، فریب اور خود غرضی انسانی تعلقات کو متاثر کرتے ہیں۔ ایسے ماحول میں یہ دوہا انسان کو اپنے کردار کا جائزہ لینے اور اخلاقی اصولوں کو مضبوط رکھنے کی دعوت دیتا ہے، اس لیے اس کی اصلاحی معنویت آج بھی برقرار ہے۔

← پچھلا اگلا →

✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف

منتظم عاصیؔ
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان

## شخصیت، ادبی سفر اور شعری خدمات
منتظم عاصی کا شمار ان اہلِ قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے شعر و ادب کی دنیا میں کسی باقاعدہ ادبی ادارے یا رسمی تربیتی سلسلے کے سہارے کے بجائے اپنے شوق، مطالعے، مسلسل مشق، اساتذہ کی رہنمائی اور غیر معمولی جنونِ سخن کے ذریعے اپنا راستہ بنایا۔ ان کا ادبی سفر محض شاعری تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ایسے شخص کی داستان ہے جس نے زندگی کے مختلف نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے اپنے اندر …

مزید پڑھیں ←
منتظم عاصیؔ کی مزید
سجدۂ دوام** معروف شاعر **منتظم عاصیؔ** کا ایک منفرد نعتیہ و منقبتی شعری مجموعہ ہے جس میں عشقِ الٰہی...
خود سے خود کو ہے بنایا، اے سارے جہاں کے والی، اللہ ھو خود کو تونے ہے چھپایا، اے پردہ کئے خود عالی، ا...
کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے دنیا انسانوں سے خالی ہے اور میں اکیلا تنہائی کی تلاش میں بھٹک رہا ہوں کو...
"حرفِ عظیم میم" منتظم عاصیؔ کی نعتیہ و منقبتی شاعری کا مجموعہ ہے، جس میں حضور نبی کریم ﷺ ا...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن