انتظار، بارش
بارش ہورہی تھی گھر میں بیٹھا بارش بند ہونے کا انتظار کر رہا تھا مجھے کہیں کام سے ارجنٹ جانا تھا پر بارش نے مجھے روکے رکھا تھا میرا ذہن منتشر تھا کبھی کہتا بھیگتے ہوئے چلا جاؤں کبھی کہتا تھوڑا انتظار کر لوں اسی کشمکش میں وقت کو گزارنا بھی مشکل تھا میں نے اپنا موبائل لیا اس میں کچھ میسج تھے اسے پڑھنے لگا جہاں جواب دینے کی ضرورت تھی وہاں جواب دے رہا تھا کچھ ہی منٹوں میں یہ بھی ختم ہوگیا پھر میں نے موبائل کو پاس میں رکھ دیا سگریٹ نکال کر جلائی ایک دو کش کے ساتھ ذہن نے میری قلم کے دروازے پر دستک دیا قلم نے دروازہ کھول کر جو دیکھتی ہے اسے تحریر کرتی ہے اور وہ یہ تھا
کہیں پر رات قابض ہے کہیں قابض سویرا ہے
کہیں تارے کہیں سورج کہیں پر چاند ٹھہرا ہے
✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف
اپنی بات
محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و …



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!