پیر سید نصیر الدین نصیرؔ چ
(پیر سید نصیر الدین نصیرؔ چ)
📍 گولڑہ شریف 🎂 پیر، 14 نومبر 1949 🕯️ جمعہ، 13 فروری 2009
6
کلام
0
پسند
60
مطالعہ
📖 تعارف
پیر سید نصیر الدین نصیرؔ چشتی — حیات و خدمات
پیر سید نصیر الدین نصیرؔ چشتی برصغیر کی اُن نابغۂ روزگار شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے علم، ادب، تصو…
پیر سید نصیر الدین نصیرؔ چشتی برصغیر کی اُن نابغۂ روزگار شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے علم، ادب، تصو…
پیر سید نصیر الدین نصیرؔ چشتی — حیات و خدمات
پیر سید نصیر الدین نصیرؔ چشتی برصغیر کی اُن نابغۂ روزگار شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے علم، ادب، تصوف، خطابت اور تحقیق کے میدان میں یکساں عظمت حاصل کی۔ وہ ایک باکمال شاعر، صاحبِ طرز ادیب، بلند پایہ محقق، مؤثر خطیب، جید عالمِ دین اور سلسلۂ قادریہ و چشتیہ کے ممتاز روحانی پیشوا تھے۔ ان کی ذات میں خانقاہ کی روحانیت، مدرسے کا علم، منبر کی خطابت اور ادب کی لطافت ایک ساتھ جمع ہوگئی تھی۔ اسی ہمہ جہت شخصیت کے باعث وہ اپنے عہد کی ایک منفرد علمی و روحانی شناخت بن گئے۔
آپ کا اصل نام پیر سید غلام نصیر الدین نصیر گیلانی تھا۔ آپ 14 نومبر 1949ء کو گولڑہ شریف میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق اُس علمی و روحانی خانوادے سے تھا جس نے برصغیر میں دینِ اسلام، عشقِ رسول ﷺ اور تصوف کی ترویج میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ پیر غلام معین الدین گیلانی المعروف بڑے لالہ جی کے صاحبزادے، پیر غلام محی الدین گیلانی کے پوتے اور عظیم صوفی بزرگ پیر مہر علی شاہ کے پڑپوتے تھے۔ بعد ازاں آپ گولڑہ شریف دربار کے سجادہ نشین مقرر ہوئے اور ہزاروں عقیدت مندوں کی روحانی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے رہے۔
پیر نصیر الدین نصیرؔ کو بچپن ہی سے دینی علوم، عربی و فارسی ادب، تفسیر، حدیث، فقہ، منطق اور تصوف سے گہرا شغف تھا۔ انہوں نے اپنے خاندانی علمی ماحول میں تعلیم حاصل کی اور کم عمری ہی میں علم و ادب کے میدان میں اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا اظہار شروع کردیا۔ ان کی گفتگو میں علم کی گہرائی، استدلال کی قوت اور صوفیانہ محبت کی خوشبو یکجا محسوس ہوتی تھی۔
ادبی اعتبار سے پیر صاحب ایک ہمہ گیر تخلیق کار تھے۔ اردو، فارسی، پنجابی، عربی، سرائیکی، ہندی اور پوربی زبانوں میں شاعری کرنے کی وجہ سے انہیں "شاعرِ ہفت زبان" کے لقب سے شہرت حاصل ہوئی۔ ان کی شاعری میں عشقِ رسول ﷺ، محبتِ اہلِ بیت، تصوف، انسان دوستی، اخلاقی اقدار اور روحانی وارداتوں کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ وہ غزل، نعت، منقبت، قصیدہ، رباعی، سلام، مرثیہ اور نظم سمیت تقریباً تمام اصنافِ سخن پر قدرت رکھتے تھے۔ فارسی زبان میں ان کی رباعیات کو خاص مقام حاصل ہے اور اہلِ علم نے ان کے فارسی کلام کو کلاسیکی فارسی روایت کا تسلسل قرار دیا ہے۔
بطورِ مصنف بھی آپ کی خدمات بے مثال ہیں۔ آپ نے تصوف، عقائد، فقہ، سیرت، اسلامی فکر اور ادبیات کے مختلف موضوعات پر تیس سے زائد کتب یادگار چھوڑیں۔ "آغوشِ حیرت"، "پیمانِ شب"، "دین ہمہ اُوست"، "رنگِ نظام"، "عرشِ ناز"، "فیضِ نسبت"، "لفظ اللہ کی تحقیق"، "کیا ابلیس عالم تھا؟"، "موازنہ علم و کرامت"، "اسلام میں شاعری کی حیثیت" اور "امام ابو حنیفہؒ اور ان کا طرزِ استدلال" جیسی تصانیف ان کی علمی بصیرت اور تحقیقی ژرف نگاہی کی روشن مثالیں ہیں۔
پیر نصیر الدین نصیرؔ ایک بلند پایہ خطیب بھی تھے۔ ان کے خطابات میں قرآن و سنت کی روشنی، صوفیانہ حکمت اور عصری مسائل کا متوازن شعور نمایاں ہوتا تھا۔ پاکستان کے علاوہ یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر ممالک میں بھی ان کے علمی و روحانی اجتماعات منعقد ہوتے رہے۔ ان کا پیغام محبت، رواداری، اتحادِ امت اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ پر مبنی تھا۔
13 فروری 2009ء کو یہ آفتابِ علم و عرفان غروب ہوگیا۔ آپ کے وصال کی خبر نے علمی، ادبی اور روحانی حلقوں کو سوگوار کردیا۔ ہزاروں عقیدت مندوں کی موجودگی میں آپ کی تدفین گولڑہ شریف میں ہوئی۔ آج بھی آپ کا مزار مرجعِ خلائق ہے جہاں زائرین عقیدت و محبت کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں۔
مختصر کوائف
نام: پیر سید غلام نصیر الدین نصیر گیلانیؔ
مشہور نام: پیر نصیر الدین نصیرؔ چشتی
لقب: شاعرِ ہفت زبان
ولادت: 14 نومبر 1949ء، گولڑہ شریف
والد: پیر سید غلام معین الدین گیلانی (بڑے لالہ جی)
سلسلہ: قادریہ و چشتیہ
پیشہ: عالمِ دین، صوفی، شاعر، مصنف، خطیب، محقق
زبانیں: اردو، فارسی، عربی، پنجابی، سرائیکی، ہندی، پوربی
وصال: 13 فروری 2009ء
مدفن: گولڑہ شریف
مشہور اشعار
کوئی نہیں ہے دونوں جہاں میں جو میری بگڑی سنوار دے
مجھے یاں سے واں کی خبر نہیں، میرے مصطفیٰؐ مجھے وار دے
دل کے آئینے میں ہے تصویرِ یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی
وہی خدا ہے، وہی مصطفیٰؐ کا رب بھی ہے
وہی خدا ہے، مگر مصطفیٰؐ سے پیار بھی ہے
میری ہستی بھی چراغِ رہِ عرفاں نکلی
میں جسے خاک سمجھتا تھا وہ سونا نکلی
مدینے کی ہواؤں میں عجب تاثیر دیکھی ہے
جہاں پہنچے وہاں دل نے نئی تنویر دیکھی ہے
پیر نصیر الدین نصیرؔ چشتی کی شخصیت علم و عشق، شریعت و طریقت اور ادب و روحانیت کا ایسا حسین سنگم تھی جس کی مثال عصرِ حاضر میں کم دکھائی دیتی ہے۔ ان کا علمی سرمایہ، شعری ورثہ اور روحانی فیضان آج بھی اہلِ علم، اہلِ دل اور محبانِ رسول ﷺ کے لیے سرچشمۂ ہدایت ہے۔
پیر سید نصیر الدین نصیرؔ چشتی برصغیر کی اُن نابغۂ روزگار شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے علم، ادب، تصوف، خطابت اور تحقیق کے میدان میں یکساں عظمت حاصل کی۔ وہ ایک باکمال شاعر، صاحبِ طرز ادیب، بلند پایہ محقق، مؤثر خطیب، جید عالمِ دین اور سلسلۂ قادریہ و چشتیہ کے ممتاز روحانی پیشوا تھے۔ ان کی ذات میں خانقاہ کی روحانیت، مدرسے کا علم، منبر کی خطابت اور ادب کی لطافت ایک ساتھ جمع ہوگئی تھی۔ اسی ہمہ جہت شخصیت کے باعث وہ اپنے عہد کی ایک منفرد علمی و روحانی شناخت بن گئے۔
آپ کا اصل نام پیر سید غلام نصیر الدین نصیر گیلانی تھا۔ آپ 14 نومبر 1949ء کو گولڑہ شریف میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق اُس علمی و روحانی خانوادے سے تھا جس نے برصغیر میں دینِ اسلام، عشقِ رسول ﷺ اور تصوف کی ترویج میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ پیر غلام معین الدین گیلانی المعروف بڑے لالہ جی کے صاحبزادے، پیر غلام محی الدین گیلانی کے پوتے اور عظیم صوفی بزرگ پیر مہر علی شاہ کے پڑپوتے تھے۔ بعد ازاں آپ گولڑہ شریف دربار کے سجادہ نشین مقرر ہوئے اور ہزاروں عقیدت مندوں کی روحانی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے رہے۔
پیر نصیر الدین نصیرؔ کو بچپن ہی سے دینی علوم، عربی و فارسی ادب، تفسیر، حدیث، فقہ، منطق اور تصوف سے گہرا شغف تھا۔ انہوں نے اپنے خاندانی علمی ماحول میں تعلیم حاصل کی اور کم عمری ہی میں علم و ادب کے میدان میں اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا اظہار شروع کردیا۔ ان کی گفتگو میں علم کی گہرائی، استدلال کی قوت اور صوفیانہ محبت کی خوشبو یکجا محسوس ہوتی تھی۔
ادبی اعتبار سے پیر صاحب ایک ہمہ گیر تخلیق کار تھے۔ اردو، فارسی، پنجابی، عربی، سرائیکی، ہندی اور پوربی زبانوں میں شاعری کرنے کی وجہ سے انہیں "شاعرِ ہفت زبان" کے لقب سے شہرت حاصل ہوئی۔ ان کی شاعری میں عشقِ رسول ﷺ، محبتِ اہلِ بیت، تصوف، انسان دوستی، اخلاقی اقدار اور روحانی وارداتوں کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ وہ غزل، نعت، منقبت، قصیدہ، رباعی، سلام، مرثیہ اور نظم سمیت تقریباً تمام اصنافِ سخن پر قدرت رکھتے تھے۔ فارسی زبان میں ان کی رباعیات کو خاص مقام حاصل ہے اور اہلِ علم نے ان کے فارسی کلام کو کلاسیکی فارسی روایت کا تسلسل قرار دیا ہے۔
بطورِ مصنف بھی آپ کی خدمات بے مثال ہیں۔ آپ نے تصوف، عقائد، فقہ، سیرت، اسلامی فکر اور ادبیات کے مختلف موضوعات پر تیس سے زائد کتب یادگار چھوڑیں۔ "آغوشِ حیرت"، "پیمانِ شب"، "دین ہمہ اُوست"، "رنگِ نظام"، "عرشِ ناز"، "فیضِ نسبت"، "لفظ اللہ کی تحقیق"، "کیا ابلیس عالم تھا؟"، "موازنہ علم و کرامت"، "اسلام میں شاعری کی حیثیت" اور "امام ابو حنیفہؒ اور ان کا طرزِ استدلال" جیسی تصانیف ان کی علمی بصیرت اور تحقیقی ژرف نگاہی کی روشن مثالیں ہیں۔
پیر نصیر الدین نصیرؔ ایک بلند پایہ خطیب بھی تھے۔ ان کے خطابات میں قرآن و سنت کی روشنی، صوفیانہ حکمت اور عصری مسائل کا متوازن شعور نمایاں ہوتا تھا۔ پاکستان کے علاوہ یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر ممالک میں بھی ان کے علمی و روحانی اجتماعات منعقد ہوتے رہے۔ ان کا پیغام محبت، رواداری، اتحادِ امت اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ پر مبنی تھا۔
13 فروری 2009ء کو یہ آفتابِ علم و عرفان غروب ہوگیا۔ آپ کے وصال کی خبر نے علمی، ادبی اور روحانی حلقوں کو سوگوار کردیا۔ ہزاروں عقیدت مندوں کی موجودگی میں آپ کی تدفین گولڑہ شریف میں ہوئی۔ آج بھی آپ کا مزار مرجعِ خلائق ہے جہاں زائرین عقیدت و محبت کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں۔
مختصر کوائف
نام: پیر سید غلام نصیر الدین نصیر گیلانیؔ
مشہور نام: پیر نصیر الدین نصیرؔ چشتی
لقب: شاعرِ ہفت زبان
ولادت: 14 نومبر 1949ء، گولڑہ شریف
والد: پیر سید غلام معین الدین گیلانی (بڑے لالہ جی)
سلسلہ: قادریہ و چشتیہ
پیشہ: عالمِ دین، صوفی، شاعر، مصنف، خطیب، محقق
زبانیں: اردو، فارسی، عربی، پنجابی، سرائیکی، ہندی، پوربی
وصال: 13 فروری 2009ء
مدفن: گولڑہ شریف
مشہور اشعار
کوئی نہیں ہے دونوں جہاں میں جو میری بگڑی سنوار دے
مجھے یاں سے واں کی خبر نہیں، میرے مصطفیٰؐ مجھے وار دے
دل کے آئینے میں ہے تصویرِ یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی
وہی خدا ہے، وہی مصطفیٰؐ کا رب بھی ہے
وہی خدا ہے، مگر مصطفیٰؐ سے پیار بھی ہے
میری ہستی بھی چراغِ رہِ عرفاں نکلی
میں جسے خاک سمجھتا تھا وہ سونا نکلی
مدینے کی ہواؤں میں عجب تاثیر دیکھی ہے
جہاں پہنچے وہاں دل نے نئی تنویر دیکھی ہے
پیر نصیر الدین نصیرؔ چشتی کی شخصیت علم و عشق، شریعت و طریقت اور ادب و روحانیت کا ایسا حسین سنگم تھی جس کی مثال عصرِ حاضر میں کم دکھائی دیتی ہے۔ ان کا علمی سرمایہ، شعری ورثہ اور روحانی فیضان آج بھی اہلِ علم، اہلِ دل اور محبانِ رسول ﷺ کے لیے سرچشمۂ ہدایت ہے۔
ابھی کوئی کتاب نہیں


