جاں نثار اختر
(جاں نثار اختر)
📍 گوالیار ، ہند 🎂 بدھ، 18 فروری 1914 🕯️ جمعرات، 19 اگست 1976
12
کلام
7
پسند
509
مطالعہ
📖 تعارف
جاں نثار اختر: محبت، فکر اور فن کا درخشاں استعارہ
اردو ادب کی بیسویں صدی کئی ایسے نامور شعرا سے مزین ہے جنہوں نے اپنے عہد کے جذبات، خوابوں اور سماجی …
اردو ادب کی بیسویں صدی کئی ایسے نامور شعرا سے مزین ہے جنہوں نے اپنے عہد کے جذبات، خوابوں اور سماجی …
جاں نثار اختر: محبت، فکر اور فن کا درخشاں استعارہ
اردو ادب کی بیسویں صدی کئی ایسے نامور شعرا سے مزین ہے جنہوں نے اپنے عہد کے جذبات، خوابوں اور سماجی شعور کو الفاظ کا پیکر عطا کیا۔ ان ہی ممتاز شخصیات میں سید جاں نثار حسین رضوی، جو ادبی دنیا میں جاں نثار اختر کے نام سے معروف ہیں، ایک نہایت اہم مقام رکھتے ہیں۔ وہ ایسے شاعر تھے جن کی شاعری میں محبت کی لطافت، انسان دوستی کا جذبہ اور ترقی پسند فکر کی حرارت یکجا ہو کر ایک منفرد آہنگ پیدا کرتی ہے۔ ان کی تخلیقات نہ صرف اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں بلکہ برصغیر کی فلمی دنیا بھی ان کے لازوال نغموں سے ہمیشہ فیض یاب ہوتی رہے گی۔
جاں نثار اختر 18 فروری 1914ء کو گوالیار میں ایک ایسے علمی و ادبی خانوادے میں پیدا ہوئے جس کی شناخت علم، ادب اور شاعری تھی۔ ان کے والد مضطر خیرآبادی اپنے دور کے معروف شاعر تھے، جبکہ دادا مولانا فضلِ حق خیرآبادی برصغیر کے جلیل القدر عالم، فلسفی اور صاحبِ قلم شخصیت کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ ایسے ماحول نے بچپن ہی سے ان کے ذوقِ ادب کو جلا بخشی اور انہیں شعر و سخن کی دنیا کی جانب راغب کیا۔
ابتدائی تعلیم گوالیار میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ علی گڑھ کا علمی اور فکری ماحول ان کی شخصیت سازی میں نہایت اہم ثابت ہوا۔ انہوں نے اردو ادب میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور اپنی شاندار علمی کارکردگی کے باعث اعزازات سے بھی نوازے گئے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب ان کی ادبی صلاحیتیں مزید نکھر کر سامنے آئیں اور وہ اردو کے روشن مستقبل کے طور پر پہچانے جانے لگے۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد جاں نثار اختر نے تدریس کے شعبے کو اختیار کیا۔ گوالیار اور بھوپال کے مختلف تعلیمی اداروں میں اردو زبان و ادب کی خدمت انجام دیتے ہوئے انہوں نے نوجوان نسل میں ادبی شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم ان کی اصل شناخت صرف ایک استاد کی نہیں بلکہ ایک ایسے شاعر کی تھی جو اپنے عہد کے فکری اور سماجی مسائل سے گہرا تعلق رکھتا تھا۔
وہ ترقی پسند ادبی تحریک کے فعال رکن تھے۔ اس تحریک نے ادب کو محض حسن و عشق کی روایت تک محدود رکھنے کے بجائے معاشرتی شعور اور انسانی مسائل سے جوڑنے کی کوشش کی، اور جاں نثار اختر نے اس فکر کو اپنے شعری اظہار میں پوری سنجیدگی کے ساتھ جگہ دی۔ ان کی دوستی اور رفاقت اس دور کے بڑے ادیبوں اور شاعروں سے رہی، جنہوں نے مل کر اردو ادب میں نئے رجحانات کو فروغ دیا۔
سن 1949ء میں انہوں نے تدریسی زندگی کو خیر باد کہا اور فلمی دنیا میں قسمت آزمانے کے لیے بمبئی کا رخ کیا۔ ابتدا میں یہ سفر آسان نہ تھا، مگر ان کی ادبی بصیرت، زبان پر گرفت اور جذبات کی مؤثر ترجمانی نے جلد ہی انہیں فلمی نغمہ نگاری کے صفِ اول کے فنکاروں میں شامل کر دیا۔ انہوں نے متعدد فلموں کے لیے ایسے گیت تخلیق کیے جو وقت گزرنے کے باوجود آج بھی سامعین کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان کے نغموں میں شعری وقار اور عوامی مقبولیت کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔
جاں نثار اختر کی ذاتی زندگی بھی ادب سے گہرا تعلق رکھتی تھی۔ ان کی شادی صفیہ اختر سے ہوئی جو خود ایک تعلیم یافتہ اور صاحبِ ذوق خاتون تھیں۔ صفیہ اختر کے خطوط اردو نثر کے بہترین نمونوں میں شمار کیے جاتے ہیں اور بعد میں کتابی صورت میں شائع ہوئے۔ ان کی ازدواجی زندگی محبت، اعتماد اور فکری ہم آہنگی کی ایک خوبصورت مثال تھی، اگرچہ صفیہ اختر کی وقت سے پہلے وفات نے جاں نثار اختر کی زندگی میں ایک گہرا خلا پیدا کر دیا۔
ان کے خاندان نے بعد کی نسلوں میں بھی ادب اور فن کی روایت کو برقرار رکھا۔ ان کے فرزند جاوید اختر برصغیر کے معروف شاعر، نغمہ نگار اور مکالمہ نویس ہیں، جبکہ پوتے فرحان اختر اور پوتی زویا اختر نے فلمی دنیا میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
شاعری کے میدان میں جاں نثار اختر نے کئی یادگار مجموعے تخلیق کیے جن میں خاکِ دل، گھر آنگن، نذرِ بتاں، سلاسل، جاوداں اور پچھلے پہر خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ان کی شاعری کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی سادگی، فکری گہرائی اور جذبے کی صداقت ہے۔ وہ پیچیدہ خیالات کو بھی نہایت سلیس اور دل نشین انداز میں بیان کرنے کا ہنر رکھتے تھے۔ ان کے مجموعۂ کلام خاکِ دل کو غیر معمولی ادبی پذیرائی حاصل ہوئی اور اسی پر انہیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
19 اگست 1976ء کو جاں نثار اختر اس دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن ان کی شاعری، نغمے اور ادبی خدمات آج بھی اردو ادب اور برصغیر کی ثقافتی تاریخ کا روشن باب ہیں۔ وہ ایک ایسے فنکار تھے جنہوں نے لفظوں کو محض اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ محبت، انسانیت اور شعور کی آواز بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ جاں نثار اختر کا نام اردو ادب کے افق پر ہمیشہ احترام اور محبت کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔
اردو ادب کی بیسویں صدی کئی ایسے نامور شعرا سے مزین ہے جنہوں نے اپنے عہد کے جذبات، خوابوں اور سماجی شعور کو الفاظ کا پیکر عطا کیا۔ ان ہی ممتاز شخصیات میں سید جاں نثار حسین رضوی، جو ادبی دنیا میں جاں نثار اختر کے نام سے معروف ہیں، ایک نہایت اہم مقام رکھتے ہیں۔ وہ ایسے شاعر تھے جن کی شاعری میں محبت کی لطافت، انسان دوستی کا جذبہ اور ترقی پسند فکر کی حرارت یکجا ہو کر ایک منفرد آہنگ پیدا کرتی ہے۔ ان کی تخلیقات نہ صرف اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں بلکہ برصغیر کی فلمی دنیا بھی ان کے لازوال نغموں سے ہمیشہ فیض یاب ہوتی رہے گی۔
جاں نثار اختر 18 فروری 1914ء کو گوالیار میں ایک ایسے علمی و ادبی خانوادے میں پیدا ہوئے جس کی شناخت علم، ادب اور شاعری تھی۔ ان کے والد مضطر خیرآبادی اپنے دور کے معروف شاعر تھے، جبکہ دادا مولانا فضلِ حق خیرآبادی برصغیر کے جلیل القدر عالم، فلسفی اور صاحبِ قلم شخصیت کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ ایسے ماحول نے بچپن ہی سے ان کے ذوقِ ادب کو جلا بخشی اور انہیں شعر و سخن کی دنیا کی جانب راغب کیا۔
ابتدائی تعلیم گوالیار میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ علی گڑھ کا علمی اور فکری ماحول ان کی شخصیت سازی میں نہایت اہم ثابت ہوا۔ انہوں نے اردو ادب میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور اپنی شاندار علمی کارکردگی کے باعث اعزازات سے بھی نوازے گئے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب ان کی ادبی صلاحیتیں مزید نکھر کر سامنے آئیں اور وہ اردو کے روشن مستقبل کے طور پر پہچانے جانے لگے۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد جاں نثار اختر نے تدریس کے شعبے کو اختیار کیا۔ گوالیار اور بھوپال کے مختلف تعلیمی اداروں میں اردو زبان و ادب کی خدمت انجام دیتے ہوئے انہوں نے نوجوان نسل میں ادبی شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم ان کی اصل شناخت صرف ایک استاد کی نہیں بلکہ ایک ایسے شاعر کی تھی جو اپنے عہد کے فکری اور سماجی مسائل سے گہرا تعلق رکھتا تھا۔
وہ ترقی پسند ادبی تحریک کے فعال رکن تھے۔ اس تحریک نے ادب کو محض حسن و عشق کی روایت تک محدود رکھنے کے بجائے معاشرتی شعور اور انسانی مسائل سے جوڑنے کی کوشش کی، اور جاں نثار اختر نے اس فکر کو اپنے شعری اظہار میں پوری سنجیدگی کے ساتھ جگہ دی۔ ان کی دوستی اور رفاقت اس دور کے بڑے ادیبوں اور شاعروں سے رہی، جنہوں نے مل کر اردو ادب میں نئے رجحانات کو فروغ دیا۔
سن 1949ء میں انہوں نے تدریسی زندگی کو خیر باد کہا اور فلمی دنیا میں قسمت آزمانے کے لیے بمبئی کا رخ کیا۔ ابتدا میں یہ سفر آسان نہ تھا، مگر ان کی ادبی بصیرت، زبان پر گرفت اور جذبات کی مؤثر ترجمانی نے جلد ہی انہیں فلمی نغمہ نگاری کے صفِ اول کے فنکاروں میں شامل کر دیا۔ انہوں نے متعدد فلموں کے لیے ایسے گیت تخلیق کیے جو وقت گزرنے کے باوجود آج بھی سامعین کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان کے نغموں میں شعری وقار اور عوامی مقبولیت کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔
جاں نثار اختر کی ذاتی زندگی بھی ادب سے گہرا تعلق رکھتی تھی۔ ان کی شادی صفیہ اختر سے ہوئی جو خود ایک تعلیم یافتہ اور صاحبِ ذوق خاتون تھیں۔ صفیہ اختر کے خطوط اردو نثر کے بہترین نمونوں میں شمار کیے جاتے ہیں اور بعد میں کتابی صورت میں شائع ہوئے۔ ان کی ازدواجی زندگی محبت، اعتماد اور فکری ہم آہنگی کی ایک خوبصورت مثال تھی، اگرچہ صفیہ اختر کی وقت سے پہلے وفات نے جاں نثار اختر کی زندگی میں ایک گہرا خلا پیدا کر دیا۔
ان کے خاندان نے بعد کی نسلوں میں بھی ادب اور فن کی روایت کو برقرار رکھا۔ ان کے فرزند جاوید اختر برصغیر کے معروف شاعر، نغمہ نگار اور مکالمہ نویس ہیں، جبکہ پوتے فرحان اختر اور پوتی زویا اختر نے فلمی دنیا میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
شاعری کے میدان میں جاں نثار اختر نے کئی یادگار مجموعے تخلیق کیے جن میں خاکِ دل، گھر آنگن، نذرِ بتاں، سلاسل، جاوداں اور پچھلے پہر خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ان کی شاعری کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی سادگی، فکری گہرائی اور جذبے کی صداقت ہے۔ وہ پیچیدہ خیالات کو بھی نہایت سلیس اور دل نشین انداز میں بیان کرنے کا ہنر رکھتے تھے۔ ان کے مجموعۂ کلام خاکِ دل کو غیر معمولی ادبی پذیرائی حاصل ہوئی اور اسی پر انہیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
19 اگست 1976ء کو جاں نثار اختر اس دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن ان کی شاعری، نغمے اور ادبی خدمات آج بھی اردو ادب اور برصغیر کی ثقافتی تاریخ کا روشن باب ہیں۔ وہ ایک ایسے فنکار تھے جنہوں نے لفظوں کو محض اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ محبت، انسانیت اور شعور کی آواز بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ جاں نثار اختر کا نام اردو ادب کے افق پر ہمیشہ احترام اور محبت کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔
ابھی کوئی نثر نہیں


