ارم رحمن پیشے کے لحاظ سے ایڈووکیٹ ہیں جن کا تعلق لاہور سے ہے۔ اردو زبان و ادب سے فطری مناسبت کی وجہ سے کچھ عرصہ وکالت کرنے کے بعد وہ درس و تدریس کے پی…
ارم رحمن پیشے کے لحاظ سے ایڈووکیٹ ہیں جن کا تعلق لاہور سے ہے۔ اردو زبان و ادب سے فطری مناسبت کی وجہ سے کچھ عرصہ وکالت کرنے کے بعد وہ درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہو گئیں ۔ انہوں نے اپنے مافی الضمیر کے اظہار کے لیے ابتدا میں شاعری کا انتخاب کیا ۔ ان کی نثری نظمیں کمال کی ہوتی ہیں جن میں تخلیقی وفور کے ساتھ ساتھ شعری جمالیات اور موضوعات کو نئے زاویوں سے باندھنا قاری اور ناقد دونوں کو متاثر کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ ان کا اصل تخلیقی میدان افسانہ نگاری ہے ۔ ان کے افسانوں کے موضوعات عوامی زندگی سے کشید ہوتے ہیں جو انسانی زندگی کے ان چھوٹے پہلوؤں کو درشاتے ہیں ۔ ارم رحمان حیات انسانی کے مختلف گوشوں پر ایسے زاویوں سے روشنی ڈالتی ہیں کہ ایک prism تیار ہو جاتا ہے جس کے آر پار وہ سب نظر آتا ہے جس کے اظہار سے انسانی سرشت عموماً پہلو تہی کرتی ہے۔ ان کے اسلوب میں شگفتگی اور جملوں میں بے ساختگی پائی جاتی ہے ۔ وہ واقعات کی کڑی سے کڑی ملانے اور انہیں ایک مالا میں خوبصورتی کے ساتھ پرونے کے ہنر سے بخوبی واقف ہیں ۔ ان کے زیادہ تر افسانوں میں انسانی نفسیات اور سائیکی پر تفصیلی انداز میں روشنی پڑتی ہے۔
ارم حمن کی نظمیں اور افسانے بر صغیر اور اردو کی نو آبادیات سے شائع ہونے والے معتبر اور موثر رسائل و جرائد میں بڑے اہتمام سے شائع کیے جاتے ہیں۔ مشیت، زعفرانی کھیر ، ناجائز حقیر، استخارہ، نوراں، جنوط ، روشنی، وغیرہ ان کے نمائندہ افسانے ہیں ۔ 'وحشت دروں' ارم رحمان کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے جو نایاب بکس، نئی دہلی سے شائع ہوکر قارئین اور اہل ادب سے مکمل خراج تحسین اور مقبولیت حاصل کرچکا ہے ۔