فیاض احمد عقیل احمد جن کا قلمی نام فیاض سالک ہے، عصرِ حاضر کے اُن ابھرتے ہوئے شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے مشاعراتی روایت اور ادبی تربیت کے سائے می…
فیاض احمد عقیل احمد جن کا قلمی نام فیاض سالک ہے، عصرِ حاضر کے اُن ابھرتے ہوئے شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے مشاعراتی روایت اور ادبی تربیت کے سائے میں اپنی شعری شناخت قائم کی۔ آپ کی ولادت 01 جون 1984ء کو مالیگاؤں، مہاراشٹر (بھارت) میں ہوئی۔
ابتدائی عمر ہی سے آپ کو ادبی ماحول میسر آیا، کیونکہ آپ اپنے والدِ محترم کے ہمراہ مشاعروں میں شرکت کیا کرتے تھے۔ یہی ادبی فضا آپ کے اندر شعری ذوق کی بیداری کا سبب بنی اور ابتدائی طور پر آپ نے ٹوٹے پھوٹے مصرعوں سے شاعری کا آغاز کیا، جو رفتہ رفتہ مکمل شعری اظہار کی صورت اختیار کر گیا۔
تعلیمی دور میں آپ نے قومی اور حب الوطنی کے گیت ترنم کے ساتھ پیش کیے، جنہیں سامعین نے بے حد پسند کیا۔ بعد ازاں آپ نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو مزید نکھارتے ہوئے باقاعدہ شعر و سخن کی دنیا میں قدم رکھا اور اپنے اشعار کو ترنم کے ساتھ پیش کرنے لگے، جس نے آپ کو مشاعروں میں خاصی پذیرائی دلائی۔
ادبی سفر کے دوران آپ نے مختلف اساتذۂ سخن سے استفادہ کیا۔ ابتدا میں آپ نے استادِ محترم ادیب غازی پوری کی شاگردی اختیار کی، ان کے انتقال کے بعد آپ رفیق سرور صاحب سے وابستہ رہے، اور فی الوقت آپ اقبال نذیر صاحب کی شاگردی میں اپنے شعری سفر کو مزید آگے بڑھا رہے ہیں۔
فیاض سالک کی شاعری میں سادگی، جذباتی اثر، مشاعراتی رنگ اور ترنم کی کیفیت نمایاں ہے۔ وہ اپنے احساسات کو سادہ مگر دل نشین انداز میں پیش کرنے کا ہنر رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا کلام سامعین اور قارئین دونوں میں یکساں مقبولیت حاصل کرتا ہے۔
آپ کا ادبی سفر مسلسل ریاضت، مشاہدہ اور اساتذہ کی رہنمائی کے زیرِ اثر جاری ہے، اور امید کی جا سکتی ہے کہ وہ مستقبل میں اردو شاعری میں مزید نمایاں مقام حاصل کریں گے۔