اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں

ہاشم انور ہاشمؔ

(ہاشم حسین انور حسین)
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان 🎂 اتوار، 21 جون 1987
29
کلام
65
پسند
736
مطالعہ
📜 شاعری (29) 📝 نثر (0) 📚 کتابیں (0)
غزل
ہوش والے سنبھال کر رکھنا
منہ پہ تالے سنبھال کر رکھنا
❤️ 3   👁 22
غزل
دنیائے بےثبات کے بیمار چپ رہو
جنبش نہ دو زباں کو خبردار چپ رہو
❤️ 2   👁 30
نوحہ
مسلمِؑ دل فگار کوفہ میں
ہوگئے اشک بار کوفہ میں
❤️ 1   👁 66
غزل
خون سے بنتے مکانوں کی کہانی لکھو
کبھی مزدور کے شانوں کی کہانی لکھو
❤️ 1   👁 17
غزل
خاموش میرے غم کا تماشہ نہیں ہوا
اس کے سوا جہان میں کیا کیا نہیں ہوا
❤️ 0   👁 12
غزل
اک شخص اپنے آپ میں بوجھل پتا بھی ہے
ہوتا ہے تم کو دیکھ کے پاگل پتا بھی ہے
❤️ 1   👁 10
منقبت
سب نعمتیں خدا کی برائے بتول ہے
قرآں کا حرف حرف ثنائے بتول ہے
❤️ 1   👁 15
غزل
صحرا سمندروں کی کہانی سنائے گا
رودادِ تس سراب روانی سنائے گا
❤️ 0   👁 12
غزل
میرے دل کے وہ انتخاب ہوئے
غم جو مقصودِ انقلاب ہوئے
❤️ 2   👁 15
غزل
جو مسافر رہِ نجات ہوئے
تلخ سب سے تعلقات ہوئے
❤️ 3   👁 34
نعت
میں دل میں عشقِ نبیؐ بے مثال رکھتا ہوں
نصیب اپنا اسی سے اُجال رکھتا ہوں
❤️ 4   👁 52
غزل
سہمی سہمی ہوئی نڈھال ہوا
کر رہی ہے کوئی سوال ہوا
❤️ 3   👁 15
غزل
باقی ترے فراق کا نشّہ نہیں رہا
” اب سردیوں کا چاند بھی تنہا نہیں رہا“
❤️ 2   👁 9
غزل
اک ہاں سے ہی پا سکتا ہےدل پیار کسی کا
اور جان بھی لے سکتا ہے انکار کسی کا
❤️ 1   👁 15
غزل
گزری راتوں کے آؤ خواب لکھیں
"اک غزل ہم بھی کامیاب لکھیں"
❤️ 2   👁 14
غزل
کچھ ستاروں کے سَعا کو کہکشاں کہتے ہو تم
” سب حقیقت چاہتے ہیں داستاں کہتے ہو تم“
❤️ 2   👁 9
غزل
گھر کی دیوار و باب کی تاثیر
اپنے بچوں کے خواب کی تاثیر
❤️ 2   👁 11
غزل
اشعار کی پہن کے قبا سی گروپ میں
ہو محوِ رقصاں لفظوں کی داسی گروپ میں
❤️ 2   👁 14
غزل
گر خاک کا پیکر ہے بکھر کیوں نہیں جاتا
دریا سا سمندر میں اتر کیوں نہیں جاتا
❤️ 3   👁 70
غزل
نفرت اُگل رہی ہے حکومت خطاب میں
باقی ہیں چند روز ابھی انتخاب میں
❤️ 2   👁 14
غزل
اک لمحہ گزارے جو ترے ساتھ محبت
کر اُس پہ محبت کی تو برسات محبت
❤️ 2   👁 13
غزل
خاموش،کہانی میں سدا رہ نہیں سکتا
"دریا ہوں روانی میں سدا رہ نہیں سکتا"
❤️ 3   👁 12
غزل
سحرا سمندروں کی کہانی سنائے گا
رودادِ تس سراب روانی سنائے گا
❤️ 2   👁 12
نوحہ
چاند تارے نوحہ خواں دیکھے نجف تا کربلا
ہم نے اپنے درمیاں دیکھے نجف تا کربلا
❤️ 3   👁 83
غزل
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں
وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں
❤️ 4   👁 33
نوحہ
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ
کیسے بھول جائے کربلا سکینہ
❤️ 4   👁 29
غزل
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست
دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست
❤️ 4   👁 28
غزل
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں
ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں
❤️ 5   👁 56
غزل
کرتا بھی ادا کیسے ترے پیار کی قیمت
تھی ترکِ تعلق ترے اقرار کی قیمت
❤️ 1   👁 14
ادبی AI معاون
● آن لائن