🟢 تعارف
فراق گورکھپوری اردو کے ممتاز شاعر، نقاد اور ادیب تھے۔
ان کا اصل نام: رگھوپتی سہائے تھا، جبک…
فراق گورکھپوری کی سوانح حیات (مکمل اور جامع)
🟢 تعارف
فراق گورکھپوری اردو کے ممتاز شاعر، نقاد اور ادیب تھے۔
ان کا اصل نام: رگھوپتی سہائے تھا، جبکہ تخلص “فراق” تھا۔
وہ اردو غزل کو جدید رنگ دینے والے بڑے شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔
📍 پیدائش اور خاندانی پس منظر
📅 پیدائش: 28 اگست 1896ء
📍 مقام: گورکھپور، اتر پردیش (ہندوستان)
والد: منشی گورکھ پرساد (ایک عالم اور ادیب)
ان کا تعلق ایک تعلیم یافتہ اور ادبی گھرانے سے تھا۔
📚 تعلیم و تربیت
ابتدائی تعلیم گورکھپور میں حاصل کی
اعلیٰ تعلیم الہ آباد یونیورسٹی سے حاصل کی
انگریزی ادب میں مہارت حاصل کی
💼 ملازمت اور سیاسی زندگی
ابتدا میں برطانوی دور میں سول سروس میں منتخب ہوئے
بعد میں آزادی کی تحریک میں حصہ لیا
کچھ عرصہ جیل بھی رہے
بعد ازاں الہ آباد یونیورسٹی میں پروفیسر مقرر ہوئے
✍️ ادبی خدمات
📖 اہم تصانیف:
گلِ نغمہ
روپ
بازگشت
💬 مشہور اشعار
"رنج سے خوگر ہوا انسان تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں"
"اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں"
🌟 شاعری کی خصوصیات
جدید احساسات اور خیالات
محبت اور انسانیت کا گہرا شعور
سادہ مگر دلکش زبان
کلاسیکی اور جدید انداز کا حسین امتزاج
🏆 اعزازات
جنان پیٹھ ایوارڈ (Jnanpith Award) سے نوازے گئے
اردو ادب میں نمایاں خدمات کے لیے کئی اعزازات حاصل کیے
⚰️ وفات
📅 وفات: 3 مارچ 1982ء
📍 دہلی، ہندوستان
🏆 مقام و مرتبہ
جدید اردو شاعری کے اہم ستون
غزل کو نئے موضوعات اور اسلوب دینے والے شاعر
ادب اور تنقید دونوں میدانوں میں نمایاں مقام
📌 خلاصہ
فراق گورکھپوری ایک ہمہ جہت شخصیت تھے جنہوں نے اردو شاعری کو جدید دور سے ہم آہنگ کیا۔
ان کی شاعری میں محبت، انسانیت اور زندگی کی حقیقتوں کا خوبصورت امتزاج ملتا ہے۔