منتظم عاصیؔ
(منتظم عاصیؔ)
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان 🎂 بدھ، 16 نومبر 1983
224
کلام
199
پسند
6,668
مطالعہ
📖 تعارف
اپنی بات
محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانی…
محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانی…
اپنی بات
محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و شاعری کا ذوق مجھ پر اس وقت حاوی ہوا جب میں چھٹی پڑھتا تھا مالیگاؤں میونسپل کونسل کا الیکشن ہونے والا تھا جگہ جگہ ہر چوک چوراہے پر تشہیرِ الیکشن کے لئے امیدوار یا امیدوار کے قریبی لوگوں کی طرف سے مشورتی ملاقات(meetings) ہوتی تھی دورانِ میٹنگ شعراءِ مالیگاؤں اپنے امیدوار یا اپنی جماعت (Party) کے گیت گاتے تھے بہت پیارا زمانہ تھا انتخابات کا وہ دور اور آج کا دور زمین و آسمان سا فرق رکھتا ہے اسی دوران میرے اپنے والد محترم محمد شعبان انصاری جو اپنے اول دنوں سے مسلمانوں کی واحد سیاسی جماعت مسلم لیگ سے منسلک تھے (اور آج بھی ہیں) زمانہِ انتخاب اپنے اوج پر رشک کررہا تھا نکڑ میٹنگ ہو یا جلسہ جلوس میں بھی مع والد شریک رہتا اور کچھ جگہ ایک نظم جو کسی شاعر سے میرے والد نے لکھوائی تھی میں اسے پڑھنے لگا اور یہی میرا ابتدائی دور بھی تھا شاعری کی طرف مجھے شاعری نہیں آتی تھی اور نہ ہی سمجھتی تھی پھر بھی مجھے شاعروں سے اک الگ سی محبت تھی کہیں بھی کسی بھی اخبار رسالہ یا کچھ بھی اردو کے تعلق سے جس میں کسی شاعر کی غزل تصویر ہوتی اتنا حصہ تراش کر اپنے پاس رکھنے لگا جتنی تصویر میں نے جمع کی تھی اس میں سے میں کسی کو نہیں جانتا تھا سوائے اس کے کہ وہ شاعر ہیں شاعری کرنے کی بھی کوشش کرتا تھا کیا لکھتا تھا یہ تو مجھے نہیں معلوم مگر میں اسے غزل کہتا تھا بہت کوشش بھی کرتا تھا اسکول میں بھی اپنا لکھا کلام پڑھا کرتا تھا کیا تھا کوئی کلام یا مصرع تو یاد نہیں مگر 1996 میں میرے بڑے بھائی کی شادی تھی اس وقت گھر کی فصیل پر اکثر ایسے موقع پر لوگ شعر لکھا کرتے تھے میں نے بھی لکھا تھا جب گھر والوں نے عبدالرشید راشد صاحب سے کوئی شعر مانگا لکھنے کے لئے تو میں وہاں جھٹ سے بول پڑا جو میں نے کسی اخبار میں پڑھا تھا،
ڈوب جائے گا تعصب کا سورج جس دن
گھر کی دہلیز پہ خوشیوں کے قدم آئیں گے
اسی شعر کا چربہ کرتے ہوئے ثانی مصرع اس طرح کردیا کہ، گھر کی دہلیز پہ دلہن کے قدم آئیں گے،، اس شعر کو موصوف کے سامنے سنایا اور اسی کو لکھا بھی اپنے ہاتھوں سے یہ صحیح ہے یا غلط نہیں جانتا تھا مگر یہ سمجھتا تھا کہ اس کو میں نے کہا ہے آج میں اس شعر کو سمجھتا ہوں اور اپنی نادانی پر فخر کرتا ہوں کہ میں نے چربہ کیا مگر کسی کے سہارے نہیں رہا اس وقت کے کچھ الفاظ جو میں شاعری سمجھ کر لکھتا تھا اس کا کچھ نسخہ گھر کے کچھ دستاویزات کے ساتھ ملے مجھے ان کے ملنے کی بے حد خوشی ہے تادم تحریر ان نسخوں پر کوئی نظر ثانی نہیں کیا ہوں
دن کٹتے رہے وقت گزرا حالات نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا اور پھر اسکول ساتویں تک ہی ہوئی کہ چھوڑ کر مزدوری کی طرف جانا پڑا اور نئے لوگوں کے ساتھ چلنے لگا سب کچھ چھوٹ گیا سارے خواب صبح کے چراغوں کی طرح ہوگئے کچھ بھی باقی نہ رہا لیکن کتابوں کے مطالعہ کا شوق نہیں مرا بلکہ اور بلند ہوا جب کبھی کچھ روپئے میسر آتے محمد علی روڈ سویرا بک ڈپو سے کہانیوں کی کتابیں خرید لاتا اور ایک کتاب کو بیس سے زائد مرتبہ پڑھتا اور جمعہ کا انتظار کرتا جمعہ آتے ہی پھر اک نئی کتاب یہ شوق اسی طرح اپنے محور پر گردش کرتا رہا اور ایک جمعہ کو میں نے شاعری کی کتاب پچھلے پہر جو جاں نثار اختر صاحب کی ہے لے کر آیا اور اس کتاب کے بعد کہانیوں کی کتابیں کبھی کبھی لانے لگا شاعری کی کتابوں میں علامہ اقبال کی بانگِ درا ضربِ کلیم بالِ جبریل اور ایک کتاب ہے جس کا نام یاد نہیں اور دیگر شعراء کی کتابوں کا مطالعہ کرتا رہا تب بھی مجھے شاعری نہیں آتی تھی مگر چربہ کیا کرتا تھا جسے لوگ تضمین کہتے ہیں مطلب کسی بھی مصرع پر اپنا ایک بحر سے خارج مصرع کہہ دینا یہ عادت رہی دن کٹتا رہا مطالعہ کرنا بھی بند وقت نے کروٹ بدل کر مجھے کسی اور جگہ کھڑا کردیا میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پھر کبھی تک بندی شعر شاعری کی طرف میرا سفر ہوگا کافی سال گزر گئے میں سلسلہ ھذا میں 2003 سے جڑا اور اسی میں وقت صرف ہونے لگا 2005 میں میں نے ازدواجی زندگی کی دہلیز پر قدم رکھا حالات ایسے نہیں تھے کہ میں اس جگہ پہنچ سکوں 2005 میں ہی میری اپنے مرشد حضور شمس الاولیاء آفتاب المشائخ سیدنا مرشدنا خواجہ صوفی شمس الدین شاہ نور اللہ مرقدہٗ سے ملاقات ہوئی زندگی اور بدل گئی میں مزاجی سے حقیقی سفر کرنے لگا اسی سفر پر میرے اپنے سلسلے کے ایک بزرگ کا عرس مبارک آنے والا تھا میں چاہتا تھا کہ کسی شاعر سے ان بزرگوں اوصاف و کمالات پر کوئی کلام لکھواؤں جو میرے اپنے مرشد کے لئے ایک تحفہ ہوگا اسی خیال میں مَیں ایک بہت بڑے شاعر تک پہنچا اور ان کو اپنی خواہش بتائی اور ایک کلام لکھنے کا اصرار کیا موصوف نے بعد میں لکھنے کے لئے کہا کئی دن گزرے ہفتے گزرے مہینہ گزر گیا لیکن موصوف نے کچھ نہیں لکھا میں بار بار ان سے کہتا رہا مگر کچھ نہ ہوا آخر میں موصوف نے منع کردیا مجھے بہت برا لگا مگر میں کر بھی کیا سکتا تھا یہ تو ان صاحب کی مرضی پر تھا لکھے یا نہ لکھے بس فرق یہ تھا کہ دو مہینے کے قریب موصوف نے آس میں رکھا اللہ پاک موصوف کو سلامت رکھے آمین
خیر جو ہونا تھا ہوگیا اور شاید تقدیر کو بھی یہی منظور تھا دن کٹتے رہے 2011 جون کا مہینہ تھا رونق آباد پاٹ کنارے پر ہوٹل تھی جہاں چائے پینے جاتا تھا وہاں کچھ نوجوان بیٹھے رہتے اور شعر و شاعری کرتے میں بھی ساتھ بیٹھنے لگا میرے ذوقِ بچپن ابھر گیا میرا بھی من کرنے لگا انہیں احباب کے ساتھ شعر کہنا شروع کیا جو کچھ بھی لکھتا انہیں دکھاتا یہ سب ایک ہی بات کہتے بحر میں ہے نہیں ہے میں ان سے اصرار کرتا بار بار پوچھا کرتا یہ بحر کس کو کہتے ہیں تو جواب صرف اتنا ملتا گنگناؤ مگر میں مطمئن نہیں تھا میں اس کی تہہ تک جانا چاہتا تھا اسی دوران انہیں احباب کے توسل سے میری ملاقات میرے استاد مرحوم عزیز ادیبی صاحب سے ہوئی موصوف کے اوصاف کیا بیاں کروں جن لوگوں نے انہیں دیکھا یا ملا ہے انہیں چھوڑ کر نہ دیکھنے ملنے والے بھی ان کی فنی صلاحیتوں کا لوہا مانتے ہیں کم سے کم لفظوں میں بڑے سے بڑا موضوع پیش کرنا ان کی پہچان تھی میں جو کچھ لکھتا اسے ان کے پاس لے جاتا اول تو وہ دیکھتے اور جو مصرع ترمیم یا سنورنا چاہتا اسے وہ خود ہی درست کردیتے دھیرے دھیرے اسی طرح چلتے چلتے انہوں نے کہا صوفی صاحب مشق کرو اور زیادہ لکھنے کی کوشش کرو کہ فن میں نکھار ہے یہ سن کر دوسرے دن دس 10 کلام جس میں نعت منقبت غزل تھی لے کر گیا آپ نے ایک صفحہ دیکھا اور عادت کے مطابق دوسرا دیکھا پھر میری بیاض مجھے لوٹانے لگے تب میں نے کہا حضرت اور ہے انہوں نے نے اوراق پلٹ پلٹ کر دیکھا اور کہا مشق کرو مگر اتنی نہیں اب یہ بیاض دے کر جاؤ میں بعد میں دیکھتا ہوں مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ وہ ایک ہی دن میں تمام کلام کی اصلاح کرکے میری بیاض مجھے واپس کی حیف صد حیف مقدر نے پھر تنہا کردیا بہت کم عرصہ موصوف کی صحبت کا شرف حاصل ہوا اور موصوف اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے تنہا سفر تھا تنہا ہی کاٹنا تھا مگر پھر کسی کارواں سے ملاقات ہوئی وہ کارواں جسے آپ اور میں عبداللہ ہلال مالیگ کے نام سے جانتے ہیں ان کے ساتھ چلے موصوف حساسیت کے اعلیٰ درجے پر فائز تھے مگر اتنے ہی مخلص ملنسار بھی تھے جتنے غریب تھے اتنے ہی بڑے دل والے تھے آپ جب تک تھے اردو ادب کی محفلوں میں کبھی شمع کی روشنی تک کم نہیں ہوئی بجھنے کی بات دور آپ نے بے شمار نوجوانوں کو ادب اور سخن سے آشنا کروایا ان کا ہمارا ساتھ بہت اچھا رہا وہ بھی خانقاہی تھے میں بھی اس سبب ایک دوسرے سے الگ ہی انسیت رکھتے تھے مگر اس کارواں نے بھی قدم تیزی کے ساتھ بڑھایا اور بہت دور نکل گیا اتنا دور کہ ہمیں کہنا پڑے انا للہ وانا الیہ الرجعون پھر اس سفر پر میں تنہا ہوا کچھ احبابِ سخن کے ہوتے ہوئے مگر میں نے ہمت نہیں ہاری اور استادِ محترم مرحوم عزیز ادیبی صاحب کے قول کے مطابق مشق کرتا رہا ایک ایک دن میں 70/80 شعر تک کہتا شعر اچھے ہیں یا خراب اس کی پروہ کئے بغیر میں نے اپنا شعری سفر جاری رکھا میرے اپنے احبابِ سخن منع کیا کرتے تھے اتنا مت لکھو کوئی تو مذاق میں کہہ بھی دیتے
کہ: شعر کہنا نہیں آتا تھا تو سو سو شعر ہوتے تھے
سنی ان سنی کرنا میرا مشغلہ بن گیا تھا اور کرتا بھی کیا تنہا سفر کرنا بھی مشکل تھا تب میری ملاقات جنون سے ہوئی میرے اپنے جنون سے ہم دونوں میں خوب بن رہی تھی میرا جنون مجھے تھکنے نہیں دیتا اور نہ کبھی میرا ساتھ چھوڑتا میں بھی لطف اندوز ہونے لگا اس کے ساتھ سفر کرتے کرتے کیونکہ کہ سفر کئی منزل بنا رکے بنا تھکے طئے کر چکا تھا اب مجھے بحر سمجھنے لگی تھی چند بحروں میں شعر با آسانی کہہ لیتا تھا ٹوٹی پھوٹی تقطیع بھی کرنے لگا تھا شاعری کی کئی اصناف پر کوشش بھی کی کچھ کچھ اصناف پر کامیاب بھی ہوا مگر تشنگی تھی کہ بجھنے کا نام نہیں لے رہی تھی اور میرا جنون جو میرا بہت ہی جگری دوست بن چکا تھا مجھے اپنے سفر میں رکنے نہیں دیتا میں اوب جاتا تو مجھے پھر سے تازہ کردیتا تھا یہی سبب تھا کہ میں 2011 سے مسلسل اس راہ پر استقامت کے ساتھ گامزن رہا درمیان میں کچھ سال ایسا بھی گزرا جس میں میں نے شاعری نہیں کے برابر کی اور پھر اچانک 2021 میں مجھے محفلِ شعر و ادب نامی وہاٹس اپ گروپ میں شامل کیا گیا جس کے باعث میرے جنون نے پھر ایک بار مجھے اسی سفر پر تیزی کے ساتھ چلنے پر مجبور کیا ایک گروپ سے دوسرے گروپ میں شامل کیا گیا جو بزمِ سخن کے نام سے تھا پھر ذوقِ سخن، دبستانِ سخن،کاروانِ شعر و ادب،جذباتِ قلب،بزمِ ساز وغیرہ وغیرہ کئی گروپ میں شامل کیا گیا اس سے افادہ حاصل ہوا ایسا کہ میں نے شاعری کو بہت قریب سے دیکھا جانا اور شاعری کرنے لگا روزآنہ ہر گروپ میں طبع آزمائی کرتے کرتے تمام افاعیل زباں پر رواں ہوگئی اور حاصل یہ ہوا کہ ہر افاعیل پر کہنا بہت آسان ہوگیا اسی درمیان کسی نے مجھے ایک مصرع بتایا جس پر لکھنا بہت مشکل ہے کہہ کر پروین شاکر صاحبہ کا مصرع دیا،، بارش میں گلاب جل رہا ہے،، یہ ذو قوافتین ایک ایسی افاعیل کا مصرع تھا جس پر لکھنا واقعی مشکل تھا مگر میں نے کہا تھا مشکل ہوسکتا ہے ناممکن نہیں اور کوشش کی تو کچھ شعر کہنے میں کامیاب ہوا اسی درمیان موبائل بدلنے کا ارادہ ہوا اور میں نے موبائل بدل لیا جس کی وجہ سے ہوا یہ کہ لکھے گئے 1500 سے زائد کلام ضائع ہوگئے اس میں سے قریب 17/18 کلام مجھے کسی احباب کے سبب موصول ہوا باقی آج تک نہ مل سکا تب میں نے ارادہ کیا کہ اسے کتابی شکل دیں تو محفوظ رہے گا اسی خیال کے چلتے فروری 2022 میں میں نے اپنے ابتدائی دور کے کلام کی کتاب 96 صفحات پر مشتمل شائع کی جس کا نام حرفِ عظیم میم منتخب کیا اس کے بعد کچھ کلام اور لکھے بعد اس کے رمضان المبارک کی آمد ہوئی اور پھر کلام کہنا بند رہا کبھی کبھی کوئی غزل کہتا بھی تھا اس کے بعد 7 مئی 2022 سے لگاتار شعری سفر جاری رہا اور 1 جولائی 2022 کو دوسری کتاب 220 صفحات پر مشتمل شائع کی جس کا نام،، لااسمَ لہٗ،،ہے دو کتاب شائع ہونے کے بعد تیسری کتاب کا نام،، طشت ازبام ،،اس وقت پیش کیا جب میرے پاس شائع کرنے کے لئے ایک بھی کلام نہیں تھا 2 جولائی 2022 کو پہلا کلام کہنے میں کامیاب ہوا اور سفر کو جاری رکھا آج 18 ستمبر 2022 جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں اس وقت 353 صفحات پر مشتمل کلام کی ٹائپنگ ہوچکی ہے اور مزید ٹائپ کرنا باقی ہے کتاب کی پرنٹنگ تک ان شاء اللہ 400 صفحات سے زائد ہوجائیں گے جس میں حمد نعت ہزل غزل کے علاوہ شاعری کی کئی صنعتیں موجود ہیں مکمل دیوان بھی ہے چھوٹی سے چھوٹی بحر ہو یا بڑی سے بڑی بحر سبھوں پر طبع آزمائی کی ہے نظم لکھنے کی بھی کوشش کی ہے کتاب میں ہر کلام کے ساتھ اس کے افاعیل کو پیش کیا ہوں 30 سے زائد افاعیل پر اشعار کہنے کی کوشش کی ہے اور ان سب پر کامیابی حاصل کرنے کے لئے مالیگاؤں کے دو عظیم شاعر کو اپنا آئیڈیل بنایا ایک جو کبھی نہیں تھکتے اشعار کہنے سے وہ ہیں محترم رفیق سرور صاحب اور دوسرے جو ہر اصناف اور علمِ عروض کے ماہر جناب فرحان دل صاحب ہیں ان کا شاکر و ممنون ہوں کہ ان کے اپنے فن سے مجھے تحریک ملی اور میں اپنی کوشش میں کامیاب ہوا
ٹائپنگ کمپوزنگ پرنٹنگ اور دیگر کام میں خود ہی کرتا ہوں جس میں میری کچھ حد تک ان پیج کو استعمال کرنے میں جناب عارف انجم نے مدد کی اور اس کی بائنڈنگ محبت و خلوص سے نثار کاغذی سے میرے عزیز رمیش احمد جو بہت ہی کم وقت میں بہترین کام کرتے ہیں ان کی بھی کافی امداد ہوتی ہے کہاں کون سا کام ہوتا ہے کہاں کیا ملتا ہے ان سب پر کافی محنت کرتے ہیں جس کی وجہ سے بہت کم وقت میں میں کتاب کو لوگوں تک پیش کرنے میں کامیاب ہوتا ہوں ان دونوں کا بھی شاکر و ممنون ہوں
یہ ہے میرا مختصر تعارف جو آسان لفظوں میں تحریر کرنے کی کوشش کی جس کے باعث یہ تحریر کافی طویل ہوگئی ہے مگر اس میں ابھی بہت کچھ باقی ہے جو کبھی کسی اور موقع پر پیش کرنے کی کوشش کروں گا
تنہائی میں ہواؤں سے کرتی ہے گفتگو
عاصی جنون خیز ہے دیوانگی تری
بارگاہِ صمدیت وحدہٗ لا شریک لہٗ میں عاجزانہ دعا گو ہوں کہ اللہ پاک مرحوم عزیز ادیبی صاحب اور عبداللہ ہلال مالیگ صاحب کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور میرے معاؤنین کو صحت و تندرستی عطا فرمائے طشت ازبام کو ہر خاص و عام میں مقبولیت عطا فرمائے بالخصوص میرے والدین کو سلامتی قوت اور عمرِ دراز عطا فرمائے دیر تک اور دور تک ان کا سایہ میرے سر پر قائم رکھے اور میرے تمام احباب جو میرے خیر خواہ ہیں ان کے مشوروں میں برکت عطا فرمائے اللہ پاک میری دعاؤں کو آقائے نامدار مدینے کے تاجدار جناب احمدِ مختار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم و اہلِ بیت اطہار علیہم السلام کے صدقے قبول فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین
محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و شاعری کا ذوق مجھ پر اس وقت حاوی ہوا جب میں چھٹی پڑھتا تھا مالیگاؤں میونسپل کونسل کا الیکشن ہونے والا تھا جگہ جگہ ہر چوک چوراہے پر تشہیرِ الیکشن کے لئے امیدوار یا امیدوار کے قریبی لوگوں کی طرف سے مشورتی ملاقات(meetings) ہوتی تھی دورانِ میٹنگ شعراءِ مالیگاؤں اپنے امیدوار یا اپنی جماعت (Party) کے گیت گاتے تھے بہت پیارا زمانہ تھا انتخابات کا وہ دور اور آج کا دور زمین و آسمان سا فرق رکھتا ہے اسی دوران میرے اپنے والد محترم محمد شعبان انصاری جو اپنے اول دنوں سے مسلمانوں کی واحد سیاسی جماعت مسلم لیگ سے منسلک تھے (اور آج بھی ہیں) زمانہِ انتخاب اپنے اوج پر رشک کررہا تھا نکڑ میٹنگ ہو یا جلسہ جلوس میں بھی مع والد شریک رہتا اور کچھ جگہ ایک نظم جو کسی شاعر سے میرے والد نے لکھوائی تھی میں اسے پڑھنے لگا اور یہی میرا ابتدائی دور بھی تھا شاعری کی طرف مجھے شاعری نہیں آتی تھی اور نہ ہی سمجھتی تھی پھر بھی مجھے شاعروں سے اک الگ سی محبت تھی کہیں بھی کسی بھی اخبار رسالہ یا کچھ بھی اردو کے تعلق سے جس میں کسی شاعر کی غزل تصویر ہوتی اتنا حصہ تراش کر اپنے پاس رکھنے لگا جتنی تصویر میں نے جمع کی تھی اس میں سے میں کسی کو نہیں جانتا تھا سوائے اس کے کہ وہ شاعر ہیں شاعری کرنے کی بھی کوشش کرتا تھا کیا لکھتا تھا یہ تو مجھے نہیں معلوم مگر میں اسے غزل کہتا تھا بہت کوشش بھی کرتا تھا اسکول میں بھی اپنا لکھا کلام پڑھا کرتا تھا کیا تھا کوئی کلام یا مصرع تو یاد نہیں مگر 1996 میں میرے بڑے بھائی کی شادی تھی اس وقت گھر کی فصیل پر اکثر ایسے موقع پر لوگ شعر لکھا کرتے تھے میں نے بھی لکھا تھا جب گھر والوں نے عبدالرشید راشد صاحب سے کوئی شعر مانگا لکھنے کے لئے تو میں وہاں جھٹ سے بول پڑا جو میں نے کسی اخبار میں پڑھا تھا،
ڈوب جائے گا تعصب کا سورج جس دن
گھر کی دہلیز پہ خوشیوں کے قدم آئیں گے
اسی شعر کا چربہ کرتے ہوئے ثانی مصرع اس طرح کردیا کہ، گھر کی دہلیز پہ دلہن کے قدم آئیں گے،، اس شعر کو موصوف کے سامنے سنایا اور اسی کو لکھا بھی اپنے ہاتھوں سے یہ صحیح ہے یا غلط نہیں جانتا تھا مگر یہ سمجھتا تھا کہ اس کو میں نے کہا ہے آج میں اس شعر کو سمجھتا ہوں اور اپنی نادانی پر فخر کرتا ہوں کہ میں نے چربہ کیا مگر کسی کے سہارے نہیں رہا اس وقت کے کچھ الفاظ جو میں شاعری سمجھ کر لکھتا تھا اس کا کچھ نسخہ گھر کے کچھ دستاویزات کے ساتھ ملے مجھے ان کے ملنے کی بے حد خوشی ہے تادم تحریر ان نسخوں پر کوئی نظر ثانی نہیں کیا ہوں
دن کٹتے رہے وقت گزرا حالات نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا اور پھر اسکول ساتویں تک ہی ہوئی کہ چھوڑ کر مزدوری کی طرف جانا پڑا اور نئے لوگوں کے ساتھ چلنے لگا سب کچھ چھوٹ گیا سارے خواب صبح کے چراغوں کی طرح ہوگئے کچھ بھی باقی نہ رہا لیکن کتابوں کے مطالعہ کا شوق نہیں مرا بلکہ اور بلند ہوا جب کبھی کچھ روپئے میسر آتے محمد علی روڈ سویرا بک ڈپو سے کہانیوں کی کتابیں خرید لاتا اور ایک کتاب کو بیس سے زائد مرتبہ پڑھتا اور جمعہ کا انتظار کرتا جمعہ آتے ہی پھر اک نئی کتاب یہ شوق اسی طرح اپنے محور پر گردش کرتا رہا اور ایک جمعہ کو میں نے شاعری کی کتاب پچھلے پہر جو جاں نثار اختر صاحب کی ہے لے کر آیا اور اس کتاب کے بعد کہانیوں کی کتابیں کبھی کبھی لانے لگا شاعری کی کتابوں میں علامہ اقبال کی بانگِ درا ضربِ کلیم بالِ جبریل اور ایک کتاب ہے جس کا نام یاد نہیں اور دیگر شعراء کی کتابوں کا مطالعہ کرتا رہا تب بھی مجھے شاعری نہیں آتی تھی مگر چربہ کیا کرتا تھا جسے لوگ تضمین کہتے ہیں مطلب کسی بھی مصرع پر اپنا ایک بحر سے خارج مصرع کہہ دینا یہ عادت رہی دن کٹتا رہا مطالعہ کرنا بھی بند وقت نے کروٹ بدل کر مجھے کسی اور جگہ کھڑا کردیا میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پھر کبھی تک بندی شعر شاعری کی طرف میرا سفر ہوگا کافی سال گزر گئے میں سلسلہ ھذا میں 2003 سے جڑا اور اسی میں وقت صرف ہونے لگا 2005 میں میں نے ازدواجی زندگی کی دہلیز پر قدم رکھا حالات ایسے نہیں تھے کہ میں اس جگہ پہنچ سکوں 2005 میں ہی میری اپنے مرشد حضور شمس الاولیاء آفتاب المشائخ سیدنا مرشدنا خواجہ صوفی شمس الدین شاہ نور اللہ مرقدہٗ سے ملاقات ہوئی زندگی اور بدل گئی میں مزاجی سے حقیقی سفر کرنے لگا اسی سفر پر میرے اپنے سلسلے کے ایک بزرگ کا عرس مبارک آنے والا تھا میں چاہتا تھا کہ کسی شاعر سے ان بزرگوں اوصاف و کمالات پر کوئی کلام لکھواؤں جو میرے اپنے مرشد کے لئے ایک تحفہ ہوگا اسی خیال میں مَیں ایک بہت بڑے شاعر تک پہنچا اور ان کو اپنی خواہش بتائی اور ایک کلام لکھنے کا اصرار کیا موصوف نے بعد میں لکھنے کے لئے کہا کئی دن گزرے ہفتے گزرے مہینہ گزر گیا لیکن موصوف نے کچھ نہیں لکھا میں بار بار ان سے کہتا رہا مگر کچھ نہ ہوا آخر میں موصوف نے منع کردیا مجھے بہت برا لگا مگر میں کر بھی کیا سکتا تھا یہ تو ان صاحب کی مرضی پر تھا لکھے یا نہ لکھے بس فرق یہ تھا کہ دو مہینے کے قریب موصوف نے آس میں رکھا اللہ پاک موصوف کو سلامت رکھے آمین
خیر جو ہونا تھا ہوگیا اور شاید تقدیر کو بھی یہی منظور تھا دن کٹتے رہے 2011 جون کا مہینہ تھا رونق آباد پاٹ کنارے پر ہوٹل تھی جہاں چائے پینے جاتا تھا وہاں کچھ نوجوان بیٹھے رہتے اور شعر و شاعری کرتے میں بھی ساتھ بیٹھنے لگا میرے ذوقِ بچپن ابھر گیا میرا بھی من کرنے لگا انہیں احباب کے ساتھ شعر کہنا شروع کیا جو کچھ بھی لکھتا انہیں دکھاتا یہ سب ایک ہی بات کہتے بحر میں ہے نہیں ہے میں ان سے اصرار کرتا بار بار پوچھا کرتا یہ بحر کس کو کہتے ہیں تو جواب صرف اتنا ملتا گنگناؤ مگر میں مطمئن نہیں تھا میں اس کی تہہ تک جانا چاہتا تھا اسی دوران انہیں احباب کے توسل سے میری ملاقات میرے استاد مرحوم عزیز ادیبی صاحب سے ہوئی موصوف کے اوصاف کیا بیاں کروں جن لوگوں نے انہیں دیکھا یا ملا ہے انہیں چھوڑ کر نہ دیکھنے ملنے والے بھی ان کی فنی صلاحیتوں کا لوہا مانتے ہیں کم سے کم لفظوں میں بڑے سے بڑا موضوع پیش کرنا ان کی پہچان تھی میں جو کچھ لکھتا اسے ان کے پاس لے جاتا اول تو وہ دیکھتے اور جو مصرع ترمیم یا سنورنا چاہتا اسے وہ خود ہی درست کردیتے دھیرے دھیرے اسی طرح چلتے چلتے انہوں نے کہا صوفی صاحب مشق کرو اور زیادہ لکھنے کی کوشش کرو کہ فن میں نکھار ہے یہ سن کر دوسرے دن دس 10 کلام جس میں نعت منقبت غزل تھی لے کر گیا آپ نے ایک صفحہ دیکھا اور عادت کے مطابق دوسرا دیکھا پھر میری بیاض مجھے لوٹانے لگے تب میں نے کہا حضرت اور ہے انہوں نے نے اوراق پلٹ پلٹ کر دیکھا اور کہا مشق کرو مگر اتنی نہیں اب یہ بیاض دے کر جاؤ میں بعد میں دیکھتا ہوں مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ وہ ایک ہی دن میں تمام کلام کی اصلاح کرکے میری بیاض مجھے واپس کی حیف صد حیف مقدر نے پھر تنہا کردیا بہت کم عرصہ موصوف کی صحبت کا شرف حاصل ہوا اور موصوف اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے تنہا سفر تھا تنہا ہی کاٹنا تھا مگر پھر کسی کارواں سے ملاقات ہوئی وہ کارواں جسے آپ اور میں عبداللہ ہلال مالیگ کے نام سے جانتے ہیں ان کے ساتھ چلے موصوف حساسیت کے اعلیٰ درجے پر فائز تھے مگر اتنے ہی مخلص ملنسار بھی تھے جتنے غریب تھے اتنے ہی بڑے دل والے تھے آپ جب تک تھے اردو ادب کی محفلوں میں کبھی شمع کی روشنی تک کم نہیں ہوئی بجھنے کی بات دور آپ نے بے شمار نوجوانوں کو ادب اور سخن سے آشنا کروایا ان کا ہمارا ساتھ بہت اچھا رہا وہ بھی خانقاہی تھے میں بھی اس سبب ایک دوسرے سے الگ ہی انسیت رکھتے تھے مگر اس کارواں نے بھی قدم تیزی کے ساتھ بڑھایا اور بہت دور نکل گیا اتنا دور کہ ہمیں کہنا پڑے انا للہ وانا الیہ الرجعون پھر اس سفر پر میں تنہا ہوا کچھ احبابِ سخن کے ہوتے ہوئے مگر میں نے ہمت نہیں ہاری اور استادِ محترم مرحوم عزیز ادیبی صاحب کے قول کے مطابق مشق کرتا رہا ایک ایک دن میں 70/80 شعر تک کہتا شعر اچھے ہیں یا خراب اس کی پروہ کئے بغیر میں نے اپنا شعری سفر جاری رکھا میرے اپنے احبابِ سخن منع کیا کرتے تھے اتنا مت لکھو کوئی تو مذاق میں کہہ بھی دیتے
کہ: شعر کہنا نہیں آتا تھا تو سو سو شعر ہوتے تھے
سنی ان سنی کرنا میرا مشغلہ بن گیا تھا اور کرتا بھی کیا تنہا سفر کرنا بھی مشکل تھا تب میری ملاقات جنون سے ہوئی میرے اپنے جنون سے ہم دونوں میں خوب بن رہی تھی میرا جنون مجھے تھکنے نہیں دیتا اور نہ کبھی میرا ساتھ چھوڑتا میں بھی لطف اندوز ہونے لگا اس کے ساتھ سفر کرتے کرتے کیونکہ کہ سفر کئی منزل بنا رکے بنا تھکے طئے کر چکا تھا اب مجھے بحر سمجھنے لگی تھی چند بحروں میں شعر با آسانی کہہ لیتا تھا ٹوٹی پھوٹی تقطیع بھی کرنے لگا تھا شاعری کی کئی اصناف پر کوشش بھی کی کچھ کچھ اصناف پر کامیاب بھی ہوا مگر تشنگی تھی کہ بجھنے کا نام نہیں لے رہی تھی اور میرا جنون جو میرا بہت ہی جگری دوست بن چکا تھا مجھے اپنے سفر میں رکنے نہیں دیتا میں اوب جاتا تو مجھے پھر سے تازہ کردیتا تھا یہی سبب تھا کہ میں 2011 سے مسلسل اس راہ پر استقامت کے ساتھ گامزن رہا درمیان میں کچھ سال ایسا بھی گزرا جس میں میں نے شاعری نہیں کے برابر کی اور پھر اچانک 2021 میں مجھے محفلِ شعر و ادب نامی وہاٹس اپ گروپ میں شامل کیا گیا جس کے باعث میرے جنون نے پھر ایک بار مجھے اسی سفر پر تیزی کے ساتھ چلنے پر مجبور کیا ایک گروپ سے دوسرے گروپ میں شامل کیا گیا جو بزمِ سخن کے نام سے تھا پھر ذوقِ سخن، دبستانِ سخن،کاروانِ شعر و ادب،جذباتِ قلب،بزمِ ساز وغیرہ وغیرہ کئی گروپ میں شامل کیا گیا اس سے افادہ حاصل ہوا ایسا کہ میں نے شاعری کو بہت قریب سے دیکھا جانا اور شاعری کرنے لگا روزآنہ ہر گروپ میں طبع آزمائی کرتے کرتے تمام افاعیل زباں پر رواں ہوگئی اور حاصل یہ ہوا کہ ہر افاعیل پر کہنا بہت آسان ہوگیا اسی درمیان کسی نے مجھے ایک مصرع بتایا جس پر لکھنا بہت مشکل ہے کہہ کر پروین شاکر صاحبہ کا مصرع دیا،، بارش میں گلاب جل رہا ہے،، یہ ذو قوافتین ایک ایسی افاعیل کا مصرع تھا جس پر لکھنا واقعی مشکل تھا مگر میں نے کہا تھا مشکل ہوسکتا ہے ناممکن نہیں اور کوشش کی تو کچھ شعر کہنے میں کامیاب ہوا اسی درمیان موبائل بدلنے کا ارادہ ہوا اور میں نے موبائل بدل لیا جس کی وجہ سے ہوا یہ کہ لکھے گئے 1500 سے زائد کلام ضائع ہوگئے اس میں سے قریب 17/18 کلام مجھے کسی احباب کے سبب موصول ہوا باقی آج تک نہ مل سکا تب میں نے ارادہ کیا کہ اسے کتابی شکل دیں تو محفوظ رہے گا اسی خیال کے چلتے فروری 2022 میں میں نے اپنے ابتدائی دور کے کلام کی کتاب 96 صفحات پر مشتمل شائع کی جس کا نام حرفِ عظیم میم منتخب کیا اس کے بعد کچھ کلام اور لکھے بعد اس کے رمضان المبارک کی آمد ہوئی اور پھر کلام کہنا بند رہا کبھی کبھی کوئی غزل کہتا بھی تھا اس کے بعد 7 مئی 2022 سے لگاتار شعری سفر جاری رہا اور 1 جولائی 2022 کو دوسری کتاب 220 صفحات پر مشتمل شائع کی جس کا نام،، لااسمَ لہٗ،،ہے دو کتاب شائع ہونے کے بعد تیسری کتاب کا نام،، طشت ازبام ،،اس وقت پیش کیا جب میرے پاس شائع کرنے کے لئے ایک بھی کلام نہیں تھا 2 جولائی 2022 کو پہلا کلام کہنے میں کامیاب ہوا اور سفر کو جاری رکھا آج 18 ستمبر 2022 جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں اس وقت 353 صفحات پر مشتمل کلام کی ٹائپنگ ہوچکی ہے اور مزید ٹائپ کرنا باقی ہے کتاب کی پرنٹنگ تک ان شاء اللہ 400 صفحات سے زائد ہوجائیں گے جس میں حمد نعت ہزل غزل کے علاوہ شاعری کی کئی صنعتیں موجود ہیں مکمل دیوان بھی ہے چھوٹی سے چھوٹی بحر ہو یا بڑی سے بڑی بحر سبھوں پر طبع آزمائی کی ہے نظم لکھنے کی بھی کوشش کی ہے کتاب میں ہر کلام کے ساتھ اس کے افاعیل کو پیش کیا ہوں 30 سے زائد افاعیل پر اشعار کہنے کی کوشش کی ہے اور ان سب پر کامیابی حاصل کرنے کے لئے مالیگاؤں کے دو عظیم شاعر کو اپنا آئیڈیل بنایا ایک جو کبھی نہیں تھکتے اشعار کہنے سے وہ ہیں محترم رفیق سرور صاحب اور دوسرے جو ہر اصناف اور علمِ عروض کے ماہر جناب فرحان دل صاحب ہیں ان کا شاکر و ممنون ہوں کہ ان کے اپنے فن سے مجھے تحریک ملی اور میں اپنی کوشش میں کامیاب ہوا
ٹائپنگ کمپوزنگ پرنٹنگ اور دیگر کام میں خود ہی کرتا ہوں جس میں میری کچھ حد تک ان پیج کو استعمال کرنے میں جناب عارف انجم نے مدد کی اور اس کی بائنڈنگ محبت و خلوص سے نثار کاغذی سے میرے عزیز رمیش احمد جو بہت ہی کم وقت میں بہترین کام کرتے ہیں ان کی بھی کافی امداد ہوتی ہے کہاں کون سا کام ہوتا ہے کہاں کیا ملتا ہے ان سب پر کافی محنت کرتے ہیں جس کی وجہ سے بہت کم وقت میں میں کتاب کو لوگوں تک پیش کرنے میں کامیاب ہوتا ہوں ان دونوں کا بھی شاکر و ممنون ہوں
یہ ہے میرا مختصر تعارف جو آسان لفظوں میں تحریر کرنے کی کوشش کی جس کے باعث یہ تحریر کافی طویل ہوگئی ہے مگر اس میں ابھی بہت کچھ باقی ہے جو کبھی کسی اور موقع پر پیش کرنے کی کوشش کروں گا
تنہائی میں ہواؤں سے کرتی ہے گفتگو
عاصی جنون خیز ہے دیوانگی تری
بارگاہِ صمدیت وحدہٗ لا شریک لہٗ میں عاجزانہ دعا گو ہوں کہ اللہ پاک مرحوم عزیز ادیبی صاحب اور عبداللہ ہلال مالیگ صاحب کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور میرے معاؤنین کو صحت و تندرستی عطا فرمائے طشت ازبام کو ہر خاص و عام میں مقبولیت عطا فرمائے بالخصوص میرے والدین کو سلامتی قوت اور عمرِ دراز عطا فرمائے دیر تک اور دور تک ان کا سایہ میرے سر پر قائم رکھے اور میرے تمام احباب جو میرے خیر خواہ ہیں ان کے مشوروں میں برکت عطا فرمائے اللہ پاک میری دعاؤں کو آقائے نامدار مدینے کے تاجدار جناب احمدِ مختار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم و اہلِ بیت اطہار علیہم السلام کے صدقے قبول فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین
اردو کی داستان ہندوی سے ڈیجیٹل دور تک
تاریخی کتب
لا اسمَ لہُ
کتب شاعری
بزلِ زنابیل
کتب شاعری
دیدہ باید
کتب شاعری
حرفِ عظیم میم
کتب شاعری
سجدۂ دوام
کتب شاعری


