وفا کی سیج پر بے شیر نے سجدہ – سلام و مرثیہ | محرم الحرام | شاعر منتظم عاصیؔ
“کیا جس دم وفا کی سیج پر بے شیر نے سجدہ” شاعر منتظم عاصیؔ کا ایک پُرتاثیر سلامیہ و مرثیہ کلام ہے جو واقعۂ کربلا کے روحانی، جذباتی اور فکری پہلوؤں کو علامتی انداز میں پیش کرتا ہے۔ اس کلام میں سجدہ، وفا، قربانی اور اہلِ بیتؑ کی عظمت کو مرکزی استعارہ بنایا گیا ہے اور یہ دکھایا گیا ہے کہ کربلا صرف میدانِ جنگ نہیں بلکہ انسانی وقار، ایمان اور سچائی کی معراج بھی ہے۔
اشعار میں سجدے کو صرف عبادت نہیں بلکہ حق کی خاطر مکمل سپردگی، صبر اور ایثار کی علامت کے طور پر برتا گیا ہے۔ نیزوں، زنجیروں، زمین اور آسما
✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف
## شخصیت، ادبی سفر اور شعری خدمات
منتظم عاصی کا شمار ان اہلِ قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے شعر و ادب کی دنیا میں کسی باقاعدہ ادبی ادارے یا رسمی تربیتی سلسلے کے سہارے کے بجائے اپنے شوق، مطالعے، مسلسل مشق، اساتذہ کی رہنمائی اور غیر معمولی جنونِ سخن کے ذریعے اپنا راستہ بنایا۔ ان کا ادبی سفر محض شاعری تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ایسے شخص کی داستان ہے جس نے زندگی کے مختلف نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے اپنے اندر …




ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!