اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में
نظم

یادوں کے کھنڈرات –نظم| سید دانش نقوی

دانش فراق اتوار، 14 جون 2026
👁 569 ❤️ 1
میں نے ایک دن
اپنے اندر اترنے کی کوشش کی،
جیسے کوئی مسافر صدیوں سے بند پڑے کسی زیرِ زمین شہر کا دروازہ کھولتا ہے۔
اندر بہت خاموشی تھی۔
اتنی خاموشی کہ اپنے ہی خیالوں کی چاپ اجنبی محسوس ہوتی تھی۔
وہاں خواہشوں کے شکستہ ستون تھے، یادوں کی نیم تاریک راہداریاں، اور چند سوال
جو عمر بھر جوابوں کا لباس پہننے سے انکار کرتے رہے تھے۔
میں چلتا رہا۔
یہ سمجھتے ہوئے کہ شاید آخر میں کوئی یقین میرا منتظر ہوگا۔
مگر راستے کے اختتام پر
مجھے ایک آئینہ ملا۔
میں نے اس میں دیکھا،
تو اپنا چہرہ نہیں، اپنی تمام نامکملیاں دیکھیں۔
وہ خواب جو حقیقت نہ بن سکے، وہ لفظ جو ہونٹوں تک نہ آ سکے، وہ محبتیں جو اظہار سے پہلے ہی وقت کے ملبے تلے دب گئیں۔
تب معلوم ہوا
انسان اپنی کامیابیوں سے نہیں بنتا،
وہ ان چیزوں سے بنتا ہے جو اس سے چھن جاتی ہیں
اور پھر بھی اس کے اندر زندہ رہتی ہیں۔
📖 सार

"یادوں کے کھنڈرات" خود شناسی، یادوں اور انسانی وجود کی گہرائیوں پر مبنی ایک فکری نظم ہے۔ شاعر اپنے باطن میں سفر کرتے ہوئے ان خواہشات، خوابوں اور محبتوں کا سامنا کرتا ہے جو مکمل نہ ہو سکیں۔ آخرکار اسے احساس ہوتا ہے کہ انسان کی شخصیت صرف حاصل شدہ کامیابیوں سے نہیں بلکہ ان محرومیوں اور نامکمل تجربات سے بھی تشکیل پاتی ہے جو ہمیشہ اس کے اندر زندہ رہتے ہیں۔

← पिछला अगला →

✍️ سید دانش نقوی — संक्षिप्त परिचय

📍 ڈسکہ

شاعر کا نام سید دانش نقوی ہے اور قلمی نام فراق رکھتے ہیں نوجوان نمائندہ شاعر ہیں پاکستان کے شہر ڈسکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ اُردو ادب فن شاعری پر خاصہ عبور رکھتے ہیں ۔ ان کا ایک معروف شعر دیکھئے ۔
مرحلے یوں بھی سر کریں گے ہم
تجھ سے تجھ تک سفر کریں گے ہم
دانش فراق

نظم क्या है?

نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

دانش فراق की और रचनाएँ
نقشِ امید دلِ زار سے جاتا ہی نہیں تیرا چرچا مرے افکار سے جاتا ہی نہیں جس کو چاہا تھا وہی دور کھڑا ہے...
اک دھواں سا مرے دل کے مکاں سے اٹھا آپ پہلو سے اٹھے اور جی جہاں سے اٹھا دل گرفتہ فضا رہی ہے آج ‎آپ  ک...
دل کے صحرا میں عجب گردِ سفر باقی رہی عمر گزری بھی تو اک راہ گزر باقی رہی نقش مٹتے ہی گئے لوحِ زمانہ ...
نقشِ تمثالِ فریبِ رنگِ امکاں اور ہے آئینہ ادراک میں آئینِ حیراں اور ہے جلوۂ تعبیرِ خوابِ آرزو کے روب...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 टिप्पणियाँ (0)
टिप्पणी करने के लिए लॉग इन करें

अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!

साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन