اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में
غزل

قافلۂ جستجو – سید دانش نقوی کی فلسفیانہ غزل | پس منظر، مرکزی خیال اور ادبی خصوصیات

دانش فراق جمعہ، 12 جون 2026
👁 611 ❤️ 1
درد کی شب میں چراغِ آرزو جلتا رہا
دل کسی موہوم نقشے کی طرف جاتا رہا
شوق کے صحرا میں نقشِ آرزو بنتا رہا
اور پھر گردِ سفر میں آپ ہی مٹتا رہا
ہر حقیقت ایک پردہ وہم میں لپٹی رہی
ذہن کے ایوان میں یہ سلسلہ چلتا رہا
میں نے جس لمحے کو پایا، وہ بھی ماضی ہو گیا
وقت کا دریا عجب رفتار سے بہتا رہا
شمعِ معنی کی تپش سے جل گیا شہرِ خیال
اور دھواں سا فکر کے ایوان سے اٹھتا رہا
خاکِ راہِ جستجو تھی، دشت تھا، تنہائی تھی
عمر بھر اک قافلہ بے نام سا چلتا رہا
📖 सार

یہ غزل آرزو، جستجو، وقت اور حقیقت کے موضوعات کے گرد گھومتی ہے۔ شاعر زندگی کو ایک مسلسل سفر قرار دیتا ہے جہاں خواہشیں جنم لیتی ہیں، مٹ جاتی ہیں، سوال پیدا ہوتے ہیں اور وقت سب کچھ اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے۔ اس تمام سفر میں انسان تنہائی اور جستجو کا ہم سفر بنا رہتا ہے اور اسی تلاش میں اس کی پوری عمر گزر جاتی ہے۔

← पिछला अगला →

✍️ سید دانش نقوی — संक्षिप्त परिचय

📍 ڈسکہ

شاعر کا نام سید دانش نقوی ہے اور قلمی نام فراق رکھتے ہیں نوجوان نمائندہ شاعر ہیں پاکستان کے شہر ڈسکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ اُردو ادب فن شاعری پر خاصہ عبور رکھتے ہیں ۔ ان کا ایک معروف شعر دیکھئے ۔
مرحلے یوں بھی سر کریں گے ہم
تجھ سے تجھ تک سفر کریں گے ہم
دانش فراق

غزل क्या है?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

دانش فراق की और रचनाएँ
نقشِ امید دلِ زار سے جاتا ہی نہیں تیرا چرچا مرے افکار سے جاتا ہی نہیں جس کو چاہا تھا وہی دور کھڑا ہے...
اک دھواں سا مرے دل کے مکاں سے اٹھا آپ پہلو سے اٹھے اور جی جہاں سے اٹھا دل گرفتہ فضا رہی ہے آج ‎آپ  ک...
دل کے صحرا میں عجب گردِ سفر باقی رہی عمر گزری بھی تو اک راہ گزر باقی رہی نقش مٹتے ہی گئے لوحِ زمانہ ...
نقشِ تمثالِ فریبِ رنگِ امکاں اور ہے آئینہ ادراک میں آئینِ حیراں اور ہے جلوۂ تعبیرِ خوابِ آرزو کے روب...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 टिप्पणियाँ (0)
टिप्पणी करने के लिए लॉग इन करें

अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!

साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन