اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
ولی دکنی پیر، 8 جون 2026
👁 12 ❤️ 0
مدت ہوئے سجن نے دکھایا نہیں جمال
دکھلا اپس کے قدکوں کیا نئیں مجھے نہال
یک بار دیکھ مجھ طرف اے عیدِ عاشقاں
تجھ ابرواں کی یادسوں لاغر ہوں جیوں ہلال
وہ دل کہ تھا جو سوختۂ آتشِ فراق
پہنچا ہے جا کے رُخ کے برنگِ خال
ممکن نہیں کہ بدر ہوں نقصاں سوں آشنا
لاوے اگر خیال میں تجھ حُسن کا کمال
گر مضطرب ہے عاشقِ بے دل عجب نہیں
وحشی ہوئے ہیں تیری انکھاں دیکھ کر غزال
فیضِ نسیم مہر و وفا سو جہان میں
گلزار تجھ بہار کا ہے اب تلک بحال
کھویا ہے گُل رخاں نے رعونت سوں آب و رنگ
گردن کشی ہے شمع کی گردن اُپر وبال
📖 خلاصہ

ولی دکنی کی اس غزل کا بنیادی موضوع فراقِ محبوب اور دیدار کی تمنا ہے۔ شاعر طویل جدائی کے باعث دل کی بے قراری اور محبوب کے حسن کے لیے اپنی شدید خواہش کا اظہار کرتا ہے۔ محبوب کے ابروؤں کی یاد عاشق کو ہلا…

← پچھلا اگلا →

✍️ ولی دکنی — مختصر تعارف

ولی دکنی
📍 اورنگ آباد، مہاراشٹر، ہندوستان

ولی دکنی: اردو غزل کے اولین معمار
اردو شاعری کی تاریخ میں چند نام ایسے ہیں جنہوں نے محض شعر نہیں کہے بلکہ ایک پورے ادبی عہد کی بنیاد رکھی۔ ولی دکنی انہی عظیم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ انہیں بجا طور پر اردو غزل کا اولین معمار، اردو شاعری کا پیش رو اور ریختہ کا سب سے مؤثر نمائندہ شاعر کہا جاتا ہے۔ اگرچہ ان سے پہلے بھی ہندوی اور ریختہ میں شاعری کی مثالیں ملتی ہیں، لیکن اردو غزل کو ایک باقاعدہ ادبی ش …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

ولی دکنی کی مزید
کیا تجھ عشق نے ظالم خراب آہستہ آہستہ کہ آتش گل کوں کرتی ہے گلاب آہستہ آہستہ وفاداری نے داہر کی ب...
پی کے ہوتے نہ کر توں مہ کی ثنا معتبر نہیں ہے حسن دور نما باعث نشہ دو بالا ہے حسن صورت کے ساتھ ح...
موسیٰ اگر جو دیکھے تجھ نور کا تماشا اس کوں پہاڑ ہووے پھر طور کا تماشا اے رشک باغ جنت! تجھ پر نظر...
مژہ بتاں کی ہیں تجھ غم میں خواب مخمل سرخ لگ ہے ترک کے ٹپکے کوں یا مسلسل سرخ کتاب عشق پہ شنگرف اش...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن