اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
جاں نثار اختر پیر، 8 جون 2026
👁 9 ❤️ 0
اپنا کوئی ملے تو گلے سے لگائیے
کیا کیا کہیں گے لوگ اسے بھول جائیے
قدموں سے چل کے پاس تو آتے ہیں غیر بھی
آپ آ رہے ہیں پاس تو کچھ دل سے آئیے
ہم دھڑکنوں کے پاس ہیں دل کے قریب ہیں
ہے شرط یہ کہ ڈھونڈ کر ہم کو دکھائیے
مانا کہ اعتبار کے قابل نہیں کوئی
یہ جانتے ہوئے کبھی دھوکہ تو کھائیے
📖 خلاصہ

جاں نثار اختر کی یہ غزل انسانی رشتوں میں محبت، قربت اور اعتماد کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ شاعر مشورہ دیتا ہے کہ جب کوئی اپنا ملے تو معاشرتی رسم و رواج یا لوگوں کی باتوں کی پروا کیے بغیر اسے محبت اور خ…

← پچھلا اگلا →

✍️ جاں نثار اختر — مختصر تعارف

جاں نثار اختر
📍 گوالیار ، ہند

جاں نثار اختر: محبت، فکر اور فن کا درخشاں استعارہ
اردو ادب کی بیسویں صدی کئی ایسے نامور شعرا سے مزین ہے جنہوں نے اپنے عہد کے جذبات، خوابوں اور سماجی شعور کو الفاظ کا پیکر عطا کیا۔ ان ہی ممتاز شخصیات میں سید جاں نثار حسین رضوی، جو ادبی دنیا میں جاں نثار اختر کے نام سے معروف ہیں، ایک نہایت اہم مقام رکھتے ہیں۔ وہ ایسے شاعر تھے جن کی شاعری میں محبت کی لطافت، انسان دوستی کا جذبہ اور ترقی پسند فکر کی ح …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

جاں نثار اختر کی مزید
آئے کیا کیا یاد نظر جب پڑتی ان دالانوں پر اس کا کاغذ چپکا دینا گھر کے روشن دانوں پر آج بھی جیسے ...
ہر ایک روح میں اک غم چھپا لگے ہے مجھے یہ زندگی تو کوئی بد دعا لگے ہے مجھے جو آنسووں میں کبھی رات...
آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو جب شاخ کوئی ہاتھ لگاتے ...
ایک تو نیناں کجرارے اوراس پر ڈوبے کاجل میں بجلی کی بڑھ جائے چمک کچھ اور بھی گہرے بادل میں آج ذرا...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن