اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
جاں نثار اختر پیر، 8 جون 2026
👁 97 ❤️ 1
آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو
سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
جب شاخ کوئی ہاتھ لگاتے ہی چمن میں
شرمائے لچک جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
صندل سے مہکتی ہوئی پر کیف ہوا کا
جھونکا کوئی ٹکرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
اوڑھے ہوئے تاروں کی چمکتی ہوئی چادر
ندی کوئی بل کھائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
جب رات گئے کوئی کرن میرے برابر
چپ چاپ سے سو جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
📖 خلاصہ

جاں نثار اختر کی یہ دل آویز غزل محبت، یاد اور تصورِ محبوب کی حسین ترجمانی ہے۔ شاعر اس کیفیت کو بیان کرتا ہے جس میں محبوب کی یاد اس قدر دل و دماغ پر چھا جاتی ہے کہ ہر آہٹ، ہر سایہ، ہر خوشبو اور فطرت کا…

← پچھلا اگلا →

✍️ جاں نثار اختر — مختصر تعارف

جاں نثار اختر
📍 گوالیار ، ہند

جاں نثار اختر: محبت، فکر اور فن کا درخشاں استعارہ
اردو ادب کی بیسویں صدی کئی ایسے نامور شعرا سے مزین ہے جنہوں نے اپنے عہد کے جذبات، خوابوں اور سماجی شعور کو الفاظ کا پیکر عطا کیا۔ ان ہی ممتاز شخصیات میں سید جاں نثار حسین رضوی، جو ادبی دنیا میں جاں نثار اختر کے نام سے معروف ہیں، ایک نہایت اہم مقام رکھتے ہیں۔ وہ ایسے شاعر تھے جن کی شاعری میں محبت کی لطافت، انسان دوستی کا جذبہ اور ترقی پسند فکر کی ح …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

جاں نثار اختر کی مزید
آئے کیا کیا یاد نظر جب پڑتی ان دالانوں پر اس کا کاغذ چپکا دینا گھر کے روشن دانوں پر آج بھی جیسے ...
ہر ایک روح میں اک غم چھپا لگے ہے مجھے یہ زندگی تو کوئی بد دعا لگے ہے مجھے جو آنسووں میں کبھی رات...
آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو جب شاخ کوئی ہاتھ لگاتے ...
ایک تو نیناں کجرارے اوراس پر ڈوبے کاجل میں بجلی کی بڑھ جائے چمک کچھ اور بھی گہرے بادل میں آج ذرا...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن