اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
جاں نثار اختر پیر، 8 جون 2026
👁 105 ❤️ 1
آئے کیا کیا یاد نظر جب پڑتی ان دالانوں پر
اس کا کاغذ چپکا دینا گھر کے روشن دانوں پر
آج بھی جیسے شانے پر تم ہاتھ مرے رکھ دیتی ہو
چلتے چلتے رک جاتا ہوں ساڑھی کی دوکانوں پر
برکھا کی تو بات ہی چھوڑو چنچل ہے پروائی بھی
جانے کس کا سبز دوپٹا پھینک گئی ہے دھانوں پر
شہر کے تپتے فٹ پاتھوں پر گاؤں کے موسم ساتھ چلیں
بوڑھے برگد ہاتھ سا رکھ دیں میرے جلتے شانوں پر
سستے داموں لے تو آتے لیکن دل تھا بھر آیا
جانے کس کا نام کھدا تھا پیتل کے گل دانوں پر
اس کا کیا من بھید بتاؤں اس کا کیا انداز کہوں
بات بھی میری سننا چاہے ہاتھ بھی رکھے کانوں پر
اور بھی سینہ کسنے لگتا اور کمر بل کھا جاتی
جب بھی اس کے پاؤں پھسلنے لگتے تھے ڈھلوانوں پر
شعر تو ان پر لکھے لیکن اوروں سے منسوب کئے
ان کو کیا کیا غصہ آیا نظموں کے عنوانوں پر
یارو اپنے عشق کے قصے یوں بھی کم مشہور نہیں
کل تو شاید ناول لکھے جائیں ان رومانوں پر
📖 خلاصہ

جاں نثار اختر کی یہ غزل ماضی کی یادوں، محبت کے لطیف احساسات اور گزرے ہوئے لمحوں کی باز آفرینی کا حسین نمونہ ہے۔ شاعر مختلف اشیا، مقامات اور مناظر کو دیکھ کر محبوب سے وابستہ یادوں میں کھو جاتا ہے۔ دالا…

← پچھلا اگلا →

✍️ جاں نثار اختر — مختصر تعارف

جاں نثار اختر
📍 گوالیار ، ہند

جاں نثار اختر: محبت، فکر اور فن کا درخشاں استعارہ
اردو ادب کی بیسویں صدی کئی ایسے نامور شعرا سے مزین ہے جنہوں نے اپنے عہد کے جذبات، خوابوں اور سماجی شعور کو الفاظ کا پیکر عطا کیا۔ ان ہی ممتاز شخصیات میں سید جاں نثار حسین رضوی، جو ادبی دنیا میں جاں نثار اختر کے نام سے معروف ہیں، ایک نہایت اہم مقام رکھتے ہیں۔ وہ ایسے شاعر تھے جن کی شاعری میں محبت کی لطافت، انسان دوستی کا جذبہ اور ترقی پسند فکر کی ح …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

جاں نثار اختر کی مزید
آئے کیا کیا یاد نظر جب پڑتی ان دالانوں پر اس کا کاغذ چپکا دینا گھر کے روشن دانوں پر آج بھی جیسے ...
ہر ایک روح میں اک غم چھپا لگے ہے مجھے یہ زندگی تو کوئی بد دعا لگے ہے مجھے جو آنسووں میں کبھی رات...
آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو جب شاخ کوئی ہاتھ لگاتے ...
ایک تو نیناں کجرارے اوراس پر ڈوبے کاجل میں بجلی کی بڑھ جائے چمک کچھ اور بھی گہرے بادل میں آج ذرا...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن