کاہے کو بیاہی بدیس | امیر خسرو کا مشہور لوک و صوفیانہ کلام
"کاہے کو بیاہی بدیس" برصغیر کے مقبول ترین لوک کلاموں میں شمار ہوتا ہے۔ اس نظم میں ایک بیٹی اپنے والد (بابل) سے شکوہ کرتی ہے کہ اسے اپنے گھر، خاندان، سہیلیوں اور بچپن کی یادوں سے دور پردیس کیوں بیاہ دیا گیا۔ شاعر نے بیٹی کی نفسیاتی کیفیت، والدین سے وابستگی اور رخصتی کے درد کو نہایت سادگی اور اثر انگیزی کے ساتھ پیش کیا ہے۔
کلام میں گائے، کلی اور چڑیا جیسی تشبیہوں کے ذریعے بیٹی کی بے بسی اور معاشرتی روایت کو بیان کیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ ایک لوک گیت ہے، مگر اس کے اندر انسانی جذبات کی ایسی گہرائی موجود
✍️ ابوالحسن یمین الدین خسروؔ — مختصر تعارف
امیر خسرو کی سوانح حیات (مکمل اور جامع)
🟢 تعارف
امیر خسرو برصغیر کے عظیم شاعر، صوفی، موسیقار اور ادیب تھے۔ ان کا پورا نام:
ابوالحسن یمین الدین خسرو تھا۔
وہ فارسی اور ہندوی (قدیم اردو) دونوں زبانوں میں مہارت رکھتے تھے اور انہیں “طوطیٔ ہند” کہا جاتا ہے۔
📍 پیدائش اور خاندانی پس منظر
📅 پیدائش: 1253ء
📍 مقام: پٹیالی (موجودہ اتر پردیش، بھارت)
والد: امیر سیف الدین محمود (ترک نژاد)
والدہ: ہن …
نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔




ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!