نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
👁 7
❤️ 0
تلاش گوشہء عزلت ميں پھر رہا ہوں ميں
يہاں پہاڑ کے دامن ميں آ چھپا ہوں ميں
شکستہ گيت ميں چشموں کے دلبري ہے کمال
دعائے طفلک گفتار آزما کي مثال
ہے تخت لعل شفق پر جلوس اختر شام
بہشت ديدہء بينا ہے حسن منظر شام
سکوت شام جدائي ہوا بہانہ مجھے
کسي کي ياد نے سکھلا ديا ترانہ مجھے
يہ کيفيت ہے مري جان ناشکيبا کي
مري مثال ہے طفل صغير تنہا کي
اندھيري رات ميں کرتا ہے وہ سرود آغاز
صدا کو اپني سمجھتا ہے غير کي آواز
يونہي ميں دل کو پيام شکيب ديتا ہوں
شب فراق کو گويا فريب ديتا ہوں
📖 خلاصہ
اس نظم میں جدائی کے درد، یاد اور انتظار کی کیفیات بیان کی گئی ہیں۔
✍️ محمد اقبال — مختصر تعارف
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)
علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …
مزید پڑھیں ←
نظم کیا ہے؟
نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
محمد اقبال کی مزید
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سن...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں
ہمالہ
ایک آرزو
پرندے کی فریاد
ترانۂ ہندی
نیا شوالہ
تصویرِ درد
نانک
و...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!