نظم
سلیمی | علامہ اقبال | بانگِ درا
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
👁 26
❤️ 0
جس کي نمود ديکھي چشم ستارہ بيں نے
خورشيد ميں ، قمر ميں ، تاروں کي انجمن ميں
صوفي نے جس کو دل کے ظلمت کدے ميں پايا
شاعر نے جس کو ديکھا قدرت کے بانکپن ميں
جس کي چمک ہے پيدا ، جس کي مہک ہويدا
شبنم کے موتيوں ميں ، پھولوں کے پيرہن ميں
صحرا کو ہے بسايا جس نے سکوت بن کر
ہنگامہ جس کے دم سے کاشانہ چمن ميں
ہر شے ميں ہے نماياں يوں تو جمال اس کا
آنکھوں ميں ہے سليمي تيري کمال اس کا
📖 सार
اقبال اس نظم میں اعلیٰ اخلاق، نرم مزاجی اور انسان دوستی کی اہمیت بیان کرتے ہیں۔
✍️ محمد اقبال — संक्षिप्त परिचय
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)
علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …
और पढ़ें ←
نظم क्या है?
نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
محمد اقبال की और रचनाएँ
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا سنا دی...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں ہمالہ ایک آرزو پرندے کی فریاد ترانۂ ہندی نیا شوالہ تصویرِ درد نانک وطنیت صدا...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...




अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!