غزل
منتظم عاصیؔ
پیر، 20 اپریل 2026
👁 11
❤️ 0
چیر کر سینہ آستانے پر
کچھ نہ حاصل ہوا دکھانے پر
جب بہانے سے اٹھ گیا پردہ
کیا بہانا بنے بہانے پر
کیا ملا ہے اذیتوں کے سوا
کیوں بھروسہ کروں زمانے پر
کتنے خوش باش آ رہے ہو نظر
ڈال کر تہمتیں دوانے پر
تیرے دیوانے جان کی بازی
مسکراتے ہیں ہار جانے پر
اپنے جذبات کو سنبھال کے رکھ
کام آئیں گے آزمانے پر
تیرے شیدائی کتنے پاگل ہیں
محوِ رقصاں ہیں چوٹ کھانے پر
✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان
اپنی بات
محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و …
غزل کیا ہے؟
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔
منتظم عاصیؔ کی مزید
سجدۂ دوام** معروف شاعر **منتظم عاصیؔ** کا ایک منفرد نعتیہ و منقبتی شعری مجموعہ ہے جس میں عشقِ الٰہی...
خود سے خود کو ہے بنایا، اے سارے جہاں کے والی، اللہ ھو
خود کو تونے ہے چھپایا، اے پردہ کئے خود عالی، ...
کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے دنیا انسانوں سے خالی ہے
اور میں اکیلا تنہائی کی تلاش میں بھٹک رہا ہوں ...
نوری اجماع یہ کتاب حرفِ عظیم میم منتظم عاصیؔ کی نعتیہ و منقبتی شاعری کا مجموعہ ہے جس میں حضور نبی ک...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!